پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمتیں پاکستانی سیاست کا اہم جزو ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فیصلہ ہر 15 دن بعد وزیراعظم صاحب اوگرا کی ہدایات کی روشنی میں خود کرتے ہیں۔ ماضی میں بہت ساری حکومتوں نےپیٹرولیم کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی کوشش تاہم سیاسی اثرات کے پیش نظر وہ ایسا کرنے سے باز رہے۔ بین الاقوامی طور پر پیٹرولیم کی مصنوعات میں تین گنا اضافے سے موجودہ حکومت مشکل میں گرفتار ہو گئی ہے ۔ حال ہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 20 ڈالر فی بیرل  سے 60 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ اگرچہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی میں کمی کی ہے تاہم ساتھ ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بھی کیا ہے۔ اگر بین الاقوامی طور پر پیٹرولیم  کی مصنوعات میں اضافہ ہوتا ہے تو موجودہ حکومت مزید مشکل میں پڑ جائے گی۔

پیٹرولیم کی قیمتوں کا تمام تر کھڑاک قیمتوں کے تعین کے لیے طے کردہ میکانزم کی وجہ سے ہے۔ ایک ایسی مارکیٹ جو روزانہ کی بنیاد پر مرتب ہوتی ہواور اس کی قیمتوں کا حساب ہر پندرہ دن یا مہینے کے بعد کرنے کے طریقہ رائج ہو اور پھر پاکستان سٹیٹ آئل کی جانب سے ہر سٹیک ہولڈر کے لیے مختصر سٹاک ہو وہاں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اس بات کا انتظار کرتی ہیں اور اندازہ لگاتی ہیں کہ اوگرا کا ممکنہ اعلان کیا ہوگا اور وزیراعظم اس پر کیا فیصلہ دیں گے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف وقت کا خرچ  ہے بلکہ  غیر متوقع ہے اور اس طریقہ کار سے بدعنوانی کے طور طریقوں کو پنپنے میں مدد ملتی ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے لیے یہ نفع و نقصان کے بغیر کا کھیل ہے اگر قیمتیں بڑھ جائیں تو ان کے منافع میں اضافہ ہو جاتا ہے اور گر جائیں تو نقصان۔یہی وجہ ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیٹرول کی قلت پیدا ہو جاتی ہے تاوقتیکہ نئی قیمتوں کا اطلاق نہ ہو جائے۔ دوسری جانب جب آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پاکستان سٹیٹ آئل کی نسبت زیادہ پیٹرول درآمد کر لیں  اور پیٹرول کی قیمتیں گر جائیں تب بھی قلت کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں پیٹرول کی فراہمی کو روک دیتی ہیں جس سے ملک میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے اور نتیجتا قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ ہو جاتا پے۔

اس لیے حکومت نے بجا طور پلیٹس آئل گرام یعنی روزمرہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی رپورٹ  کے مطابق ہر پندرہ دن بعد تیل کی قیمتوں کے تعین کا میکانزم بنایا ہےناکہ پی ایس او کی ماہانہ درآمد کی بنیاد پر۔حکومت کسی بھی مخصوص وقت کے لیے تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو پہلے سے ہی نئی قیمتوں کا اشارہ دے دیتی  ہےجس سے ان کمپنیوں کو مستقبل میں تیل کی قیمتوں کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

جہاں تک تیل۔کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی بات ہے تو ماہرین ایک مکمل آزاد مارکیٹ کی افادیت پر متفق نہیں تاہم وہ اس بات پر بھی متفق ہیں کہ موجودہ نظام بھی اس قابل نہیں کہ اسے جاری رکھا جا سکے۔ قیمتوں کی ڈی ریگولیشن سے ذخیرہ اندوزی اور کارٹیلائزیشن کا خطرہ ہے  جس سے تیل پر طاقتور مافیا کا قبضہ ہوجائے گا۔ مگر اس بات کے خوف  سے ڈی ریگولیشن کے عمل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ مقابلے، کارکردگی اور سہولت کی بنیاد پر اس عمل کو متعارف کروایا جا سکتا ہے تاکہ قیمتوں کا فائدہ براہ راست صارفین کو پہنچایا جا سکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کے لیے کونسا نظام بہتر ہو سکتا ہے ۔ موجودہ  نظام یا ڈی ریگولیشن ۔ حکومت قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کر سکتی ہے مگر ان کو قیمت کی ایک مخصوص حد تک محدود کر دے۔

نتیجتا مارکیٹ سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی کوشش تیل کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنا دے گی تاہم اس نظام کی ایک خامی یہ ہےآئل مارکیٹنگ کمپنیاں ڈیزل اور پیٹرول کی کوالٹی پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کریں گی جس کے لیے حکومت کو سخت مانیٹرنگ کرنا پڑے گی۔تاہم بدقسمتی یہ ہے کہ پالیسی ساز قیمتوں کے موجود میکانزم کو ہی برقرار رکھنے کو شش کریں گے اور کبھی بھی ڈی ریگولیشن کی طرف نہیں جائیں گے۔ اس صورت میں مہنگائی سے پسی عوام کو ریلیف کی ایک ہی صورت ہے اور وہ پیٹرلیم لیوی میں مزید کمی ہے ۔ گزشتہ سال حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 95۔137 ارب روپے کا منافع کمایا جب کہ مالی سال 2021 کے پہلے نصف عرصے میں  ہی حکومت 3۔275 ارب روپے کا منافع اکٹھا کر چکی ہے اس لیے عوام کی بدترین صورتحال کے پیش نظر یہ مناسب نہیں کہ حالیہ مالی سال کے لیے حکومت 450 ارب روپے اضافے کی دوڑ میں لگی رہے۔

پیر، 22 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے