فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا تین روزہ ورچوئل اجلاس آج سے شروع ہوگیا ہے جس میں  منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کیخلاف پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس سے قبل ایف اے ٹی ایف نے تمام ممالک کی مجموعی کارکردگی کو اپڈیٹ کیا ہے۔ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے، گرے لسٹ میں برقرار رکھنے یا گرے لسٹ سے نکالنے سمیت تمام آپشنز پر بات چیت ہوگی۔پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے اقدامات میں مزید بہتری دکھائی ہے۔پاکستان کے متعلق فیصلہ 27 نکاتی ایکشن پلان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام کا اندازہ ہے کہ پاکستان میرٹ پر گرے لسٹ سے نکلنے کی اہلیت رکھتا ہے تاہم دیکھنا ہے کہ اس پلانری میں پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔

اہم عہدیداروں اور غیر ملکی سفرا کی بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ جیوری منقسم ہے، حکام ایک مثبت نتیجے کے لیے کافی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم کچھ سفرا کی تجویز یہ تھی کہ بہترین صورتحال میں بھی پاکستان جون تک اضافی نگرانی کی فہرست میں رہے گا۔ سفارتکاروں نے کہا کہ اس مرتبہ انہیں اسلام آباد کی جانب سے ویسی جارحانہ سفارتی کوششیں نظر نہیں آئیں جیسی کے ماضی بالخصوص اکتوبر 2020 کے پلانری سے قبل کی گئی تھیں۔  انہوں نے کہا کہ پلانری پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے، گرے لسٹ میں برقرار رکھنے یا گرے لسٹ سے نکالنے سمیت تمام آپشنز پر بات چیت کرسکتا ہے۔ تاہم امکان ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ایف اے ٹی ایف کے 3 اراکین، چین، ترکی اور ملائیشیا ملک کی درجہ بندی کم کرنے کے لیے تمام تر دباؤ برداشت کرسکتے ہیں۔ تاہم پاکستان کا ازلی مخالف ملک بھارت پاکستان کو گرے بھی نہیں بلکہ بلیک لسٹ میں دیکھنا چاہتاہے۔

یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ گزشتہ دو سال سے بھارت کے حوالے سے فٹیف کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا حالانکہ  فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک کی رپورٹ میں بھارت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی ممکنہ مالی معاونت کا انکشاف ہوا ہے۔ 44 بھارتی بنک منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے، جن میں پنجاب نیشنل  بنک، کوٹک مہاندرا، ایچ ڈی ایف سی، کنارہ بنک، انڈس لینڈ بنک، بنک آف بروڈا شامل ہیں۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی بنکوں نے 3201 غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے ذریعے ایک ارب 53 کروڑ ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں کیرالہ اور آسام میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی جاچکی ہے،  فنانشل کرائمز انفورسمنٹ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ منی لانڈرنگ میں بھارتی نوادرات کے سمگلر بھی ملوث ہیں اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں بھی منی لانڈرنگ کا پیسہ استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2017 تک بھارتی بنکوں نے 5 اعشاریہ 3 ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی جس کے لیے بھارتی بنکوں کی ڈومیسٹک برانچز نے فنڈز وصول کیے یا آگے بھجوائے اور ان بنکوں کی بیرون ملک برانچز کو استعمال کیا گیا۔ منی لانڈرنگ کا یہ پیسہ دہشت گردی اور مالی فراڈ میں استعمال کیا گیا۔ فنانشل کرائمز انفورسمنٹ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ  سونے اور ہیرے کے ذریعے بھی منی لانڈرنگ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشتبہ سرگرمیوں کی رپورٹ امریکی بنکوں نے فنانشل کرائمز انفورسمنٹ میں جمع کرائی۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی ایک وجہ منی لانڈرنگ بھی بتائی جاتی ہے۔ بھارت بطور ریاست منی لانڈرنگ میں ملوث پایا گیا ہے اور اس کی تردید بھی ناممکن ہے۔ اس کا یہ بھیانک جرم اسے براہ راست بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا مستوجب ہے۔ گرے لسٹ میں صرف مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ بھارت کی منی لانڈرنگ کی مانیٹرنگ کی ضرورت تو کسی شک کی بنیاد پر کی جانی تھی جب فنانشل کرائمز انفورسمنٹ کی رپورٹ میں واضح کر دیا گیا ہے تو بھارت کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جانا چاہئے۔

مگر ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ فٹیف درحقیقت بین الاقوامی سیاست کا اکھاڑا ہے جس پر تمام تر اثرورسوخ انکل سام کا ہے اور بھارت اس وقت جنوبی ایشیا میں انکل سام کا سب سے قریبی حلیف ہے اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ فٹیف میں بھارت کے خلاف کوئی قدم اٹھایا جائے۔ مزید برآں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا ہیڈ کوارٹر پیرس میں ہے۔ فرانس کے ساتھ ہمارے سیاسی اور معاشی تعلقات 2011 سے خراب ہیں اور ہر گزرتے سال کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان مزید سرد مہری آتی جا رہی ہے۔ پاکستانی سفارتی حلقے ان تعلقات کی خرابی کا ذمہ دار فرانس اور بھارت کے بڑھتے سیاسی معاشی اور دفاعی معاہدوں کو قرار دیتے ہیں۔ اس وقت پاکستان فرانس تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پچھلے آٹھ مہینوں سے فرانس میں پاکستان کا سفیر تعینات نہیں کیا گیا ہے۔ قائم مقام سفیر سے کام چلایا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے فرانس جیسے اہم ملک میں اپنے موقف کو بہتر طور پر پیش نہیں کیا جا سکا۔ جبکہ پاکستان کے بعض وزراء کی جانب سے بیانات بھی کشیدگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بنے ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس سے پہلے دو ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے پاکستان کی پوزیشن کمزور ہوئی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث مرکزی مجرم عمر شیخ کی سزائے موت کے خاتمے اور فوری رہائی کے حکم پر امریکا اور یورپین ممالک نے تشویش کا اظہار کیا۔ ایسی صورتحال میں ان اقدامات کو بنیاد بنا کر پاکستان کو دوبارہ فٹیف کی گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔ اس کی ایک وجہ اور بھی ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابھی اپنی خارجہ پالیسی کی نوک پلک سنوارنی ہے اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کے کردار اور طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے پیش نظر، فٹیف کی تلوار پاکستان سے بہت سارے مطالبات منوانے کے لیے ایک اہم ٹول کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے پاکستان کو فی الحال گرے لسٹ میں ہی رہنا پڑے گا۔

اتوار، 22 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے