راولپنڈی: طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کی جانب سے پریٹ اینڈ وِٹنی انجنز والے 777 طیارے کا استعمال ترک کرنے کی تجویز کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے کہا ہے کہ اس کے بیڑے میں شامل 12 ‘بوئنگ 777’ طیاروں میں جنرل الیکٹریکل انجنز ہیں جو محفوظ ترین تصور کیے جاتے ہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے کہا کہ جنرل الیکٹریکل انجنز کو محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے اور اس وقت دنیا بھر میں ایسے ایک ہزار انجنز زیر استعمال ہیں۔

 پی آئی اے کے بیڑے میں 29 طیارے شامل ہیں جن میں 12 بوئنگ 777 طیارے، 11 ایئربس اے320 اور 6 اے ٹی آر طیارے ہیں۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ہفتے کے روز دوران پرواز ایک بوئنگ 777 طیارے کے دائیں انجن میں آگ لگ گئی تھی تاہم طیارہ بحفاظت ڈینویر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے میں کامیاب رہا تھا۔

جس کے بعد ایک بیان میں بوئنگ کمپنی نے کہا تھا ‘ہم یونائیٹد ایئرلائنز کی پرواز یو اے328 سے متعلق حالیہ واقعے کی بھرپور نگرانی کررہے ہیں’۔

ساتھ ہی کمپنی کا کہنا تھا کہ ‘جب تک نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) کی تحقیقات جاری ہیں ہم پریٹ اینڈ وِٹنی 4000-115 انجنز والے 69 اِن سروس اور 59 اِن اسٹوریج طیاروں کا آپریشن معطل کرنے کی تجویز دیتے ہیں تا وقت یہ کہ ایف اے اے مناسب معائنہ پروٹوک کی نشاندہی کردے’۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘ہم جاپان سول ایوی ایشن بیورو کے فیصلے اور ایف ایف اے کی جانب سے پریٹ اینڈ وِٹنی 4000-112 انجنز والے 777 طیاروں کا آپریشن معطل کرنے کی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ ہم ان ریگولیٹرز کے ساتھ کام کررہے ہیں جیسا کہ انہوں نے اس وقت ایکشن لیا جب یہ طیارے زمین پر ہیں اور پریٹ اینڈ وِٹنی کی جانب سے مزید معائنہ کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب ایک ٹوئٹ میں یونائیٹڈ ایئرلائنز نے کہا تھا کہ ‘پرواز یو اے328 کو اڑان بھرتے ہی ایک انجن کی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وہ بحفاظت ڈینور واپس آگئی اور احتیاطی طور پر ہنگامی عملے نے اس کا معائنہ کیا۔

قبل ازیں یونائٹیڈ ایئرلائنز نے بوئنگ کی تجویز سے چند گھنٹوں قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے 24 فعال طیاروں کو رضاکارانہ اور عارضی طور پر ہٹا دے گی۔

نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) کے مطابق طیارے کی ابتدائی جانچ سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ زیادہ تر نقصان صرف سیدھے ہاتھ کے انجن تک ہی محدود ہے اور ہوائی جہاز کو معمولی نقصان پہنچا۔

ادارے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ طیارے میں ان لیٹ اور کیسنگ انجن سے الگ ہوگئے تھے اور دو فین بلیڈ فریکچر جبکہ دیگر فین بلیڈز میں نقصان ہوا تھا۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے