لاہور: وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ق) کے امیدواروں نے ایک اجلاس میں سینیٹ کے لیے انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جس میں امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایم پی اے کے گروپس کی نشاندہی کریں جو انہیں ووٹ دیں گے۔

واضح رہے کہ ہر امیدوار کو پنجاب سے سینیٹر کی حیثیت سے اپنے انتخاب کے لیے 46 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی وزرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے امیدواروں کے ساتھ ہم آہنگی کریں تاکہ وہ ایم پی اے کے 4 سیٹوں کو حتمی شکل دیں جو امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔

تاہم مبینہ طور پر پنجاب حکومت پارٹی میں برہم عناصر کے تحفظات حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

ناراض عناصر کا دعویٰ ہے کہ ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے کیونکہ زیادہ ایم پی ایز عثمان بزدار کی زیرقیادت حکومت کی بدعنوانی پر قابو پانے اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے میں ناکامی کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔

ناراض گروپ نے پی ٹی آئی حکومت کو مشکل وقت دینے کے لیے بدھ (کل) کے لیے ایک اور ملاقات کا منصوبہ بنایا ہے۔

پی ٹی آئی کے سینیٹ کے امیدوار سیف اللہ نیازی، اعجاز چوہدری، اون عباس اور مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کامل علی آغا کے علاوہ خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشستوں کے لیے پی ٹی آئی کے سینیٹ کے امیدوار ڈاکٹر زرقا تیمور اور بیرسٹر سید علی ظفر نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔

سینئر وزیر عبدالعلیم خان، وزیر قانون بشارت راجہ اور رکن پنجاب اسمبلی سید عباس علی شاہ نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امیدواروں نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے کے سیٹ کو اس انداز سے تقسیم کیا جائے گا کہ جنوبی پنجاب کے ایم پی اے علاقے سے امیدوار اون عباس کو ووٹ دیں گے جبکہ شمالی پنجاب کے ایم پی اے سیف اللہ نیازی کو ووٹ دیں گے اور دیگر ایم پی اے اعجاز چوہدری کو ووٹ دیں گے جو وسطی پنجاب سے ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (ق) کے تمام ایم پی اے کامل علی آغا کو ووٹ دیں گے اور باقی 46 ووٹ پی ٹی آئی کے ایم پی اے پیش کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ناخوش عناصر کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا اور وزیراعلیٰ نے کہا کہ ناراض ارکان کے تحفظات کا خیال رکھا گیا ہے اور وہ پارٹی امیدواروں کی حمایت بھی کریں گے۔

مظفر گڑھ سے ناراض رہنما خرم لغاری نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی تھی جنہوں نے ایم پی اے کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے حلقہ کے مسائل حل ہوجائیں گے اور وہ خود بھی اس حلقے کا دورہ کریں گے۔

خرم لغاری نے بعد ازاں وزیر اعلی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ کے کیمپ کے ایک ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ناخوش عناصر پارٹی کو ووٹ دیں گے اور کہا کہ ‘چند ناخوش عناصر نے اس نازک موڑ پر پی ٹی آئی کی حکومت پر دباؤ ڈالا اور ان کے مطالبات کو قبول کرلیا گیا ہے’۔

جب ناراض عناصر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اعتراف نہیں کیا کہ ان کے تحفظات حل ہوگئے ہیں۔

ناراض ایم پی اے کے گروپ ممبر نے کہا کہ باغی ایم پی اے کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ان کی تعداد 70 سے زائد ہوگئی ہے۔

ایک ناراض ایم پی اے نے بتایا کہ ‘ہم حکمت عملی بنانے کے لیے (کل) بدھ کو ایک اجلاس منعقد کر رہے ہیں’۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے