کراچی: ملک میں مسلسل دوسرے ماہ جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ ہے اور یہ حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے کیونکہ وہ اسے صفر پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔

ماہانہ بنیادوں پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دسمبر 2020 کے 65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 64.84 فیصد سکڑ گیا۔

تاہم مالی سال 21-2020 کے پہلے 7 ماہ کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ 92 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے ساتھ مثبت ہے تاہم ہر ماہ سرپلس کے ساز میں کمی ہورہی ہے۔

واضح رہے کہ مالی سال 20 کے 7 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ڈھائی ارب ڈالر تھا جبکہ پورے مالی سال 2020 میں یہ 2 ارب 97 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

حکومت 2018 میں 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرتے ہوئے رواں سال سرپلس میں لانے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن رجحان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ مالی سال 2021 کے آخر تک کرنٹ اکاؤنٹ منفی ہوسکتا ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ درآمدات میں اضافہ ہوا لیکن برآمدات اس تجارتی فرق کو ختم کرنے کے اس حد تک بہتر نہیں ہوسکیں، اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے 7 ماہ میں برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کی 14 ارب 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں معمولی سی کم ہوکر 13 ارب 89 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک دیکھی گئیں۔

تاہم درآمدات میں مزید اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 21 کے 7 ماہ میں 27 ارب 63 کروڑ 90 ارب ڈالر کو پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 26 ارب 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں، زیر جائزہ عرصے میں مال کی تجارت پر بیلنس 13 ارب 74 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا خسارہ میں رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 11 ارب 59 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا خسارہ تھا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مال اور خدمات کی تجارت پر بیلنس گزشتہ سال کے 13 ارب 49 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 14 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے خسارے پر ریکارڈ کیا گیا۔

ادھر حکومت کی جانب سے برآمدات کو بڑھانے کے لیے مختلف مراعات فراہم کی جارہی ہیں لیکن اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ترقی سست ہے اور ابھی تک گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کم ہے، مزید یہ کہ ٹیکسٹائل ملک کے لیے برآمدات کا 55 سے 60 فیصد حاصل کرکے دیتی ہے لیکن کپاس کی پیداوار کی بدترین کارکردی نے صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ٹیکسٹائل ملرز کہتی ہیں کہ رواں مالی سال کے آخر تک کپاس کی درآمدات کی لاگت 3 ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ تجارتی فرق مزید بڑھے گا اور بالآخر کرنٹ اکاؤنٹ منفی میں جاسکتا ہے، اب تک ٹیکسٹائل ملرز ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی کپاس درآمد کرچکے ہیں۔

مالیاتی ماہرین کا کہنا تھا کہ جنوری کا خسارہ دسمبر کے خسارے (65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) سے کم تھا، اگر خسارہ ہر ماہ 20 سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان رہتا ہے تو مالی سال 2021 کے اختتام تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر یا نہ ہونے کے برابر ہوسکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آجاتا ہے تو غیرملکی سرمایہ کاری اور برآمدات دونوں بڑھیں گی اور اس سے رواں مالی سال کے لیے ملک کو کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رکھنے میں مدد ملنے کا امکان ہے۔

براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 27 فیصد تک کمی

براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی دیکھی گئی—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے 27 تک فیصد کم ہوگئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 21 میں جولائی سے جنوری کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے ایک ارب 57 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مقابلے ایک کروڑ 14 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہوگئی۔

اس کے علاوہ جنوری میں بہاؤ گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ کے 21 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے مقابلے 19 کروڑ 27 لاکھ ڈالر دیکھا گیا جو 12 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

تاہم 7 ماہ میں کمی بنیادی طور پر چین سے خالص ایف ڈی آئی میں کمی اور ناروے کے لیے خاص اخراج میں اضافہ کی وجہ سے تھی۔

ممالک کے حساب سے اگر تفصیلات دیکھیں تو چین سے ایف ڈی آئی کا خالص آمد گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 50 کروڑ 26 لاکھ ڈالر کے مقابلے 40 کروڑ 28 لاکھ ڈالر تھی۔

تاہم اب تک دیگر ممالک سے آنے والی آمدنی کی فہرست میں چین سے آئی خالص غیرملکی سرمایہ کاری سب سے زیادہ تھی، 7 ماہ کے دوران چین سے 70 کروڑ 72 لاکھ ڈالر کی آمد ہوئی لیکن اسی عرصے میں 30 کروڑ 44 لاکھ ڈالر کا اخراج ہوا جس سے خالص ایف ڈی آئی 40 کروڑ 28 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔

مزید یہ کہ دیگر ممالک جہاں سے ایف ڈی آئیز 10 کروڑ سے زائد موصول ہوئیں اس میں نیدرلینڈ اور ہانگ کانگ بھی شامل تھا، چونکہ ان دونوں ممالک نے مالی سال 21 کے 7 ماہ میں بالترتیب 12 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی.

رواں مالی سال کے 7 ماہ کے دوران برطانیہ سے (8 کروڑ 38 لاکھ ڈالر)، امریکا سے (7 کروڑ 35 لاکھ ڈالر) اور مالٹا سے (60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر) کی ایف ڈی آئی کی آمد بھی نمایاں رہی۔

تاہم ناروے سے آمدی میں ایک بڑی تبدیلی نے رواں سال ایف ڈی آئی کی مجموعی آمد کو متاثر کیا، ایس بی پی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ مالی سال کے 7 مال کے دوران ناروے سے آمدنی 28 کروڑ 85 لاکھ ڈالر تھی جبکہ رواں مالی سال کے 7 ماہ میں اسکینڈینیوین ملک سے کسی قسم کی آمدنی کے بجائے 2 کرورڑ 58 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج ہوا۔

شعبہ جات میں سرمایہ کاری

اگر شعبہ جات کے حساب سے دیکھیں تو توانائی کے شعبے میں سب زئادہ توانائی کے شعبے پر اس کا اثر دیکھنے میں آیا اور گزشتہ مالی سال کے 37 لاکھ 30 کروڑ ڈالر کے مقابلے 47 کروڑ 58 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری دیکھی گئی جو 27.6 فیصد کا اضافہ تھا۔

توانائی کے شعبے میں ہی اگر دیکھیں تو سب سے زیادہ کوئلے سے توانائی میں سرمایہ کاری دیکھی گئی اور گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 23 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے مقابلے آمدنی 27 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہی، اس کے علاوہ ہائڈل پاور 11 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اور تھرمل 9 کروڑ 39 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرسکے۔

مالیاتی کاروبار (بینکوں) نے بھی گزشتہ مالی سال کے مقابلے کچھ حد تک زیادہ ایف ڈی آئی کو اپنی طرف راغب کیا اور اس نے گزشتہ مالی سال کے 17 کروڑ 89 لاکھ ڈالر کے مقابلے 18 کروڑ 13 لاکھ ڈالر وصول کیے۔

تاہم تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں آمدنی گزشتہ مالی سال کے 18 کروڑ 65 لاکھ ڈالر کے مقابلے کم ہوکر 13 کروڑ 67 لاکھ ڈالر رہی، یہ شعبہ سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش رہا ہے لیکن اس میں سست ترقی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو کم کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔

ادھر جہاں ملک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات سے اضافی سپورٹ حاصل کر رہا ہے تاہم غیرملکی سرمایہ کاری اور برآمدات کو کسی خاص سطح تک بہتر بنانا اب بھی کافی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

رواں مالی سال کے 7 ماہ کے دوران ترسیلات زر 24 فیصد بڑھیں اور ملک نے 16 ارب 50 کروڑ ڈالر کی ترسیلات وصول کیں۔

دوسری جانب مالی شعبے کے ماہرین کہتے ہیں کہ تمام کوششوں اور مراعات کے باوجود برآمدات آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہیں جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں ملک کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے۔

پیرس سے تعلق رکھنے والی ٹاسک فورس ایف اے ٹی ایف کی جانب سے رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے سے متعلق فیصلہ متوقع ہے۔

علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری 21 کے دوران پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں گزشتہ سال کے 2 کروڑ 15 لاکھ ڈالر کی خالص آمدنی کے مقابلے 23 کروڑ 69 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج دیکھا گیا۔

اس کے علاوہ مجموعی غیرملکی نجی سرمایہ کاری (پورٹ فولیو سرمایہ کاری کو ہٹا کر) 43.2 فیصد تک کم ہوئی اور یہ 90 کروڑ 84 لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ایک ارب 59 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھی۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے