الیکشن کمیشن میں ضمنی انتخاب این اے 75 کے انتخابی نتائج کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران ریٹرننگ افسر نے رپورٹ جمع کرادی۔

ریٹرننگ افسر نے رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ 337 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج رات ساڑھے تین بجے آر ایم ایس میں شامل ہو چکے تھے اور 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں تاخیر ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ 19 پریزائڈنگ افسران سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ پریزائیڈنگ افسران کے ساتھ پولیس اہلکار بھی تھے کیا آپ نے وائر لیس پر رابطہ کیا جس پر ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ میں نے ڈی ایس پی ڈسکہ کو ہدایت کی تھی لیکن وائرلیس پر بھی رابطہ نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ 20 میں سے 10 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج صبح ساڑھے چار سے ساڑھے چھ بجے موصول ہوئے اور 20 میں سے 4 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ریٹرننگ افسر نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنز کے پریزائڈنگ افسران کے نتائج اور پولنگ ایجنٹ کے نتائج ایک جیسے ہیں۔

الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ (ن) کی اُمیدوار کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حلقے میں پولنگ کے دوران دہشت کا ماحول رہا، دن دیہاڑے پورے حلقے میں فائرنگ ہوتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ 20 پریزائیڈنگ افسر اچانک غائب ہو گئے اور معجزانہ طور پر صبح ساڑھے پانچ بجے واپس آ گئے۔

انہوں نے کہا کہ صرف بیس پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ الیکشن نہیں ہونے چاہیے، پورے حلقے کے الیکشن پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں جو فارم 45 دیے گئے ان میں سے اکثر پر انگوٹھے کے نشان نہیں ہیں’۔

ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ کسی پریزائڈنگ افسر نے کہا کہ گاڑی خراب ہو گئی تھی کسی نے کہا دھند کی وجہ سے نہیں آ سکے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نے کہا کہ ‘جب آپ نے الیکشن کی رات ہم سے رابطہ کیا تھا آپ بہت گھبرائے ہوئے تھے، آپ نے کہا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ تعاون نہیں کر رہی’۔

ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ انتظامیہ نے تعاون کیا تھا لیکن باہر ہجوم بہت زیادہ تھا، دونوں جماعتوں کے کارکنان کی بڑی تعداد آر او دفتر کے باہر موجود تھی۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ‘ان کے اس دن اور آج کے بیان میں فرق ہے، الیکشن کے دن حلقے میں جنگ کا سما تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘عثمان ڈار نے بھی بیان دیا کہ یہ الیکشن نہیں جنگ ہے، صرف بیس پولنگ اسٹیشنز کا مسئلہ نہیں ہے پورے حلقے میں دہشت کا ماحول بنایا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوچا سمجھا آپریشن تھا، غائب ہونے والے پریزائڈنگ افسران کو کہیں زبردستی رکھا گیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار کے وکیل سلمان اکرم نے الیکشن کمیشن سے پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کر دیا۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن میں پرانا ڈسکہ پولنگ اسٹیشن کے باہر فائرنگ کی ویڈیو الیکشن کمیشن میں پیش کی گئی۔

لیگی اُمیدوار کے وکیل نے کمیشن کو بتایا کہ تحریک انصاف کے اُمیدوار علی اسجد ملہی کی موجودگی میں پی ٹی آئی والے فائرنگ کرتے رہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایک ویڈیو میں دیکھا ہے کہ موٹر سائیکل سوار فائرنگ کررہے تھے، کیا کسی کو گرفتار کیا گیا؟

مسلم لیگ (ن) کی اُمیدوار نوشین افتخار نے الیکشن کمیشن کے سامنے دعویٰ کیا کہ ‘ڈی ایس پی ڈسکہ نے پولنگ کے دن مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی’۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ‘الیکشن کمیشن نتیجے تک پہنچے گا، اگر الیکشن ٹھیک ہوا تو نتیجہ جاری ہوگا اور اگر ٹھیک نہیں ہوا تو ری پول کراسکتے ہیں’۔

بعد ازاں تحریک انصاف کے وکیل نے الیکشن کمیشن سے دستاویزات جمع کرانے کے لیے وقت طلب کرلیا جس پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ شواہد کب تک دے سکتے ہیں؟

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ ‘ایک ہفتے کا وقت دیں، تصدیق شدہ نتائج اور شواہد جمع کرانا چاہتے ہیں’۔

الیکشن کمیشن نے کل تک پی ٹی آئی سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے این اے 75 ضمنی انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

’20 پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ الیکشن کو تیار ہیں’

تحریک انصاف کے اُمیدوار علی اسجد ملہی نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم 20 پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ انتخابات کے لیے تیار ہیں تاہم مسلم لیگ (ن) نے پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جلد انتخاب کا فیصلہ سامنے آجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس ریکارڈز موجود ہیں، مریم نواز جن لوگوں کی رہائی کی بات کر رہی ہیں ان پر 8 سے 10 مقدمات ہیں اور وہ پیشہ ور ملزم ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے 20 حلقوں میں ووٹنگ کی درخواست واپس لینے کی ہدایت دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم انتخابات کو شفاف بنانا چاہتے ہیں اسی اصول کے مدنظر مسلم لیگ (ن) کو 20 پولنگ اسٹیشنز پر اعتراض ہے ہم اس پر بھی راضی ہیں تاہم اب انہوں نے اپنا بیان بدل کر کہا ہے کہ پورے حلقے میں انتخاب کرانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں انتخابات میں اصلاحات لانی ہوں گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں تاہم اس میں ترامیم لاتے ہیں تو اپوزیشن بھاگ جاتی ہے۔

ضمنی اننتخاب

واضح رہے کہ 19 فروری کو این اے 75 ڈسکہ کی نشست پر ضمنی انتخاب ہوئے تھے۔

مذکورہ نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی صاحبزدہ سید افتخار الحسن شاہ کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔

اس حلقے میں 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) کی نوشین افتخار اور پی ٹی آئی کے علی اسجد ملہی کے درمیان تھا۔

تاہم اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی اور فائرنگ کے نتیجے میں گزشتہ روز 2 افراد جاں بحق بھی ہوگئے تھے، مزید یہ کہ انتخابی نتائج پر بھی جیتنے کے دعوے سامنے آئے تھے۔

بعد ازاں ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیرضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیرحتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ این اے 75 کے نتائج غیرضروری تاخیر سے موصول ہوئے اور اس دوران متعدد مرتبہ پریزائڈنگ افسران سے رابطے کی کوشش بھی کی گئی مگر رابطہ نہ ہوسکا۔

اعلامیہ کے مطابق ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسر حلقہ این اے 75 نے آگاہ کیا تھا کہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں رد و بدل کا شبہ ہے، لہٰذا مکمل انکوائری کے بغیر حلقے کا غیرحتمی نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسر کو این اے 75 کے غیرحتمی نتیجے کے اعلان سے روک دیا ہے اور مکمل انکوائری اور ذمہ داران کے تعین کی ہدایات کی گئی تھی۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے