ملک میں سینیٹ (ایوانِ بالا) کے انتخابات 3 مارچ کو منقعد ہوں گے اور یہ تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے اس کی تیاریاں بھی اسی انداز میں تیز تر ہوتی جارہی ہیں، لیکن اس وقت ملک کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے اتحادیوں کو سب سے زیادہ مشکل یا پریشانی ایوانِ بالا کے انتخابات کے انعقاد کی ہے۔

ایک جانب جہاں وزیرِاعظم عمران خان سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈز یا اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے پر زور دے رہے ہیں تو وہیں اپوزیشن اس خیال کو ان کی پارٹی کے اندر جاری کسی خلفشار کو دبانے کی کوشش قرار دیتی ہے۔

حکمران جماعت نے پہلے مذکورہ انتخابات شو آف ہینڈز یا اوپن بیلیٹ کے ذریعے کروانے کے اعلان کیا، پھر اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رائے لینے کے لیے صدارتی ریفرنس دائر کیا اور بعد ازاں سینیٹ انتخابات کے طریقہ کار کو عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے سے مشروط کرتے ہوئے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا، جس پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں نے متعدد سوالات اٹھائے ہیں جبکہ عوام میں بھی اس سے متعلق بے چینی پائی جاتی ہے۔ ہر طرف اضطراب کی سی کیفیت ہے کہ آیا سینیٹ انتخابات کیونکر قومی یا صوبائی اسمبلیوں یا بلدیاتی انتخابات سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

73 کے آئین کے تحت سینیٹ کا قیام عمل میں آیا

سینیٹ، سینیٹرز کے چناؤ اور ان سے جڑے دیگر کچھ سوالات کے جواب سینئر صحافی و سیاستدان مسلم پرویز کی جانب سے کچھ اس انداز میں دیے گئے ہیں کہ ‘1970 تک جو انتخابات غیر منقسم پاکستان میں ہوئے وہاں سینیٹ کا کوئی تصور نہیں تھا اور صوبوں کے درمیان جو عددی فرق تھا اس کی وجہ سے صوبوں کو مسلسل اپنی نمائندگی کے حوالے سے وفاق سے شکایت تھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس سے پہلے بھی یہ مسائل چل رہے تھے کہ ون یونٹ، صوبہ بڑا یا چھوٹا ہے اور دیگر مسائل موجود تھے اور انہی مسائل کے سبب یہاں کا یونٹ ہمارے دوسرے حصے کو ایڈجسٹ نہیں کرسکا اور وہ الگ ہوگیا’۔

دورانِ گفتگو انہوں نے بتایا کہ ‘اس کے بعد وہی انتخابات دستور ساز اسمبلی میں تبدیل ہوگئے اور اس کے بعد اسمبلی نے 1973 میں آئین بنا دیا جو 14 اگست 1973 سے نافذ ہوگیا۔ اس آئین میں ایک ایوانِ بالا بنا دیا گیا تاکہ صوبوں کا عدم تحفظ دُور ہوسکے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘صوبوں میں عدم تحفظ کا یہ احساس تھا کہ ایک صوبہ بلوچستان جو بہت بڑا ہے لیکن اس کی نشستیں کم ہیں، اس کے بعد خیبرپختونخوا (اس وقت کا فرنٹیئر) کی نشستیں اس سے تھوڑی زیادہ ہیں، پھر سندھ ہے جس کی اس سے تھوڑی زیادہ نشستیں ہیں جبکہ اس کے بعد پنجاب کی سب سے زیادہ نشستیں ہیں جو ان تینوں صوبوں کی مجموعی نشستوں سے بھی زیادہ ہیں’۔

مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ ‘عدم تحفظ کا احساس اس وقت کے قومی اسمبلی کے اراکین نے بھی محسوس کیا اور اسی احساس کو ختم کرنے کے لیے برابری کی بنیاد پر نمائندگی دینے کی کوشش کی گئی’۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ‘برابری کی بنیاد پر موجود ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اپنے صوبے کا مقدمہ بہتر طریقے سے لڑ کر اپنی بات کو منوا سکتے ہیں، بات کو منوانے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی غلط چیز منوا لیں گے بلکہ دلیل یا بہتر تجویز کے نتیجے میں وہ اس بات کی پیش کرسکتے ہیں کہ یہ ہمارا بھی حق ہے اور ہم بھی پاکستان میں رہتے ہیں’۔

صحافی و سیاست دان مسلم پرویز

انہوں نے کہا کہ ‘اس وقت اسمبلی میں بہت بڑے نام موجود تھے، ان کی فکر بھی بہت زیادہ وسیع تھی، اور انہوں نے پاکستان کو بنتے اور ٹوٹتے ہوئے بھی دیکھا تھا تو انہوں نے پھر سوچا کہ پاکستان میں بھی ایوانِ بالا کا نظام لایا جائے اور انہوں نے دنیا کے سینیٹ کے نظام کو پڑھا اور ایوان میں اس پر تبادلہ خیال بھی کیا جس کے بعد ایوانِ بالا کی ترتیب واضح کردی گئی’۔

مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ ‘اس ترتیب کو ایسے رکھا گیا کہ ہر صوبے کی 14، 14 نشستیں ہوں گی اور 2 وفاق کے زیرِ انتظام علاقے اور 2 فاٹا کی ہوں گی، اس وقت فاٹا موجود تھا جو اب ختم ہوگیا ہے، یوں اس طرح 60 نشستوں پر مشتمل ایک ادارے سینیٹ یا ایوانِ بالا کا قیام عمل میں آیا تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس میں آہستہ آہستہ ترقی ہوتی گئی اور ہر صوبے کے پاس 23 نشتیں آگئیں۔ سابقہ فاٹا کی 8 نشستیں ہوگئیں جبکہ وفاق کے زیرِ انتظام علاقے میں 4 نشستیں تھیں جس میں خواتین، ٹیکنوکریٹ، علما کی نشستیں شامل تھیں، اس طرح یہ 104 نشستوں کا ایوان وجود میں آیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس کے بعد مزید ترمیم آئی کہ اقلیتی نمائندگی بھی ہونی چاہیے لہٰذا ہر صوبے سے ایک اقلیتی رکن لیا جانے لگا تاہم اب فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کردیا ہے تو اس مرتبہ 4 نشستیں ختم ہوں گی اور آنے والے وقت میں مزید 4 نشستیں ختم ہوجائیں گی’۔

سینیٹ کی اہمیت

سیاستدان اور صحافی مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ ‘سینیٹ اس لیے اتنا اہم ہے کیونکہ یہ ایوانِ بالا کہلاتا ہے یعنی زیادہ تکریم اور عزت والا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہاں کے لیے یہ ضروری ہے کہ بہت سنجیدہ، قابل اور ایسے لوگ آئیں جن کی صلاحیت زیادہ ہو، جن میں کام کو لینے اور اسے ڈیلیور کرنے کی صلاحیت ہو، جو تاریخ، ملکی و بین الاقوامی حالات سے واقف ہوں، جو تکنیکی طور پر چیزوں کو سمجھتے ہوں اور اس طرح سے وہ اپنے صوبے یا جہاں سے منتخب ہوکر آئے ہیں وہاں کی زیادہ خدمت کرسکیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لیے سینیٹ کا ادارہ زیادہ اہم ہے۔ وہ حکومتی چیزوں پر زیادہ بہتر نگاہ رکھتا ہے کیونکہ حکومت تو بنیادی طور پر قومی اسمبلی چلاتی ہے، اس کا بنیادی کام یہ ہے کہ حکومتی کام کو بھی دیکھے، دیگر اداروں پر بھی نظر رکھے اور جہاں جو خرابی دیکھے اسے دُور کرنے کی بھی کوشش کرے’۔

آزاد امیدوار

مسلم پرویز نے بتایا کہ ‘امیدوار کوئی بھی ہوسکتا ہے، اگر ہم یہ کہیں کہ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر یہ کرلیا جائے اور اس کے سینیٹ میں اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے تناسب سے آنے چاہئیں تو اس کا مطلب ہم ایک دوسرا راستہ بند کر رہے ہیں کہ کوئی زیادہ قابل آدمی جو زیادہ باصلاحیت ہے، زیادہ ٹیکنوکریٹ ہے، زیادہ معاشی معاملات یا بین الاقوامی طور پر چیزوں کو سمجھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ بھی آزادی سے انتخاب لڑے تو اس کا راستہ تو بند ہوگیا کیونکہ ایسے میں آزاد امیدوار کیسے لڑے گا؟’

انہوں نے کہا کہ ‘دوسری بات یہ ہے کہ ہم اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگا رہے ہیں اور اسمبلی رکن کو پابند کر رہے ہیں کہ جسے پارٹی سربراہ کہے خواہ آپ اسے پسند کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں آپ کو لازماً اسے ووٹ دینا ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو پارٹی سربراہ کا پسندیدہ فرد ہے خواہ وہ صحیح ہے یا غلط ہے، اسے ووٹ دینا ہے، اس الیکشن میں بہت سے امیدوار آگے پیچھے ہوئے، اس کے علاوہ کسی ایک فرد پر پارٹی کے ووٹرز نے وقت سے پہلے اعتراض کردیا کہ ہمیں اسے ووٹ نہیں دینا۔ تاہم اگر پارٹی سربراہ آپ کو مجبور کر رہے ہیں کہ آپ نے اسی کو ووٹ دینا ہے تو یہ اس کی ضمیر کی آواز کے خلاف ہوگا اگر وہ ووٹ دے گا کیونکہ وہ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ہم اسے پسند نہیں کرتے’۔

مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ ‘متناسب نمائندگی کی بنیاد کے طریقے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو انتخابات ہی نہیں کروانے، پھر تو بغیر انتخاب کے جس کا جو رکن آتا ہے وہ آجائے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘گزشتہ دور میں اس معاملے پر بھی بہت زیادہ گفتگو ہوئی کہ وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں بلدیاتی حکومت کے ذریعے سینیٹ کے اراکین کا چناؤ کرلیں’۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں یہ لگ رہا ہے کہ اس پر کوئی اور فیصلہ آجائے گا لیکن میری ذاتی رائے ہے کہ اس سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہیں آئے گا’۔

دھاندلی اور شو آف ہینڈز

مسلم پرویز بتاتے ہیں کہ ‘سینیٹ کے پہلے انتخابات کے بعد ایوان نے ابھی حلف بھی نہیں اٹھایا تھا کہ یہ بات زیرِ بحث آئی تھی کہ اس میں چناؤ کے طریقہ کار میں دھاندلی ہوئی ہے اور اس پر پریزائڈنگ افسر اور ایک رکن کے درمیان کافی مکالمہ ہوا’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘بعد ازاں 2015 میں یہ بات بڑی شد و مد کے ساتھ اٹھی تھی کہ دھاندلی ہوتی ہے، کرپشن ہوتی ہے اور قومی اسمبلی میں بحث کے دوران مالی کرپشن کی اصطلاع استعمال کی گئی اور کہا گیا کہ لوگ اپنی پارٹی کے نمائندے کو چھوڑ کر دوسرے کسی نمائندے کو ووٹ دیتے ہیں’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس پر طویل بحث ہوئی اور ایوان کی بزنس ایڈوائرزی کمیٹی نے اپنا اجلاس طلب کیا اور سفارشات پیش کیں جس پر بحث ہوئی اور یہ بات سامنے آئی کہ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جس کے بعد پوری قومی اسمبلی پر مشتمل ایک اسمبلی بنا دی گئی، جس کے پہلے اجلاس میں 19 ارکین نے شرکت کی اور اس کے چند ماہ بعد دوسرے اجلاس میں 18 اراکین نے حصہ لیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پورے ایوان کی ایک کمیٹی بنی، جس میں سفارشات مرتب کی گئی اور قرارداد کے ذریعے معاملہ حل کرلیا گیا تھا’۔

مسلم پرویز کے مطابق ‘اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ جس جماعت کے جتنے اراکین ہیں انہیں اسی تناسب سے سینیٹ میں نشستیں ملنی چاہئیں ورنہ دھاندلی ہوئی ہے؟ یہ ایک مستقل سوال ہے’۔

مسلم پرویز کے مطابق ‘جو تناسب ہم کہتے ہیں اس کا مطلب ایک ووٹ کی بنیاد پر ہے، ہم جو آرٹیکل 226 کا حوالہ دیتے ہیں وہ یہی بات کہتا ہے اور وہ سینیٹ کے انتخابات اور طریقہ کار پر بات کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 59 کا جو حوالہ دیا جاتا ہے وہ الیکشن کمیشن سے متعلق ہے کہ وہ الیکشن کا انعقاد کیسے کرے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ اس کو ضم کرلیں لیکن یہ دونوں آرٹیکل الگ الگ ہیں، آرٹیکل 226 میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ سوائے وزیرِاعظم اور وزیرِ اعلیٰ (یعنی وفاق کا اور صوبے کا سربراہ) کے تمام انتخابات خفیہ رائے شماری یا پوشیدہ رائے شماری یا نان ڈیکلیئرڈ رائے شماری کے ذریعے ہوں گے جبکہ وزیرِاعظم اور وزیراعلیٰ کے لیے شو آف ہینڈز، اوپن بیلٹ یا ایوان کو منقسم کرکے انتخاب ہوں گے’۔

مسلم پرویز نے کہا کہ ‘اگر ہم یہ کہیں کہ تناسب کا مطلب یہ ہے کہ جتنی سیاسی جماعتوں کی اسمبلی میں نشستیں ہیں اس کے مطابق ہی اسے حصہ دے دیا جائے تو پھر انتخاب کیوں کرائے جائیں؟ پہلی بنیادی بات تو یہ ہے، کیونکہ پھر تو الیکشن کی ضرورت ہی نہیں ہے اور آپ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر دے دیں بلکہ پھر یوں کریں کہ جتنی سیاسی جماعتیں قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر حصہ لیتی ہیں انہیں بھی ووٹوں کے تناسب سے اسمبلی میں نشست دے دیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘متناسب نمائندگی کے حوالے سے کافی عرصے تک بحث ہوتی رہی ہے’۔

ووٹ کو سامنے لانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘کیا یہ ہر ایک الیکشن پر لاگو ہوگا؟ دھاندلی کہاں نہیں ہورہی، کونسا ادارہ ہمارا صاف ہے بلکہ ادارے کو دھاندلی میں ملوث ہیں، بلکہ ان کی وجہ سے تو یہ بڑھتی جارہی ہے۔ اگر ادارے اس میں ملوث نہ ہوں اور الیکشن کمیشن بہت زیادہ آزاد ہوں اور اسمبلیاں، انصاف کے ادارے آزادی سے کام کریں تو میرا خیال ہے چیزیں تبدیل ہوسکتی ہیں، لیکن ایک ادارے کا دوسرے پر دباؤ ہے اور وہ ایک دوسرے کو استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ خرابیاں پیدا ہورہی ہیں’۔

ہارس ٹریڈنگ

صحافی مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ ‘سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت صدارتی ریفرنس پر اٹارنی جنرل ایک عجیب بات کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ لوگ اسلام آباد میں نوٹوں کے بیگ لے کر بیٹھے ہوئے ہیں، دوسری بات وہ یہ کہتے ہیں کہ ہنڈی کے ذریعے پیسہ دبئی منتقل ہورہا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی کے سربراہ یہ کہہ رہے ہیں کہ 50 سے 70 کروڑ رشوت چل رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے اراکین خود یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے سربراہ جماعت کو یہ بات بتائی کہ اتنا خرچ ہوجائے گا’۔

صحافی و سیاستدان کا کہنا تھا کہ ‘جن کے بارے میں یہ بات ہورہی تھی کہ 50 سے 70 کروڑ دیں گے ان کا ٹکٹ بھی واپس لے لیا گیا، لیکن سوال یہاں یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا یا ان کے خلاف کوئی قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) یا مالی بدعنوانی سے متعلق تحقیقات کرنے والے کسی اور ادارے کے پاس کیوں نہیں گیا اور شکایت کیوں درج نہیں کروائی؟’

سال 2018 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات اور اس موقع پر چیئرمین سینیٹ کے چناؤ کے حوالے سے مسلم پرویز نے کہا کہ ‘اس سے متعلق بھی دھاندلی کی آوازیں اٹھائی گئی تھیں اور جب ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو 14 افراد آگے پیچھے ہوگئے’۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہاں یہ ایک سلسلہ موجود ہے لیکن اگر ہم اسے شو آف ہینڈز سے کرنے کا کہیں تو آپ کو دستور میں آرٹیکل 226 میں تبدیلی کرنا پڑے گی کیونکہ یہ فیصلہ کسی صورت عدالت میں نہیں آسکتا کہ آپ یہ کام کرلیں اور میرے خیال میں اگر عدالت یہ فیصلہ دے گی تو اپنی حد سے تجاوز کرے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘عدالت کا کام دستور کے مطابق آئین کی تشریح کرنا ہے، ان کا کام کسی آرٹیکل کو کالعدم قرار دینا نہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہاں آئین کے آرٹیکل کی تشریح کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے سوائے وزیرِاعظم اور وزیرِاعلیٰ کے سب خفیہ طریقے سے ہوگا’۔

اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی سربراہ جو یہ بات کر رہے ہیں کہ اگر یہ خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوا تو ہم زیادہ نشستیں لے جائیں گے اور دوسرے لوگ روئیں گے، میرے خیال سے یہ بات ٹھیک نہیں اس کا مطلب آپ دھاندلی کریں گے’۔

مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ ‘دوسری طرف اگر دیکھیں تو اپوزیشن کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ ہم اتنی نہیں اتنی نشستیں لے جائیں گے’۔

آرٹیکل 62

سینیٹ انتخابات سے متعلق مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ ‘سینیٹ امیدوار کے لیے بالکل وہی طریقہ، وہی فارم اور فارمیٹ ہے جو قومی اور صوبائی اسمبلی کے ہوتے ہیں، یہ ایک ہی فارم ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘امیدوار کا ایک معیار مقرر کیا گیا ہے جو 62 کی شق میں موجود ہے جسے ہم عموماً 62-63 کی اصطلاح میں استعمال کرتے ہیں لیکن 62 اہلیت اور 63 نااہلیت سے متعلق ہے اور 62 میں لکھی گئی تمام ذیلی شقیں امیدوار کی اہلیت پر گفتگو کرتی ہیں’۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اب یہ کہا گیا کہ سینیٹ کے لیے 16 جماعتیں یا 16 سال کی تعلیم ہونی چاہئیں اور اس بنیاد پر ایک امیدوار کے کاغذات مسترد بھی کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ امیدوار کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ جس علاقے کی نشست کے لیے انتخابات میں حصہ لے رہا ہے وہ اس علاقے کا رہائشی بھی ہو جس کی وجہ سے ہی وہ اپنے صوبے یا علاقے کا مقدمہ ایوانِ بالا میں اچھے انداز میں پیش کرسکے گا’۔

حالیہ سینیٹ انتخابات

سینیٹ کے پہلے چیئرمین کے حوالے سے مسلم پرویز کا یہ کہنا تھا کہ ‘پہلے چیئرمین حبیب اللہ خان منتخب ہوئے اس کے بعد یہ تسلسل چلتا رہا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سینیٹ کی ترتیب اس طرح رکھی گئی تھی کہ اراکین کے سینیٹر رہنے کی مدت 6 سال ہوگی لیکن اس کے آدھے اراکین کی مدت 3 سال بعد ختم ہوجائے گی اور ہر 3 سال کے بعد جو انتخاب ہوگا وہ آئندہ 6 سالہ مدت کے لیے ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ کے انتخاب کے لیے طے ہوا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے آدھے اراکین کی مدت کو 3 سال مکمل ہونے پر ختم کردیا جائے گا’۔

اپنی گفتگو کے دوران مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ ‘صوبائی اسمبلی ایک پولنگ اسٹیشن ہوتا ہے وہیں گنتی ہوتی ہے، وہیں ووٹوں کی گنتی کے بعد نتیجے کا اعلان ہوگا کیونکہ وہ اسی جگہ کا نتیجہ ہے۔ ایک صوبائی اسمبلی ایک حلقہ ہے، اسی طرح 4 صوبائی اسمبلی 4 حلقے ہیں اور قومی اسمبلی ایک حلقہ ہے، اس طرح سینیٹ کے 5 حلقے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہر حلقے میں کتنے افراد آنے ہیں اور کس طرح آنے ہیں وہ سب دستور میں ذکر موجود ہے۔ 14 نشستیں ہر صوبے کے پاس ہیں، 4 ٹیکنوکریٹس اور 4 خواتین اور ایک اقلیت کی ہے اور اس طرح 23 نشستیں ایک صوبے کے پاس ہوتی ہیں۔ 14 جنرل نشستوں میں سے آدھی پر ہر 3 سال بعد انتخاب ہونے ہیں تو اس میں سے 7 نشستیں جنرل ہوں گی، اس کے علاوہ 2 ٹیکنوکریٹس، 2 خواتین کی ہوں گی جبکہ ایک اقلیتی کی ہوگی، لیکن چونکہ اقلیتی کی نشست کو بھی آدھا ہونا ہے لہٰذا ہر 3 سال بعد 2 صوبوں سے اقلیتی کا فرد آتا ہے، یوں اس طرح ہر مرتبہ نصف کی بنیاد ہوجاتی ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ جو 7 افراد جنرل نشستوں پر آتے ہیں اس میں پارٹیاں بھی اپنے لوگوں کو نمائندگی کے لیے بھیجتی ہیں اور کوئی آزاد امیدوار بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔ اب یہ ہر ایک کا حق ہے کہ وہ اپنے لیے ووٹرز کو تلاش کرے۔ جیسے عام انتخابات میں ووٹرز کی تلاش ہوتی ہے بالکل یہی صورتحال یہاں بھی ہوتی ہے اور یہ ووٹ دینے والے کا حق ہے کہ وہ کس کو ووٹ دے’۔

دورانِ گفتگو مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ ‘میں یہاں قطعی یہ بات نہیں کر رہا کہ کرپشن کی صورت میں ووٹ دے، یہ انتہائی غلط چیز ہے، اگر اس طرح کی چیز کسی کو معلوم ہو تو وہ سامنے لائے، کیس کرے، عدالت میں آئے اور ثبوت پیش کرے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ بھی بات کی جارہی کہ 2018 میں کس طرح مالی کرپشن ہوئی، ویڈیوز ہیں تو سوال یہ ہے کہ اب تک کیوں ویڈیوز کو نیب اور ایف آئی اے کو نہیں دیا کیوں عدالت میں مقدمہ نہیں کیا؟’

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس مرتبہ 7 جنرل نشستوں، 2 خواتین، 2 ٹیکنوکریٹس اور بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے اقلیتی نشست پر ووٹنگ ہوگی جبکہ اس مرتبہ سندھ اور پنجاب سے اقلیتی امیدوار نہیں ہے تو اس طرح وہاں مجموعی طور پر 11، 11 نشستوں پر الیکشن ہوں گے جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں 12، 12 نشستوں پر الیکشن ہوں گے’۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے