رنگون: میانمار میں اقتدار پر قابض ملٹری قیادت کی فوجی بغاوت کے خلاف عوامی احتجاج کو طاقت سے کچلنے کی دھمکی کے بعد سے 3 مظاہرین گولیوں کا شکار بن کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یکم فروری کو ملک کے اقتدار پر قابض ہوکر جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والی ملٹری قیادت نے فوجی بغاوت کے خلاف ملک بھر میں جاری مظاہروں کو ختم کرنے کی وارننگ دی تھی کہ بصورت دیگر طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

Mayanmar Protes 5  killed

ملٹری قیادت کے انتباہ کے باوجود ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور اس دوران سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی۔ زخمی خاتون نے گزشتہ شب اسپتال میں دم توڑ دیا۔

Mayanmar Protes 3  killed

نوجوان مظاہرین کی ہلاکت پر فوجی بغاوت کے خلاف جاری مظاہروں میں مزید شدت آگئی اور رنگون سے شروع ہونے والے مظاہرے ملک بھر میں پھیل گئے۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر آنگ سان سوچی کی رہائی اور جمہوریت کی بحالی کے نعرے درج تھے۔

Mayanmar Protes 4  killed

ادھر یورپی یونین نے عندیہ دیا ہے کہ وہ میانمار میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والی ملٹری قیادت پر پابندیاں عائد کرنے کو تیار ہیں جب کہ امریکا، کینیڈا اور برطانیہ نے میانمار کے اقتدار پر قابض فوجی قیادت پر پابندیاں عائد کرچکے ہیں۔

Mayanmar Protest 2  killed

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پہلے ہی فوج کے “وحشیانہ طاقت” کی مذمت کرتے ہوئے اسیر جمہوری رہنمائی کی رہائی، تشدد بند کرنے، انسانی حقوق اور حالیہ انتخابات میں عوام کی رائے کا احترام کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

منبع: ایکسپریس نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے