سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پر امریکی شہری جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات جاری کرنے کے الزامات عائد کرنے کے حوالے سے امریکی رپورٹ کے بعد واشنگٹن نے کہا ہے کہ ریاض کے ساتھ تعلقات اہم ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی نے کہا کہ واشنگٹن کا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اہم ہیں اور یہ تعلقات دونوں ممالک کے مابین مشترکہ مفادات اور اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران انتھونی بلنکن نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک اہم نوعیت پر مبنی ہیں اور ہمارے مختلف امور پر مفادات یکساں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ریاست کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں‘۔

سیکریٹری خارجہ نے امریکا کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے کے لیے واشنگٹن کے مفادات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات ‘کسی فرد واحد سے زیادہ قد آور ہیں‘۔

انتھونی نے یہ بھی تصدیق کی کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور انہوں نے خود بھی اپنے سعودی ہم منصبوں سے بات کی ہے۔

دوسری جانب پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا کہ سعودی عرب خطے میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی نقطہ نظر سے ہم سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے اپنے حفاظتی وعدوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

جان کربی نے کہا کہ ریاض کو اپنے دفاع کی ضرورت ہے خاص طور پر جنوبی سرحد کی طرف سے۔

امریکا کی جانب سے مذکورہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پر امریکی شہری جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات جاری کرنے کے الزامات عائد کرنے کے حوالے سے امریکی رپورٹ کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ’ سعودی حکومت جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی کانگریس کو پیش کی جانے والی رپورٹ کے مندرجات کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز جاری ہونے والی امریکی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے آپریشن کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے منظوری دی تھی۔

خیال رہے کہ 59 سالہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں لالچ میں لایا گیا تھا اور انہیں سعودی ولی عہد سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک ٹیم نے ہلاک کردیا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے اس کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا اور جمال خاشقجی کی باقیات کبھی نہیں ملی۔

انتظامیہ کے عہدیدار نے بتایا کہ امریکی محکمہ خزانہ سابق نائب سعودی انٹیلی جنس چیف احمد العسیری اور سعودی رائل گارڈ کی ریپڈ انٹروینشن فورس پر پابندیوں کا اعلان کرے گا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں ریپڈ انٹروینشن فورس کا جمال خاشقجی کے قتل میں اہم کردار بتایا گیا ہے۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے