بین الاقوامی فوجداری عدالت کی چیف پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں مبینہ جرائم کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے جب کہ اسرائیل نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی پراسیکیوٹر فتوؤ بینسودا نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے فلسطین میں جنگی جرائم کے خلاف تحقیقات آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور بغیر کسی خوف اور حمایت کے کی جائے گی۔فتوؤ بینسوڈا نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے2019 میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کی سرگرمیاں ٹھوس جواز مہیا کرتی ہیں۔ دوسری جانب  فلسطین نے کرمنل کورٹ کی تحقیقات کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی درخواست ایک طویل عرصے سے نظر ثانی کے لیے پڑی تھی۔

اسرائیل نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف مہم شروع کر دی ہے  اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اگر آپ گوگل پر اس معاملے کو سرچ کریں تو سب سے پہلے ایک ادا شدہ اشتہار کھلے گا جو عوام کی رائے کو بدلنے کی کوشش ہے۔  پہلے اس تحقیق کا مقصد 2014 میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات کرنا تھا تاہم اب اس میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین کی سرزمین پر غیر قانونی قبضوں کی تحقیقات بھی شامل ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے دنیا میں انسانی حقوق کی بہتری پر زور دے کر جہاں ایک طرف تعریف سمیٹی ہے وہیں وہ بین الاقوامی فوجدادی عدالت کی مخالفت کر کے اسرائیل کی حمایت میں سامنے آگئی ہے۔

یہ یقینا ایک مثبت قدم ہے اور ممکن ہے مستقبل میں  یہ فلسطینی مومنٹ کو تحریک دے سکتی ہے جو کہ آزادی کی ایک مضبوط تحریک بن سکتی ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف ایک طویل عرصے سے مختلف قسم کی پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ اسرائیل کے جنگی جرائم میں امتیازی صحت کی پالیسیاں، فلسطینیوں کے خلاف غیرقانونی بستیوں کی تعمیر اور مقبوضہ علاقوں خاص طور پر مشرقی یروشلم میں فلسطنیوں کے گھروں کو مسمار کرنا شامل ہیں۔

کرونا ویکسین میں امتیازی رویہ

اطلاعات کے مطابق اسرائیل اپنی ضرورت سے زیادہ ویکسین خرید چکا ہے۔ خریدی گئی ویکسین اسرائیل پہنچ چکی ہے یا پھر پہنچنے والی ہے۔ ہر لحاظ سے یہ بات قابل تحسین ہے۔ اس سب کے باوجود اسرائیلی کابینہ کے کسی وزیر یا پھر وزیر اعظم نیتن یاہو کو یہ توفیق نہ ہو سکی کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں بسنے والے فلسطینیوں کو انسانی بنیادوں پر ویکسین لگانے سے پہنچنے والے سیاسی فوائد کا ادراک کر سکیں۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ”اسرائیل ایک قابض طاقت کے طورپر اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ کر نسلی امتیازکا ارتکاب کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو ان کی صحت کی دیکھ بھال کے حق سے محروم کررہا ہے۔” حتی کہ اسرائیل نے فلسطین کے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو بھی یہ ویکسین لگانے سے انکار کر دیا ہے جب کہ اپنی نصف سے زائد آبادی کو ویکسین فراہم کر چکا ہے۔

مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی حکام نے لیت ولعل سے کام چلانے والی اسرائیلی حکومت کو گذشتہ ہفتے بڑی مشکل سے یہ بات ماننے کے لیے تیار کیا کہ کرونا (کورونا) وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی 5000 خوراکیں فلسطین میں طبی عملے کو لگائی جائیں۔ اس سے زیادہ فلسطینیوں کو ایک خوراک بھی نہیں دی جائے گی۔ فسلطینی اتھارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کہ”فلسطینی قیادت کی جانب سے مختلف ذرائع سے ویکسین حاصل کرنے کی کوششوں کے باوجود اسرائیل فلسطینی عوام کو ویکسین فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داریوں سے بچ نہیں سکتا ہے۔” کیونکہ چوتھے جینیوا کنونشن کے آرٹیکل 56 کے تحت اسرائیل ایک قابض ملک ہے اور مقبوضہ ملک کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔

آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیاں
اسرائیل گزشتہ دہائی سے غیر قانونی آبادکاری میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور فلسطنیوں کو اپنی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کیا جارہا ہے، جب کہ فلسطنیوں کے رفیوجی کیمپس کے قریب کے علاقوں میں بھی اسرائیلی سرزمین پر قبضے کا عمل جاری ہے ۔ اس غیر قانونی آبادکاری میں اضافے نے فسلطنیوں کے خلاف تشدد کی ایک نئی لہر کا جنم دیا ہے اور یہ آبادکار کھلم کھلا فلسطنیوں کو مختلف قسم کے تشددد کا نشانہ بنانے سے ہر گز نہیں چوکتے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں مشتبہ اسرائیلی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیوں میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ مقامی میڈیا کے مطابق پرائس ٹیگ نامی نئے پرتشدد حملوں میں انتہا پسند اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے جبکہ ان کے گھروں اور فارمز کو بھی مسمار کر دیا ۔ جب کہ رام اللہ کے قریب پہاڑوں پر چڑھنے کے شوقین ایک فلسطینی کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک آباد کار نے قلقلیا میں اپنی کار ایک غیر مسلح فلسطینی کو مار کر جاں بحق کر دیا۔ فلسطنیوں کے ساتھ یہ سب کچھ اسرائیل کی دفاعی افواج بھی کرتی ہیں اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان جرائم پر اسرائیل کی کوئی پکڑ نہیں ہوتی۔

آبادکاری کا پھیلاؤ: فلسطنی گھروں کو مسمار کرنا اور ان کو خالی کرنا

گزشتہ برس یعنی 2020 میں  اسرائیلی بلڈوزرز نے وادی اردن میں طوبَس کے قریب پورے گاؤں کو مٹا دیا جس میں خیمے، شیڈز، لے جانے کے قابل بیت الخلا اور سولر پینلز شامل تھے۔فلسطینی وزیر اعظم محمد شطیہ نے اسرائیلی فوج پر حومسا البقیہ کے پورے گاؤں کو مسمار کرنے کا الزام عائد کیا جس سے تقریباً 80 افراد بےگھر ہوگئے جن میں 35 بچے بھی شامل تھے۔ یورپین یونین نے اپنی رپورٹ میں اس گاوں کو مسمار کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں 46 فلسطینی گھروں کو مسمار کیا ہے۔

یورپین یونین نے اسرائیل کے اس عمل کی شدید مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کرونا وبا کے باوجود  پورا سال فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنا اور ان پر قبضہ کرنا انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔ حتی کہ امریکہ اور یورپین یونین نے کئی مرتبہ اسرائیل کی غیر قانونی سرگرمیوں کی مذمت کی ہے۔

ان گھروں کا انتخاب اتفاقی طور پر نہیں کیا جاتا تاہم کوئی بھی فلسطینی گھت اس پالیسی سے مبرا نہیں ہے۔ ان بے دخلیوں کی ایک بڑی وجہ یہودیوں کی جانب سےمشرقی یروشلم کی سرزمین پر اپنے تاریخی حق کا دعوی ہے جبکہ نہ تو 1948 کے بعد اور نہ اس سے قبل اسرائیل اس زمین کا مالک تھا۔ یہ بات پہلے بھی بیان کی جا چکی ہے کہاکہ الخیلیل اور بیت اللحم میں اسرائیلی آبادکاریوں کے قریب فلسطینیوں کے کیمپس موجود ہیں تاہم اسرائیل نے اس بات کا خصوصی خیال رکھا ہے کہ یہ کیمپس آبادکاریوں سے مکمل الگ تھلگ رہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ” گزشتہ چند برسوں میں آبادکاروں کی جانب سے بے دخلی کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے 877 افراد بشمول 391 بچے ان مقدمات کی وجہ سے جبری بے دخل کیے جا سکتے ہیں۔ مشرقی یروشلم میں پہلے ہی جبری بے دخلیوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔

شیخ جراح اور مشرقی یروشلم

اگر بین الاقوامی فوجداری عدالت اپنی تحقیقات کرتی ہے تب بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ اسرائیلی ٹرائل کم از کم دو یا تین سال بعد شروع ہوسکتا ہے بلکہ شاید اس کام کے لیے اس سے بھی زیادہ وقت درکار ہو۔ اس تحقیقات کی نسبت بھی اقوام متحدہ کی جانب سے سخت اور بروقت مداخلت کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینیوں کے خلاف مزید جرائم کو روکا جا سکے۔اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کا کہنا ہے کہ یہ بے دخلیاں خطرے کی گھنٹی ہیں اور یہ درحقیقت یروشلم میں رہنے والے فلسطینیوں اور ان کے خاندانوں کے ان کے گھروں سے نکال کر زیادہ سے زیادہ رقبے پر قبضہ کر کے اسرائیلیوں کی آباد کاری کا ایک جامع و وسیع منصوبہ ہے۔ ان غیرقانونی بستیوں کی تعمیر روکنے کے لیے وقت تیزی سے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ بے دخلیوں کا یہ سلسلہ بے منصوبہ نہیں ہے بلکہ اس کا خاص ٹارگٹ مشرقی یروشلم ہے جس کو تاریخی بیسن بھی کہا جاتا ہے۔

پس مشرقی یروشلم سے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنا اور ان کو جبری بے دخل کرنے کا مقصد مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی سے مکمل الگ کرنا اور وہاں زیادہ سے زیادہ یہودی آبادکاروں کو جگہ فراہم کرنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شیخ جراح کے ملحقہ علاقے کو مکمل طور پر تباہ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ برس کے اختتام پر اسرائیل کے سرکاری ریڈیو کی اطلاع کے مطابق اسرائیل سے منسلک القدس کی بلدیہ کی  تعمیرات عامہ  پلاننگ کمیٹی  نے مشرقی  القدس میں شیخ جراح محلے میں تیرہ  نئے رہائشی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔یہودی جنہوں نے مشرقی القدس کے شیخ جراح  محلے جہاں پر  یہودیوں کے مذہبی پیشوا کا مقبرہ موجود ہے اپنی نگاہ مرکوز کر رکھی ہیں اور ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں  یہودی یہاں تشریف لاتے ہوئے عبادت کرتے ہیں۔شیخ جراح محلہ ،  القدس میں یہودی گروپوں کی جانب سے سب سے زیادہ ہدف بنائے جانے والے مقامات میں سے ایک ہے۔  مقبوضہ مشرقی القدس میں یہودیوں کی اٹھارہ  غیر قانونی بستیاں موجود ہیں۔  ان غیر قانونی بستیوں میں 2 لاکھ  20 ہزاریہودی  آباد ہیں۔

یہاں یہ امر ضروری ہے کہ اردن چونکہ اس علاقے کا قانونی  نگران ہے اس لیے اسے مداخلت کرنی چاہیے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق یعنی 1956  فلسطین اور اردن کے مابین طے ہونے والے معاہدے کے تحت مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کے دفاع کی ذمہ داری بھی اردن پر عائد ہوتی ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے بعد اب یہ ذمہ مغربی ممالک کے عوام کی ہے وہ اپنی حکومتوں پر اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات رکوانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

اتوار، 7 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے