وزیر اعظم عمران خان ملک کی سیاسی تاریخ میں دوسرے وزیر اعظم بن گئے ہیں جنہوں نے اپنی ایک ہی مدت میں دو مرتبہ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ 178 ارکان نے ان پر اعتماد کیا ، محسن داوڑ اور عبدالاکبر چترالی کے علاوہ کوئی اپوزیشن کا کوئی رکن ایوان میں کارروائی کے دوران شریک نہ ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی میں ایک ہی مدت کے دوران دوسری مرتبہ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے۔ اس سے قبل 1993 کونواز شریف نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا۔ عمران خان کے ووٹ حاصل کرنے کے بعد اگرچہ وہ ایک دباؤ سے نکل آئے ہیں تاہم ان کے سامنے دیگر چیلجنز منہ کھولے کھڑے ہیں۔  عمران خان نے قومی اسمبلی کی اکثریت کا ووٹ حاصل کرکے اگر چہ اپنے تئیں اپوزیشن کو ’شکست فاش‘ دی ہے اور اپنی پارٹی کو مشکلات کی بھٹی سے کندن بن کر نکلنے پر مبارک باد بھی دی ہے لیکن انہیں خوب اچھی طرح احساس ہوگا کہ وہ کسی مدمقابل کے بغیر معرکہ جیتنے کا اعلان کررہے ہیں۔ ایسی فتح عام طور سے ناکافی سمجھی جاتی ہے اور عارضی ثابت ہوتی ہے۔ انہیں ابھی اقتدار کے اصل معرکہ کے لئے تیاری کرنا ہوگی۔

 عمران خان جذباتی ضرور ہیں لیکن اتنے بھولے ہرگز نہیں ہیں کہ انہیں یہ ادراک نہ ہو کہ انہیں جن 178 ارکان قومی اسمبلی نے آج اعتماد کا ووٹ دیا تھا ان میں وہ 16 ’چور ‘بھی شامل تھے جنہوں نے تین روز پہلے پیسےپکڑ کر عمران خان سے ’غداری‘ کی اور اب وفاداری کا اقرار کرنے چلے آئے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ’اپوزیشن سے پاک‘ قومی اسمبلی کے آج کے پر امن اجلاس میں عمران خان اسپیکر اسد قیصر سے یہ اعلان بھی کروادیتے کہ ووٹ فروخت کرنے والے چور انہیں ووٹ نہ دیں ورنہ لوگ انہیں ’چوروں کا سردار‘ کہیں گے اور انہیں یہ ہرگز گوارا نہیں ہوگا۔ عمران خان کچھ بھی ہوسکتا ہے، چوروں کا سردار تو نہیں ہوسکتا۔ لیکن قومی خدمت کے نام پر اقتدار کی شدید خواہش میں کوئی بھی لیڈر اقتدار تک پہنچانے کا سبب بننے والے کسی رکن قومی اسمبلی کو دھتکارنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ عمران خان نے ایسے ارکان اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے کر ثابت کیا ہے کہ وہ بھی اس مزاج اور رویہ سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

خان صاحب کو اعتماد ک ووٹ مبارک ہو مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس ووٹ سے  وطن و ریاست کی سیاسی و معاشی اوقات میں کوئی فرق پڑتا ہے؟ کیا اس سے بجلی کے نرخ کم ہوتے ہیں؟ کیا اس سے گیس کے نرخ کم ہوتے ہیں؟ کیا اس سے انویسٹر کانفیڈنس بحال ہوتا ہے؟ کیا اس سے کشمیر واپس آتا ہے؟ کیا اس سے مہنگائی کم ہوتی ہے؟ کیا اس سے ریاست پر شہریوں کا اعتماد بڑھتا ہے؟ اور ان جیسے درجنوں سوال مزید بھی ہیں، کہ جن کے جوابات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ حقیقت، آج کے اعتماد کے ووٹ سے نہیں بدلتی، بلکہ اک بہت سادہ اصول کے تحت، مزید خراب ہوتی ہے کہ پچھلے ڈھائی برس کی جو کارکردگی رہی، وہی کارکردگی اگلے ڈھائی برس بھی ہو گی اور ایسی ڈولتی ہوئی سیاست میں کون ہو گا جو اس جاری شدہ سرکس میں اپنا پیسہ ڈالے گا جس سے صنعت و معیشت کا پہیہ چلے گا جس سے پچاس لاکھ گھر بنیں گے اور ایک کروڑ نوکریاں تخلیق ہوں گی؟

اعتماد کا ووٹ تو ہوگیا اب سوال یہ ہے کہ اگلے مرحلےمیں کیا ہوگا؟ کیا اعتماد کے ووٹ سے خان صاحب کو درپیش چیلنجز کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں بلکہ ابھی ن کے لیے عشق کے اور امتحان باقی ہیں۔ ابھی سینٹ کی چئیرمین شپ کا مقابلہ باقی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں انتشار اور سیاسی عدم استحکام نظر آرہا ہے۔ اپوزیشن کی نظریں اس وقت چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر ہیں اور وہ سینیٹ میں اپنا چیئرمین لانا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کو سینیٹ میں معمولی برتری حاصل ہے اور دوسری جانب زرداری صاحب بھی ماضی میں کیے گئے سیاسی گناہوں کا داغ دھونا چاہتے ہیں۔ اس مرتبہ اپوزیشن کا سب سے بڑا ہدف سینیٹ چیئرمین کے انتخابات ہیں اور اس کے لیے یوسف رضا گیلانی ہی قوی امیدوار نظر آرہے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ جس طرح حفیط شیخ ایک غیر مقبول اور غیر منتخب لیڈر تھے اور ان کے پاس لوگوں کی اتنی حمایت بھی نہیں تھی، بالکل اسی طرح صادق سنجرانی کو بغیر کسی مدد کے دوبارہ منتخب کرنا بہت مشکل ہوگا۔

اعتماد کے ووٹ سے وزیرِاعظم نے خود کو تو محفوظ کرلیا لیکن سینیٹ میں ان کی جماعت اس وقت محفوظ نہیں ہے۔ اس وقت تک غالب امکان یہی ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے ہونے والا انتخاب اپوزیشن جیت سکتی ہے۔ اگر حکومت کے ہاتھ سے چیئرمین سینیٹ کی نشست چلی جاتی ہے تو حکومت کے لیے قانون سازی میں مشکلات بڑھ جائیں گی۔ خاص طور پر پاکستان جس آئی ایم ایف پروگرام میں جانے والا ہے اس میں موجود شرائط کے حوالے سے کچھ قانون سازی کی ضرورت ہے اور حکومت کا یہ خیال تھا کہ جب سینیٹ میں ان کی اکثریت آجائے گی تو وہ قانون سازی بھی کرلی جائے گی، لیکن اگر سینیٹ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے کنٹرول میں چلا گیا تو یہ قانون سازی بہت مشکل ہوجائے گی اور حکومت کو آئی ایم ایف کے پروگرام میں خاطر خواہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

خان صاحب کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک طرف دیرینہ دوستی، قابل اعتماد وزیر تو دوسری جانب اہم اتحادیوں کے مابین بھی باہمی مقابلہ شروع ہوگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان پر سینیٹ الیکشن کے بعد اتحادیوں کی جانب سے  ڈپٹی چیئرمین اور مزید وزارتیں دینے کے مطالبات  سامنے آرہے ہیں۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ انتہائی قریبی رفقاء سے مشاورت شروع کردی ہے۔  تاہم اتحادیوں کی بات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کی لابنگ مشکل ہوجائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی حکومتی اتحادیوں کو آفرز شروع کردی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے ایک مرتبہ پھر وزارت کے مطالبے کے بعد ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ مانگ لیا ہے۔ وزیراعظم کے قریبی رفقاء کی جانب سے فروغ نسیم کو بطور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ دے کر سب کو راضی کرنے کی تجویز دی جارہی ہے۔  جب کہ فروغ نسیم نے وزارت قانون کے سوا کوئی اور قلمدان نہ سنبھالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دریں اثنا ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کی طرف سے بڑی  پیش کش کی گئی ہے۔ اگر حکومت سے بات نہ بنی تو ایم کیو ایم نے حکومتی اتحاد چھوڑنے کاعندیہ بھی دے دیا ہے۔  ایم کیو ایم کی قیادت فیصل سبزواری کو ڈپٹی چئیرمین سینیٹ یا ایم کیو ایم کے  کوٹہ کا وزیر بنانے کی خواہاں ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر طویل مشاورت شروع کردی  ہے۔

ایک اور اہم بات یہ کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد ڈسکہ میں بھی انتخابات ہونے جارہے ہیں اور اگر ڈسکہ میں مسلم لیگ (ن) جیت جاتی ہے تو اس کا فائدہ بھی پی ڈی ایم کو ملے گا۔ڈسکہ انتخابات کے بعد اپوزیشن کی نظریں لانگ مارچ پر ہوں گی اور اگر ڈسکہ میں مسلم لیگ (ن) جیت جاتی ہے تو ممکن ہے کہ پی ڈی ایم مزید شدت کے ساتھ لانگ مارج کی تیاریاں کرے۔ اسی وجہ سے اگلے کچھ ہفتوں میں ملکی سیاست میں ابال آنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ سو یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ابھی تو اصل کھیل شروع ہوا ہے اور خان صاحب ابھی سے گبھرا گئے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ آگے آگے کیا ہوتا ہے۔

اتوار، 7 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے