کرونا وبا کی کو ویکس ویکسین کی فراہمی میں تاخیر نے پاکستان کو دیگر آپشنز بشمول ویکسین کی کمرشل درآمد کے متعلق سوچنے پر مجبور کر دیا ہے یہ الگ بات ہے کہ اس کی ایک بڑی آبادی نجی طور پر یہ ویکسین خریدنے کے قابل نہیں کیونکہ اس کی قیمت ان کی پہنچ سے دور ہوگی۔  وزارت صحت کے ایک اعلی عہدیدار عامر اشرف خواجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان ویکسی نیشن کی جاری مہم کو قائم رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کررہا ہے کیونکہ گیوی نے اب تک پاکستان کو کرونا کی ایک خوراک بھی فراہم نہیں کی۔  جینیوا میں مقیم ایک بین الاقوامی تنظیم گیوی عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کر پوری دنیا میں ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے کام کر رہی ہے ۔ یہ تنظیم غریب اور ترقی پذیر ممالک کو کرونا ویکسین کی مفت فراہم کے لیے کوشاں ہے۔

خواجہ کا کہنا تھا کہ گیوی نے مارچ کے اوائل میں پاکستان کو کرونا کی ویکسیین کی فراہمی کا عندیہ دیا تھا تاہم یہ خوراکیں تاحال پاکستان کو موصول نہیں ہوئیں اور اس خلا کی وجہ سے ہم اس بات پر مجبور ہو گئےہیں کہ ان آخری لمحات میں جو میسر ہو اسی سے کام چلائیں۔ کو ویکس واحد ویکسین ہے جو غریب ممالک کے لیے سستی اور قابل فراہمی ہے ۔ اس وقت تک کو ویکس کی 31 ملین خوراکیں دنیا کے 57 ممالک کی طرف بھیجی چا چکی ہیں۔ مئی تک 142 ممالک کو ویکس کی 237 ملین خوراکوں کے انتظار میں ہیں  جبکہ پاکستان کو ویکس کی 14 ملین خوراکوں کے انتظار میں ہے اور یہ مقدار کسی بھی ملک کو کو ویکس کی فراہمی سے زیادہ ہے۔  تاہم اس وقت پوری دنیا میں کوی شیلڈ کی قلت پیدا ہوچکی ہے ۔ یہ ویکسن اینگلو سویڈش فارما کمپنی جس کا تعلق آسٹرا زنیکا سے ہے نے تیار کی ہے۔

کوی شیلڈ کی خوراکیں اس وقت بھارت کا سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا تیار کر رہا ہے اور بھارت اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ ویکسیین بنانے والا ملک بن چکا ہے ۔ اس ویکسین کی بھاری مقدار بھارت کے شہر پونے میں تیار ہورہی ہے۔  سیرم انسٹیوٹ آف انڈیا نے اس ویکسین کی زیادہ خوراکین اپنے ملک کی ضروریات کے پیش نظر بھارت تک ہی محدود کر دی ہیں ۔ بھارت میں اس وقت کرونا کی دوسری لہر نے تباہی مچا رکھی ہے۔ بھارت میں کرونا سسے 160000 اموات ہوچکی ہیں جبکہ 7۔2 ملین افراد اس وباسے متاثر ہوچکے ہیں۔

سیرم انسٹیوٹ آف انڈیا نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ بھارت کو ویکسین کی فراہمی کے ساتھ ساتھ یہ کو ویکس کو مساوی بنیادوں پر دنیا کے دیگر ممالک کو بھی فراہم کرے گی۔ کو ویکس اس وقت بھارتی حکومت سے اس بات کے مذاکرات کر رہی ہے کہ وہ اس ویکسین کی تقسیم کے عمل کو تیز کرے۔ آسٹرا زنیکا اس وقت امریکہ اور یورپین یونین میں تقسیم کے مسائل کی وجہ سے فراہمی کے عمل میں تعطل کا شکار ہے۔ جب کہ ٹرائل ڈیٹا میں خرابیوں کی وجہ سے اس ویکسین کے حوالے سے حفاظتی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

تاہم پاکستان جیسے ممالک جو کہ ویکسی نیشن کے معاملے میں بہت پیچھے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ انہیں مارکیٹ سے جو کچھ میسر آئے وہ اس سے کام چلائیں کیونکہ حکومت کے سست رد عمل کی وجہ سے حکومت تنقید کی ذد میں ہے۔ حکومت پاکستان نے ویکسین کی خریداری کے لیے150 ملین ڈلر کی رقم مختص کی تھی مگر تاحال اس کو استعمال میں نہیں لایا جاسکا۔

کراچی میں مقیم ایک صحافی وقار بھٹی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں حکومت اپنے پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتی اور اس کا تمام تر انحصار ڈونرز پر ہے کہ کو ویکس ان کو مفت ویکسین فراہم کرے گی اور یہ عوام کو مطمن کر سکت

جب پیسہ بولتا ہے

مارچ کے اوائل میں پاکستان نے نجی سیکٹر کو ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے کر کے دنیا کے پہلے ملک کا اعزاز حاصل کیا جس نے اس ویکسین کی فروخت کی اجازت دی ہے۔ تاہم اس کی کمرشل فروخت جس کا مقصد سرکاری مہم کو سہارا دینا تھا اس وقت مسائل کا شکار ہو گئی جب یہ طے نہ پا سکا کہ صارف اس کی کیا قیمت ادا کرے گا۔ ایک پرائیوٹ لاجسٹکس کمپنی علی گوہر کا کہنا تھا کہ اس نے 17 مارچ کو روسی ویکسین سپوتنک وی کی 50000خوراکیں منگوائی ہیں۔ تاہم اس ویکسین کی نجی فروخت اس وقت مسائل کا شکار ہوگئی جس وقت اس کی قیمت پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ ابتدا میں حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ مارکیٹ کو اس بات کی اجازت۔ دے گی کہ وہ اس کی قیمت کا خود ہی فیصلہ کرے تاہم بعد میں حکومت نے اس کی دو خوراکوں کی قیمت 8500 روپے مقرر کر دی۔ جبکہ کمپنی کا دعوی ہے کہ ان کے ساتھ چالیس فیصد منافع کی بات کی گئی تھی یعنی ان کو یہ ویکسین 12 سے 13 ہزار تک فروخت کرنے کا کہا گیا تھا تاہم بعد میں اس کی قیمت کم کر دی گئی۔ علی گوہر نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت مناسب قیمت کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کرتی تو وہ یہ ویکسین کسی اور ملک کو درآمد کر دے گی۔

بھٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صرف چند فیصد آبادی ہی اتنی مہنگی ویکسین خرید سکتی ہے اور وہی نجی اداروں کی جانب سے ویکسین کی فراہمی کی حامی ہے۔ اسی طرح بڑی بڑی کمپنیاں بھی اپنے کارکنوں کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسین خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ روسی ویکسین سپوتنک وی کی کمرشل فروخت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کہ لوگ اس کو خرید کر  اپنی مرضی سے لگو سکتے ہیں کیونکہ حکومت صرف چند ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ ویکسین لگا سکیں۔ تھائی لینڈ اور چند دیگر ممالک بھی کرونا ویکسین کی کمرش    بنیادوں پر درآمد پر غور کر رہے ہیں۔ جان ہاپکن یونیورسٹی کے مطابق 26 مارچ تک پاکستان میں کرونا کی وجہ سے اموات کی تعداد 14000 تک پہنچ گئی ہے ۔20 کروڑ آبادی کے ملک میں اب تک صرف چھ لاکھ افراد کو ویکسین دی جاسکی ہے۔ اب تک عمران خان کی حکومت نے ویکسین کے لیے چینی مدد پر انحصار کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی حکومت پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بھی چند روز قبل کرونا کا شکار ہوگئے ہیں۔ لاہور میں مقیم وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر الطاف احمد کا کہنا ہے کہ ہم ہر چیز کے لیے نجی سیکٹر پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ تشخیص کرنے والی لیب سے لے کر ہسپتالوں تک آپ یکھتے ہیں کہ نجی سیکٹر نے سرکاری سکیٹرن کو ہر لحاظ سے پیچھے چھوڑ دیاہے۔ اور یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ہم صحت پر اپنے کل بجٹ کا صرف دو فیصد خرچ کرتے ہیں۔ اور پاکستان کی ایک تہائی آبادی دیہاتی علاقوں میں رہتی ہے جس کی ماہانہ آمدن بمشکل 3000 روپے  ہے۔ بھٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کرونا کی ٹیسٹنگ اور علاج میسر نہ ہونے کی وجہ سے نجی ہسپتال اور لیبز اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کر رہی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ بہت سارے لوگوں کے باس اینٹی بائیوٹکس خریدنے کے لیے دو ہزار روپے تک نہیں ہوتے جس کی وہ سے وہ اپنے مریضوں کو واپس لے جاتے ہیں۔ اس لیے کرونا ویکسین کی کمرشل فروخت اکثریت کے لیے نہیں ہے کیونکہ وہ غریب ہیں۔

 

 

ہفتہ، 27 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے