کرونا وائرس کی ویکسین کی آمد کے ساتھ ہی دنیا تیزی سے اس ویکسین کے حصول کے لیے آگے بڑھتی دکھائی دینے لگی۔ بہت سارے افراد نے اس ویکسین کی دو خوراکیں لیں، پہلی خوراک کے بعد اس کو مزید طاقت دینے کے لیے کچھ ہفتوں بعد دوسری خوارک لی۔ تاہم اب سنگل خوراک کی ویکسین بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس وقت تک پوری دنیا میں اس وائرس کے خلاف 13 ویکسینز میدان میں آ چکی ہیں جبکہ مزدی 67 ویکسینز کلینکل ٹرائل کے مرحلے میں ہیں ۔ ان تمام ویکسینوں میں سے دو تہائی ایسی ہیں جو دو خوراکوں کے بعد امنیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ تاہم  بعض ویکسین کی کمی اور تقسیم کے مسائل کی وجہ سے بہت سارے لوگ ویکسین حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر  وہ دو مختلف ویکسینز کی خوراکیں لے لیں تو کیا ہوگا؟ کیا ہوگا اگر کوئی پہلی خوراک آسٹرا زنیکا کی لے لے اور دوسری موڈرنا کی؟

کیا ایسا کرنا محفوظ ہوگا؟

یہ ممکن ہے کہ آپ ایک ویکسین کے بعد دوسری استعمال کریں تو آپ کی امنیت میں زیادہ اضافہ ہو ۔ طب کے ماہر اس عمل کو ہیٹرولوگس پرائم بوسٹنگ کا نام دیتے ہیں۔ فائزر اور آسٹرازنیکا دونوں ویکسینوں کا بنیادی فعل انسان کی مدافعتی نظام کو طاقتور بنانا اور کرونا کی سپائک پروٹین کو نشانہ بنانا ہے ہے جو کہ کرونا کے خلاف اہم ترین ضرورت ہے۔  تاہم یہ دونوں ویکسینز کرونا وائرس کے سپائیک کے الگ الگ حصے کو نشانہ بناتی ہیں اور ان کے کام کرنے کا طریقہ بھی الگ الگ ہے۔ فائزر کرونا وائرس کی جنیاتی ہدایات کو تبدیل کرتی ہے جو کہ سپائیک بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور انسانی سیل کی مدد سے کرونا وائرس کو کمزور کرتی ہے جبکہ آسٹرازنیکا ایک تبدیل شدہ سرد وائرس کو استعمال کر کے انسان کے مدافعتی نظام کو سپائیک پروٹین فراہم کرتی ہے۔

موڈرنا بھی پیغام رساں نیوکلیک ایسڈ کو ہی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جو فائزر کرتی ہے

آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی  میں بائیو میڈیکل سائنسز کے ریسرچ فیلو اور وائس چانسلر ڈاکٹر کیلی کونین کا کہنا تھا کہ ابھی ہم اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ مکس طریقہ کار زیادہ فعال ہوسکتا ہے یا نہیں؟ تاہم یہ ممکن ہے کہ  ایسی دو مختلف ویکسینوں کا استعمال کیا جاسکے جو ایک جیسے اینٹی جن ٹارگٹ فراہم کرتی ہیں اگرچہ وہ مختلف انداز میں مدافعاتی نظام کو تیز کرتی ہوں ۔  اس طرح کی دو مختلف ویکسینز ہمیں کرونا کے خلاف بہتر مدافعت فراہم کر سکتی ہیں۔  امریکہ میں سنٹر فار ڈزیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق اگرچہ اس ضمن میں ابھی ریسرچ کی ضرورت ہے تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ دو مختلف ویکسینز کو ملانے کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوں گے۔ تاہم مرکز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویکسین دینے والے پروفیشنلز کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ وہ مریضوں کو ویکسین کی دوسری خوراک اسی ویکسین کی دیں جس کی پہلی دی گئی ہو۔ تاہم ایسے غیر معمولی کیسز میں جس میں پہلی خوراک کے بعد اسی ویکسین کی دوسری خوراک دستیاب نہ ہو اس کی جگہ کوئی بھی ایم آر این اے کووڈ 19 ویکسین لگائی جاسکتی ہے اور کم از کم دونوں ویکسینز کی خوراکوں کو دورانیہ 28 دن ضرو رہو۔

ہیس ٹیپی  یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بولنٹ سکیرل کا کہنا ہے کہ کسی بھی سائنسی وجوہ کے بغیر دونوں ویکسینز کو ملانا درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک میرا خیال ہے کلینکل ٹرائل کے دوران اس طرح کے کسی بھی پروٹوکولز کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ ہمیں اس کام کے لییے ٹھوس ثبوت چاہیں اور عوام کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کرنی چاہیے کہ اگر یہ ممکن ہے تو اس کومتبادل ذرائع علاج میں شامل کریں۔ تاہم آسٹرا زنیکا اور بائیو این ٹیک دونوں نے اس حوالے سے انکار کیا ہے کہ اور کہا ہے جب تک اس حوالے سے مکمل ریسرچ نہ ہو اس پر رائے نہیں دی جاسکتی ۔ دیگر ماہرین بھی اس حوالے سے بات چیت سے گریز پا ہیں کیونکہ اس حوالے سے کوئی ٹرائل موجود نہیں ہیں۔ اب تک چوہوں پر کئے جانے والے تجربات سے یہ بات معلوم ہوئی  ہے کہ فائزر اور آسٹرازنیکا کے ملاپ سے مدافعاتی قوت میں زبردست اضافہ دیکھنے کو آیا ہے جبکہ انفرادی پر اگر دو خوارکیں ایک ہی ویکسین کی دی جائیں تو وہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ تاپم ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ انسانوں پر بھی موثر ہے۔

برطانیہ کے تجربات کی اہمیت

گزشتہ ماہ حکومت برطانیہ کی جانب سے اجازت کے بعد  آکسفورڈ یونیورسٹی نے دو ویکسینوں کو ملا کر ان کی اثر پزیری کو دیکھنے کے لئے کلینکل ٹرائل کا آغاز کیا۔ اس مطالعے کو کووڈ 19 ہیٹرولوگس پرائم بوسٹ سٹڈی کا نام دیا گیا۔ اس مطالعے کے لیے پچاس سال سے زائد 800 رضاکاروں کی خدمت حاصل کی جائے گی۔ یہ مطالعہ ہشت پہلو کلینکل ٹرائل کے ذریعے چار مختلف ویکسینوں کے ملاپ پر مشتمل ہے۔ رضاکار فائزر کی ایک خوراک لیں گے جب کہ دوسری خوراک آسٹرازنیکا کی دی جائے گی یا پھر اس کے الٹ کیا جائے گا۔

ان رضاکاروں کو ویکسین کی دو خوراکوں کے مابین مختلف وقفے سے جانچا جائے گا۔ پہلا وقفہ چار ہفتوں کا ہوگا جبکہ دوسرا وقفہ 12 ہفتوں کا رکھا جائے گا۔ پھر ان رضا کاروں کے خون کے نمونے لیے جائیں گے اور ویکسین  کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس سے ان کی قوت مدافعت پر کیا فرق پڑا ہے۔ مجموعی طور پر یہ مطالعہ 13 ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا جس کا مقصد محض یہ جانچنا ہوگا کہ کیا اب تک تصدیق شدہ دو ویکسینز کو ملا کر استعمال کرنا ایک اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر مہیشی راماسامے سینئیر کلینکل ریسرچر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ان ویکسینوں کی دو خوراکوں کے مابین وقفے کے اثرات کا بھی جائزہ لیں گے۔ اگر نتائج مثبت آئے تو یہ ویکسین کی فراہمی کے مسئلے کو کافی حد تک حل کر دے گا جبکہ یہ امنیت کے حوالے سے بھی اہم قدم ہوگا۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ میں نئے سٹرین کو دیکھا جائے تو امنیت کی نئی حکمت عملی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ویکسینز کے افعال میں بہتری کی اپمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔  اسی طرح ایسی ویکسینز کے انضمام کی روایات موجود ہیں جو ایک ہی بیماری کے لیے دو مختلف طریقےاستعمال کرتی ہیں۔ روسی ساختہ ویکسین سپوتنک کی دو خواراکیں دو طرح کے وائرسز کا استعمال کر کےجنیاتی معلومات آگے پہنچاتی ہیں اور مدافعاتی نظام کو مطلع کرتی ہیں کہ انہیں کرونا وائرس کی پروٹین کی کس سطح کے خلاف ردعمل دینا ہے۔ کلینکل ٹرائلز سے ہہ بات ثابت ہوئی ہے کہ سپوتنک وی ویکسین کی اثرانگیزی 6۔91 فیصد ہےاور اس وقت دنیا کے 56 ممالک یہ ویکسین استعمال کر رہے ہیں۔

روس کے گامالیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جس نے یہ ویکسین تیار کی ہے اس نے ایبولا کی دوخوراکیں تیار کرنے کے لیے یہی طریقہ کار اختیار کیا تھا۔ اسی طریقہ کی بنیاد پر ایڈز کی ویکسین پر بھی کئی تجربات کیے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں گامالیا اور آسٹرازنیکا نے روس اور آذربائیجان میں مشترکہ کلینکل ٹرائلز کا آغاز کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ دونوں ویکسینز ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کیسا کام کرتی ہیں۔تاہم امنیت کے نظام کی پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ بات تاحال سمجھنا مشکل ہے کہ کیا دو ویکسینوں کے ملاپ کو محفظ قرار دیا جاسکتا ہے؟  مینیسوٹا کے مایو کلینک کے ویکسین ریسرچر ڈاکٹر گریگری پولینڈ کا کہنا ہے کہ ہم نے صرف آدھی کہانی کو ماپنا ہے ۔ ایسے میں جب برطانوی ٹرائلز خون میں اینٹی باڈیز کو ماپیں گی یہ بات واضح نہیں ہے کہ اگر صرف اینٹی باڈیز کو بے  اثر کر دیں تو امنیت حاصل کی جاسکتی ہے۔اگر آپ اس کے کسی ایک جزو کو تبدیل کرتے ہیں تو آپ یہ بات ہرگز نہیں جا۔ سکتے کہ اس کی اثر پزیری اور تحفظ برقرار رہا ہے یا نہیں۔ تاہم عالمی وبا کی اس خوفناکی کے دوران اس طرح کی احتیاط ایک آسائش ہو سکتی ہے اور ویکسینوں کاملاپ ناگزیر ہوسکتا ہے۔

جمعرات، 8 اپریل 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے