سرباز خان- عبدالجوشی کی 13 اپریل کو پہلی کوشش رسیوں کے ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ناکام رہی، 14 اپریل کو دوسری کوشش کیمپ 4 (6 ہزار 900 میٹر) پر رسیاں ختم ہونے کی وجہ سے پھر ناکام رہی تاہم پاکستانی ٹیم نے تیسری کوشش کی جس میں وہ کامیاب ہوئے اور جمعہ کے روز ایک بجکر 17 منٹ پر وہ اناپرنا چوٹی پر کھڑے تھے۔

انا پورنا پہاڑ کو پہلی مرتبہ کسی پاکستانی نے سر کیا جو مرحوم پاکستانی کوہ پیما اور ہائی الٹیٹیوڈ پورٹر (ایچ اے پی) محمد علی سدپارہ کے اعزاز میں، مقامی پورٹرز کا اعتراف اور نوجوان نسل کو متاثر کرنا تھا۔

چار رکنی ٹیم رواں ماہ کے آغاز میں نیپال میں دنیا کی 10ویں بلند ترین چوٹی اناپورنا سر کرنے کی کوشش کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

سرباز خان کی سربراہی میں اس مہم میں کوہ پیما عبدالجوشی، منیجر سعد منور اور ‘کامران آن بائیک’ کے نام سے مشہور فوٹو گرافر کامران علی شامل تھے۔

نیپال، چین اور پاکستان میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں موجود ہیں جن کی اونچائی 8 ہزار میٹرز سے زائد ہے۔

جہاں سب سے اونچا پہاڑ ایورسٹ (8 ہزار 848 میٹر) نیپال میں واقع ہے، وہیں پاکستان میں 8 ہزار میٹر والی 5 چوٹیاں ہیں جن میں کے ٹو، گیشربرم 1 اور 2، براڈ پیک اور نانگا پربت شامل ہیں۔

ان 8 ہزار میٹر کی چوٹی پر پہنچنے کے لیے کوہ پیما ‘ڈیتھ زون’ میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ یہاں آکسیجن کا دباؤ سانس لینے کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔

سطح سمندر سے 8 ہزار 91 میٹر (26 ہزار 545 فٹ) بلندی پر انا پورنا ون دنیا کی 10ویں بلند ترین چوٹی ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے خطرناک پہاڑوں میں سے ایک ہے۔

اناپورنا ون کی چڑھائی میں جنوبی حصے میں سیدھی چٹان ہے جو 3 ہزار میٹر (9 ہزار 800 فٹ) کی ہے جس کی وجہ سے یہ دنیا کی مشکل ترین چڑھائیوں میں سے ایک ہے۔

3 جون 1950 کو اناپورنا پہاڑی پر پہلی مرتبہ فرانسیسی کوہ پیما ماریس ہرزگ اور لوئس لاچنال نے پہلی مرتبہ سر کیا تھا۔

پہاڑ سر کرنے کی جستجو

علی آباد، ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سرباز خان نے اپنے پہاڑ سر کرنے کے ماہرانہ کیریئر کا آغاز 2016 میں کیا تھا، وہ نذیر صابر (ایورسٹ پر چڑھنے والے پہلے پاکستانی) اور اشرف امان (کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے والے پہلے پاکستانی) سے متاثر ہیں۔

2019 میں سرباز خان بغیر اضافی آکسیجن کے استعمال کے لہوٹسے پہاڑ کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی بنے تھے جو نیپال میں 8 ہزار 516 میٹر اونچی دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک اور مناسلو سر کر رکھے ہیں۔

پہاڑوں کو سر کرنے کی 4 مہم میں وہ محمد علی سدپارہ کے ہمراہ تھے، ان کی ایک ساتھ آخری مہم نیپال میں مناسلو تک تھی۔

ہنزہ کے علاقے شمشال سے تعلق رکھنے والے عبدالجوشی ایک پیشہ ور کوہ پیما اور ایچ اے پی ہیں۔

وہ پاکستان میں 8 ہزار میٹر کی چوٹیوں کو سر کرنے کی مختلف ممہمات کا حصہ رہے ہیں تاہم یہ ان کی پہلی کامیاب کوشش تھی۔

مبارک باد

معروف کوہ پیما نذیر صابر نے اس کارنامے پر نوجوان کوہ پیماؤں کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کامیابی پر مبارکباد اور محفوظ واپسی کے لیے دعائیں، مجھے امید ہے کہ اس سے اس ملک کے مزید نوجوان متاثر ہوں گے، میں شہروز کاشف کو بھی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں جو اس وقت ماؤنٹ ایورسٹ پر ہیں اور امید ہے کہ وہ چوٹی سر کرلیں گے’۔

ایک مختصر بیان میں الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کے سیکریٹری کرار حیدری نے کہا ‘اے سی پی، اس کے صدر، ایگزیکٹو بورڈ اور اراکین کی جانب سے میں سرباز خان اور عبدالجوشی کی ٹیم کو 10ویں بلند ترین اور مشکل ترین چوٹی اناپورنا سر پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ ایک شاندار کامیابی ہے اور ہم سب کو آپ پر بہت فخر ہے’۔

فیس بک پوسٹ میں اس مہم کے منیجر سعد منور نے لکھا کہ ‘چوٹی پر سبز ہلالی پرچم بلند کردیا گیا، اللہ کے فضل و کرم سے پاکستانی کوہ پیما سرباز خان اور عبد الجوشی نے 16 اپریل 2021 کو ڈیڑھ بجے ماؤنٹ اناپورنا سر کرلیا، ریڈیو سیٹ کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے دونوں کوہ پیماؤں نے قوم کا شکریہ ادا کیا اور سلامتی کے ساتھ واپسی کے لیے دعاؤں کی درخواست کی’۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف دونوں کوہ پیماؤں کی کامیابی نہیں تھی بلکہ پوری پاکستانی کوہ پیما برادری کی کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وقت آگیا ہے کہ ہمارے چھپے ہیروز کو ان کی اصل پہچان اور مقام دیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں’۔

انہوں نے محمد علی سدپارہ کے لیے دلی تعزیت کے ساتھ اپنی پوسٹ کا اختتام کیا۔

سعد منور کا کہنا تھا کہ ‘یہ چوٹی سر کرنا ہمارے بڑے بھائی اور پاکستان میں پیدا ہونے والے اب تک کے سب سے بہترین کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے نام ہے’۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے