یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
فلسطین پر ناجائز ریاست اسرائیل کی طرف سے حملے تیز کر دئیے گئے ہیں جبکہ غزہ کی ناکہ بندی بھی سخت کر دی گئی ہے ۔ غاصب صہیونی ریاست کی طرف سے فلسطین کے آبادی والے علاقوں اور پناہ گزین کیمپ پر بھی حملے کئے جا رہے ہیں جبکہ ایمبولینسز اور امدادی کارکن بھی ان حملوں کی زد میں آئے ہیں ۔اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد3800 سے زائد ہوگئی ہے جبکہ 13ہزار سے زائد زخمی ہیں۔
حالیہ اسرائیلی بمباری سے 3فلسطینی صحافی جاں بحق ہو ئے جبکہ ہفتے کے روز سے جاری بمباری میں اب تک 7صحافی جاں بحق ہوچکے ہیں ۔اقوام متحدہ نے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی سے شہریوں کی بقا خطرے میں آجائے گی۔ادھر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنے اسرائیلی ہم منصب اسحاق ہرزوک سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور حماس کی آڑ میں نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔صدر اردوان نے اسرائیلی صدر پر علاقے میں امن کیلئے دو ریاستی فارمولے پر بھی زور دیا ۔اس قسم کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ غاصب اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کی سرحد پر بارودی سرنگیں بچھا نا شروع کردی ہیں ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کا غزہ کی پٹی کا مکمل محاصرہ جس سے عام شہری زندگی کی بقا کیلئے ضروری اشیا سے محروم ہو جائیں ،عالمی قانون کے تحت ممنوع ہے ۔انسانی حقوق کیلئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے کہا کہ لوگوں کے وقار اور جانوں کا احترام کیاجانا چاہیے۔انہوں نے تمام فریقوں سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتو نیو گو تیر یس نے کہا کہ تقریباً ایک لاکھ 37ہزار افراد اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کو ضروری خدمات فراہم کرنے والی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کے پاس پنا ہ لے رہے ہیں۔
اس پوری صورتحال میں مسلم ممالک اور اقوام متحدہ کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ امریکا سمیت کئی مغربی ممالک آگے بڑھ کر غاصب اسرائیلیوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں ۔ان حالات میں اگر مظلوم فلسطینی اپنے دفاع کیلئے غاصب اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے خلاف مزاحمت بھی نہ کریں تو اور کیا کریں۔اگراقوام متحدہ واقعی اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرانے میں سنجیدگی رکھتی ہے تو اسے بین الاقوامی طور پر مسلمہ دو ریاستی فارمولے پر عملدر آمد یقینی بنانا ہو گا۔
غزہ کا بحران عالمی برادری کی مسلم دشمنی اور استعماری سوچ کی وجہ سے بد سے بدتر ہو تا جا رہا ہے ۔ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ عالمی استعمار خصوصا ًامریکہ کا آلہ کار بن کر رہ جانے والی اقوام متحدہ ایک جانب دنیا کو غزہ میں انسانی المیے کا تماشہ دیکھنے کا طعنہ دے رہی ہے تو دوسری جانب اقوام متحدہ یہی کچھ خود کر رہی ہے ۔غزہ کے اس بحران نے ثابت کر دیا ہے کہ اقوام متحدہ امریکی اور اسرائیلی بلکہ مسلم دشمن دنیا کی آلہ کار اور معاون ہے۔ اختیارات استعمال کر کے اسرائیل کا ہاتھ روکنے کے بجائے صرف واویلا کرنے اور خوف پھیلانے میں مصروف ہے۔سوال یہ ہے کہ اسرائیل امریکی شہ پر انسانیت کا قتل عام کر رہا ہے ،اقوام متحدہ اور اس کے ادارے کہاں ہیں؟ریڈ کراس جو ہر جگہ گھسی پھرتی ہے ،غزہ میں وہ دکھائی کیوں نہیں دے رہی ؟اقوام متحدہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہی۔ المیہ یہ ہے کہ مسلم دشمن ممالک کا کیا گلہ خود عالم اسلام کیا کر رہا ہے ؟ پوری او آئی سی نے بیانات کے سوا اب تک کیا کردار ادا کیا ہے؟ او آئی سی کا اجلاس اس سانحہ کے2ہفتے بعد بلایا گیا ہے ،غالباً انہیں اندازہ ہوگا کہ اس وقت تک اسرائیل غزہ میں قتل عام کر چکا ہو گا۔او آئی سی کو ماتم کرنے کا ایک اچھا موقع مل جائے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ غزہ ہو یا کشمیر یا کوئی اور مظلوم مسلمانو ں کا علاقہ وہاں ہونے والے ظلم و تشدد کے اولین مجرم مسلم ممالک کے حکمران ہیں ۔جو امت کے وسائل پر قابض ہیں ،لیکن امت کے تحفظ اور مفاد میں بیان دینے کے سواکچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔
پوری دنیا میں نصف صد ممالک میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ،جسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہو ۔حد تو یہ ہے کہ پورے مشرق وسطیٰ پر حملوں اور تمام فلسطینیوں کو دشمن قرار دئیے جانے کے باوجود کوئی ایک بھی مسلم ملک اسرائیل کے خلاف عملی اقدام کیلئے سامنے نہیں آیا۔امت مسلمہ کے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ غفلت،کم ہمتی اور مفاد پرستی سے اوپر اٹھنے کی کوشش کریں،ورنہ آج غزہ تو کل کوئی دوسرا اسرائیل کا نشانہ ہوگا۔آج غزہ میں اسرائیل کو روکنا تمام مسلم ممالک کے اپنے مفاد میں ہے۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی المیہ سامنے آرہا ہے اور دنیا تماشا دیکھ رہی ہے۔اسرائیلی فوج محاصرے کے بعد غزہ کیلئے پانی، زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے ۔پناہ گزین ایجنسی کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ اس وقت 2ملین لوگوں کو پانی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی میں مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں ،صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث فلسطینیوں کو گندا پانی پینے پر مجبور کیاجا رہا ہے جس سے بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں ۔دوسری طرف اقوام متحدہ کے امدادی ادارے انر وا کا کہنا ہے کہ غزہ کو کھائی میں دھکیلا جا رہا ہے ۔شمالی غزہ میں رہنے والے 11لاکھ فلسطینیوں کو جنوب کی طرف انخلا کرنے کیلئے کہا گیا ہے جس کے باعث ہزاروں افراد گاڑیوں میں یا پیدل شمالی غزہ کو خالی کرکے جنوبی غزہ کی طرف منتقل ہو رہے ہیں ۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی انروانے کہا کہ غزہ کے شمال کو خالی کرنے کی اسرائیلی دھمکی کے بعد فلسطینیوں کا ایک سیلاب ہے جو شمالی غزہ سے جنوبی غزہ کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ UNRWAکی ڈائریکٹر آف کمیو نیکیشن،جولیٹ ٹومانے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے اب تک کے تجربے ومشاہدے کا بدترین واقعہ ہے ، انتہائی خطرناک اور مایوس کن صورتحال ہے ،غزہ کو ایک کھائی میں دھکیلا جا رہا ہے، غزہ میں انسانی المیہ سامنے آرہا ہے اور دنیا تماشا دیکھ رہی ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں