پاکستان میں 38 فیصد افراط زر یعنی مہنگائی، فاقہ کشی کے باعث والدین کا اپنے بچوں کو قتل کرکے خود کشی کرنا، نوجوان لڑکیوں کے سوشل میڈیا میں مالی امداد کے دلخراش پیغامات، بیروزگاری اور غربت نے ایک عام آدمی کا جینا مشکل بنادیا ہے جبکہ عالمی معاشی بحران نے پوری دنیا میں مہنگائی اور غربت میں اضافہ کیا ہے اور مغرب میں بھی لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اسی دوران اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ دنیا کے 12 امیر ترین افراد نے صرف ایک دن 27 اپریل کو 36 ارب ڈالر کمائے اور اس سال صرف 4 مہینوں میں ان کی دولت میں 264 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں 27 اپریل کو 500 پوائنٹس کے اضافے سے فیس بک اور میٹا کمپنی کے CEO مارک زکربرگ کی دولت میں 42 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ امیزون کے بانی جیف بیزوس اور ٹیسلا کے CEO ایلون مسک کی دولت میں بالترتیب 27 اور 25 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ دولت میں راتوں رات اربوں ڈالر کا اضافہ زیادہ تر آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کی کمپنیوں میں دیکھنے میں آیا۔
16 اکتوبر 2023 کو ’’فوربز انڈیا‘‘ نے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق دنیا کے 10 امیر ترین افراد میں امریکہ سے تعلق رکھنے والے ٹیسلا اور ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک 253 ارب ڈالر،فرانس کے LVMH فیشن برانڈ کے مالک برنارڈ آرنٹ 173 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے، امریکی کمپنی امیزون کے بانی جیف بیزوس153 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے، امریکی کمپنی اوریکل کے مالک لیری ایلسن 138 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے، امریکی کمپنی گوگل کے مالک لیری پیج 115 ارب ڈالر کے ساتھ پانچویں، امریکہ کے وارن بفٹ 115ارب ڈالر کے ساتھ چھٹے، فیس بک کے مالک مارک زگربرگ 112 ارب ڈالر کے ساتھ ساتویں، امریکہ کے سرجی برین 111 ارب ڈالر کے ساتھ آٹھویں، مائیکرو سافٹ کے مالک بل گیٹس 109 ارب ڈالر کے ساتھ نویں اور مائیکرو سافٹ کے ہی اسٹیو بالمر 100 ارب ڈالر کے ساتھ دسویں نمبر پر ہیں جبکہ بھارت کے ریلائنس کے چیئرمین مکیش امبانی 83.4 ارب ڈالر کے ساتھ گیارہویں نمبر پر آتے ہیں۔دنیا میں غربت کے خاتمے کے عالمی ادارے آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق ان 11 امیر ترین شخصیات کی دولت دنیا کی آدھی دولت سے زائد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی آدھی غریب ترین آبادی جس میں زیادہ تر افراد افریقہ، بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، یمن، برما، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا میں رہتے ہیں، سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے، امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے جو دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کا ثبوت ہے۔
دولت جب بے حساب آتی ہے تو پھر اس کی وقعت نہیں رہتی۔ چند روز قبل شائع ہونیوالی ایک خبر کے مطابق دنیا میں سب سے مہنگے پانی کی بوتل کی قیمت ایک کروڑ 73 لاکھ روپے ہے۔ اس پانی کا نام Acquadi Cristallo Tribito a Modigliani ہے اور اسے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے دنیا کا سب سے قیمتی پانی قرار دیا۔ 750 ملی لیٹر پانی کی بوتل 24 قیراط سونے سے بنائی گئی ہے اور پانی میں 5 گرام سونا بھی شامل کیا گیا ہے۔ بوتل کے پانی کا ایک حصہ فرانس میں موسم بہار کے دوران لیا جاتا ہے جبکہ دوسرا حصہ فجی اور تیسرا حصہ آئرلینڈ کے گلیشیر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ بھارت کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کی بیٹی ایشا امبانی کی 2018 میں ہونے والی شادی کے کئی سال سے چرچے ہیں جنہوں نے شادی میں مہمانوں کو لانے کیلئے درجنوں جیٹ اور جیگوار طیارے، مرسڈیز، پورشے اور MBW لگژری گاڑیاں بک کی تھیں جبکہ دنیا کے مہنگے ترین پاپ سنگر بیونسے سمیت بالی ووڈ کے مہنگے ترین اداکاروں کو پرفارمنس کیلئے بک کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ایشا امبانی کی شادی پر 100 ملین ڈالر کے اخراجات آئے۔
آج کل گھڑیاں صرف وقت دیکھنے کیلئے نہیں بلکہ دولت، وقار اور حیثیت کی علامت بھی سمجھی جاتی ہیں۔ مہنگی اور نادر گھڑیاں انمول ہیرے اور جواہرات سے تیار کی جاتی ہیں جن میں ڈائمنڈ ہیلوسی نیشن(DHN) کی قیمت 55 ملین ڈالر ہے جبکہ رولیکس ڈیٹونا (Rolex Detona) مشہور اور مہنگی گھڑیوں میں سے ہیں جو سربراہان مملکت کو تحفتاً پیش کی جاتی ہیں۔ عربی میگزین ’’الرجل‘‘ نے بیش قیمت اور پرتعیش موبائل فونز کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جو سونے سے تیار کئے گئے ہیں اور ان میں ہیرے جڑے ہوئے ہیں ۔ Falcon Nova Iphone6 دنیا کا سب سے مہنگا فون ہے جس کی قیمت 41 ملین ڈالر ہے جسے ایپل نے متعارف کرایا تھا۔ یہ مکمل سونے کا بنا ہوا ہے جس کی پشت پر گلابی رنگ کا بڑا ہیرا جڑا ہے۔ اس موبائل فون کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے مالک کے فون کی معلومات تک پہنچنا ناممکن ہے۔ مکیش امبانی کی اہلیہ نیتا امبانی کے پاس یہ خصوصی فون ہے۔ خلیجی ممالک کے شیخوں اور شہزادوں کو گاڑیوںکی خصوصی نمبر پلیٹس کا شوق ہے۔ حال ہی میں دبئی میں ایک خصوصی P7 نمبر پلیٹ 55 ملین درہم یعنی 15 ملین ڈالر (451 کروڑ روپے) میں نیلام کی گئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے پرتعیش اشیا پر اپنی دولت خرچ کی جبکہ یورپ اور امریکہ کی دولت مند شخصیات نے اپنی فائونڈیشنز کے ذریعے دولت کا بڑا حصہ جامعات، تعلیم، صحت کے ریسرچ سینٹرز اور فلاحی کاموں پر خرچ کی۔دنیا کی ممتاز جامعات ہاورڈ، آکسفورڈ اور کیمبرج بھی اِنہی مخیرحضرات کا وژن ہیں جبکہ بل گیٹس نے پاکستان اور دیگر ممالک میں پولیو خاتمے کی مہم کو اسپانسر کر رکھا ہے جو درحقیقت دولت کا صحیح مصرف ہے۔
یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
شفقنا کا اس تحریر کےمندرجات سےمتفق ہونا ضروری نہہیں