پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا سیاست/ایس اے زاہد

یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
پی ٹی آئی کی سیاست بڑی نرالی ہے۔ سیاسی اصو ل اور معاشرتی حدود وقیود سے اس جماعت کا کوئی تعلق نہیں۔ سیاسی افراتفری، دھرنوں، جلسے جلوسوںمیں ناچ گانے اور توڑ پھوڑ کی موجدیابانی ہونے کا ’’شرف‘‘ اسی جماعت کوحاصل رہا۔ سوشل میڈیا میں مقبولیت کا سہرا بھی اس جماعت کے سر ہے۔ جھوٹی افواہیں پھیلانے، سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کا ’’ اعزاز‘‘ بھی اسے ہی حاصل ہے لیکن اداروں کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کرکے اداروں میں دوری پیدا کرنے، ملک کو بدنام کرنے کی ناپاک کوششیں بھی اسی جماعت نے کیں جو ناکام ہوئیں۔ پی ٹی آئی کی سیاست اور دور اقتدار میں ایک بھی مثبت کام نظر نہیں آتا۔ اسلئے عوام میں تو اس جماعت کی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے البتہ اس پارٹی کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کے جھوٹے پر وپیگنڈے نے کچھ عرصہ تک بعض لوگوں کو گمراہ کیا۔
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے وہ سارے’’ مجاہد‘‘ اب بھگوڑے ہوچکے ہیں۔ ان میںسے کچھ اب بھی بیرون ملک سے اپنی قبیح عادت کے شوق کو پورا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی جو مبینہ طور پر خود سوشل میڈیا ٹیم کا جائزہ لیتے تھے اور ہدایات بھی دیتے تھے زیادہ گند پھیلانے والوں کو شاباش دیتے تھے۔ انکو جو چیز لے ڈوبی اور جس خوش فہمی میں وہ مبتلا ہوئے تھے اس میں بعض قریبی لوگوں کے مشوروں کے علاوہ یہی سوشل میڈیا ٹیم تھی۔ وہ یہ سمجھے تھے کہ وہ واقعی بہت مقبول لیڈر بن گئے ہیں لہٰذاجب چاہیں کسی کو ذلیل ورسوا کرسکتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر وہ سوشل میڈیا پر اپنی تعریفیں اور دوسروں کی پگڑیاں اچھلتی دیکھ کرخود کو ناقابل تسخیر سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہوگئے اسلئے نہ انہوں نے پھر اداروں کی عزت وتکریم اور انکے مقام کو دیکھا نہ ہی ملک کی عزت اور اخلاقی حدود کو ملحوظ خاطر رکھا۔ انکے تمام اندازے غلط اور تدبیریں ناکام ثابت ہوئیں۔ انکے سوشل میڈیا کے لوگ کئی کئی ناموں سے سوشل میڈیا اکائونٹ بناکر چیئرمین پی ٹی آئی کی شب وروز تعریفوں کے پل باندھتے تھے بلکہ محل کھڑے کردیتے تھے۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی ٹیم اور پی ٹی آئی سے وابستہ اخلاقیات سے عاری بعض شوقیہ فنکار بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو خوش فہمی کا شکار بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے تھے اور وہ سمجھ بیٹھے کہ پوری قوم ان کے ساتھ ہے ۔چاہے وہ ملک کو بدنام کریں، معاشی لحاظ سے برباد کریں ، قوم کو اخلاقی پستی میں گرادیں یا اداروں سے عوام کو متنفر کریں ۔اس کاربد کیلئے روزانہ صبح پارٹی ترجمانوں کی میٹنگ ہوتی تھی جس میں گزشتہ روز کی کارگزاری کا جائزہ لیا جاتا تھا اور نئے دن کیلئے چیئرمین کی ہدایات کی روشنی میں نئی ہدایات جاری ہوتی تھیں۔ یہ پی ٹی آئی کی ساری سیاست اور اس پارٹی کے چیئرمین کی مقبولیت تھی۔ وہ یہ سمجھے ہی نہیں کہ ان کی ان حرکتوں سے ملک کی کتنی بدنامی ہوتی ہے اور قوم کو وہ کس اخلاقی پستی میں دھکیل رہے ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں سمجھے کہ سوشل میڈیا کے یہ ’’ مجاہد‘‘ کاغذ کے پھول ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں سمجھے کہ ان کی مقبولیت عوام میں نہیں بلکہ ان ’’ کاغذی مجاہدوں‘‘ کے طفیل ہے۔ آج وہ سب بھگوڑے ہوچکے ہیںاور چیئرمین کہیں اور اپنے تکبر کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان کے مشیر اب دوسری جماعتوں میں شامل ہوکر ان جماعتوں کے قائدین کو اپنے قیمتی مشوروں سے’’ نواز‘‘ رہے ہیں۔ ہم پہلے بھی کہتے رہے کہ پی ٹی آئی کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ یہ پانی کا بلبلہ ہے اور وہی ثابت ہوا۔ اگر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا گروہ میں سچائی اور ہمت ہوتی تو وہ سب کے سب بھگوڑے نہ ہوتے۔
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے نوجوانوں کی بہت بُری تربیت کی، نہ ریاست کی اہمیت نوجوانوں کو سکھائی نہ ہی اخلاقیات اور ملک کو معاشی بدحالی کا ایسا شکار کیا جو سنبھالنے میں عرصہ لگے گا۔ دوسری طرف مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی جو اپنے آپ کو اس ملک اور قوم کا وارث سمجھتی ہیں کہ انکے بغیر ملک کو معاشی دلدل سے نکالنا ممکن ہی نہیں۔ اس کو بھی پروپیگنڈہ کہاجائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی تو الیکشن کو ہی ملک کی معاشی بیماری کی دوا سمجھتی ہے۔ لیکن اصل مقصد یہ نہیں بلکہ میدان کو خالی سمجھ کر اقتدار کے سنگھاسن پر قبضہ کرنا ہے۔ یہی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) انتخابی اصلاحات کو الیکشن سے پہلے لازم گردانتی تھیں کیونکہ ان کے بقول انتخابی اصلاحات کے بغیر شفاف انتخابات ممکن نہیں ہوسکتے۔
اس دوران پی ڈی ایم کی حکومت بھی رہی جس میں دیگر کے علاوہ یہ دونوں جماعتیں اہم حیثیت سےشامل رہیں لیکن انتخابی اصلاحات نہیں کی گئیں اب تو نوبت یہ کہنے کی آگئی ہے کہ الیکشن جلد ازجلد ہونا چاہئے پرانی مردم شماری سے ہی کرالو۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان کا مطالبہ بھی برقرار ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کی طرف جانے کا مطالبہ بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ اسلئے کہ ایک طرف معاشی حالات کی کمزوری ہے دوسری طرف دہشت گردی اور خطے کی بدلتی صورتحال ہے ایسے میں الیکشن کا مطالبہ سمجھ نہیں آتا۔ اگر بالفرض الیکشن ہو بھی جائیں تو کیا ہارنے والی جماعت نتائج کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرلے گی۔ ایسا ہوتا نظر نہیں آتا بلکہ شاید ملک نئی سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کا شکار ہوجائے ۔ نواز شریف نے واپس آکر ملک کو بحران سے نکالنے کے عزم کا اظہار تو کیا ہے لیکن یہ کیسے ہوگا اسکا جواب شاید ان کے پاس بھی نہ ہو ۔ کسی جماعت کے پاس اس بحران کے حل کا کوئی قابل عمل پلان نہیں ہے۔ جب تک نظام تبدیل نہ کیا جائے اور اہل لوگوں کو سامنے نہ لایاجائے اس وقت تک تبدیلی کی امید عبث ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین