پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری؟

یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
پاکستان اسٹیل مل ایک ایسا ادارہ ہے جس کی نجکاری چاہتے ہوئے بھی ممکن نہیں ہو پا رہی گزشتہ دنوں وزیر نجکاری نے اسے ڈیڈ اثاثہ قرار دیتے ہوئے 230ارب روپے کے قریب خسارے کاانکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب اس ادارے کی نجکاری ہوسکتی ہے نہ ہی بحالی۔ پاکستان اسٹیل مل جو انیس ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے جسے ملکی اسٹیل کی ضروریات پوری کرنے اور زرمبادلہ میں اضافہ کیلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ بوجوہ قومی خزانے پر بھاری بوجھ بن گئی۔
تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ بند اسٹیل مل پر بھی سالانہ 130ارب روپے کے اخراجات آرہے ہیں اور اس کا کوئی خریدار نہیں مل سکا جس کے بعد اسے نجکاری کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ سیکرٹری نجکاری ڈویژن نے یہ تمام تفصیلات سینٹ کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار کے اجلاس میںپیش کردی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال اسٹیل مل کے مالی نقصانات 206ارب تھے اور اس کی بحالی کیلئے 58 کروڑ 40 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ سالانہ تیس لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کیلئے 1.4ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ پاکستان اسٹیل مل کے چیف فنانشل آفیسر کی بریفنگ کے مطابق ادارے نے حکومت پاکستان سے 110ارب روپے قرض لیا
جس کے بعد حکومت کو سالانہ 18 ارب روپے سود کی مد میں ادا ہوتے ہیں۔ 2.5ارب روپے سالانہ تنخواہوں کی مد میں اور سالانہ پانچ ارب روپے کے یوٹیلیٹی چارجز ہیں۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پاکستان اسٹیل مل کے 5623ملازمین کو نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ کمیٹی کے ایک ممبر نے الزام بھی لگایا کہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں کیا جاتا، بس بریفنگ دے دی جاتی ہے، چار پانچ لوگ ہیں اور وہ اسٹیل مل کا سکریپ بھی بیچتے ہیں۔ 1994میں بھی اسٹیل مل کی نجکاری سپریم کورٹ نے روک دی تھی۔ یہ ادارہ اس حالت میں کیوں اور کیسے پہنچا، ان عوامل کو بھی قوم کے سامنے لایا جانا چاہئے اور اس میں ملوث تمام کرداربے نقاب ہونے چاہئیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین