یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جمعرات کو شروع ہونے والے مذاکرات میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے پورے مالی سال 2023-24ء کیلئے مالیاتی فریم ورک کے استحکام کے حوالے سے جہاں بعض سوالات اٹھائے گئے ہیں وہیں اقتصادی استحکام کے حصول کیلئے مستقل مزاجی کے راستے پر سفر جاری رکھنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔ بات چیت کا پہلا دور تکنیکی نوعیت کے امور سے تعلق رکھتا ہے۔ دونوں وفود کے درمیان2نومبر سے شروع ہونے والا یہ دور 10نومبر 2022ء تک جاری رہیگا جبکہ پالیسی سطح کی بات چیت 13 سے 16نومبر تک ہوگی۔
بات چیت میں نگراں حکومت کی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر اور آئی ایم ایف مشن برائے پاکستان کے سربراہ ناتھن پورٹر نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔ مذاکرات میں جولائی سے شروع ہونے والے نوماہی قرض پروگرام کی پہلی سہ ماہی کارکردگی کا جائزہ لیاگیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک جانب بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اپنی شرائط کی تکمیل چاہے گا دوسری جانب پاکستان اپنی معیشت کے دوررس استحکام کیلئے سخت فیصلوں سے گریز نہیں کریگا۔ تکنیکی سطح کے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس ریونیو امکانات کے حوالے سے تفصیلات بھی طلب کیں کہ طے شدہ بجٹ ہدف 90.4کھرب روپے کیسے اکٹھے کئے جائینگے۔
بات چیت کے دوسرے مرحلے یعنی پالیسی لیول مذاکرات میں مالیاتی ادارہ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کو حتمی شکل دینے کے لئے اپنی تجاویز لائے گا۔ فریقین کے درمیان اسٹاف لیول پر سمجھوتہ ہونے کی صورت میں اسلام آبا د کو قرض پروگرام سے700ملین ڈالر کی امداد مل سکے گی ۔ نوماہ کی مدت کیلئے جاری قرض پروگرام جولائی سے شروع ہوا ہے او ر مارچ2024ء تک جاری رہیگا۔ توقع کی جاتی ہے کہ جاری مذاکرات کامیاب ہونگے۔ اور قرض پروگرام عمدگی سے آگے بڑھے گا۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں