اسموگ سے بچاؤ اور تدارک

اس وقت وسطی پنجاب کے اضلاع فضائی آلودگی کے باعث شہری زندگی کیلئے پرخطر بنے ہوئے ہیں، بچے بڑے بوڑھے سانس اور ناک کان گلے کے امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں،کم و بیش دودہائیوں سے مسلسل ہونے والے اضافے کو دیکھتے ہوئے صحت کے عالمی ادارے بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔لاہور اور پنجاب کے دوسرے گنجان آباد شہروں کو آئے دن آلودہ ترین قرار دینا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم پر مشتمل بینچ نے جمعہ کے روز ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے صوبے میں آلودگی پھیلانے والی فیکٹریاں سیل کرنے اور کالا دھواں چھوڑنے کے تدارک کی یقین دہانی بیان حلفی کی صورت میں جمع کرانے تک انھیں ڈی سیل نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔اس حوالے سے صوبے میں ضلعی سطح پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرنے اور انھیں بھاری جرمانوں کے احکامات ہیں لیکن یہ سب عمل درآمد نہ ہونے کی حد تک دکھائی دیتا ہے۔ شہر قائد سمیت صوبہ سندھ کے بڑے شہروں اورخیبر پختونخوا کےدارالحکومت پشاور میں بھی صفائی کی صورتحال اچھی نہیں ۔
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق لاہور اسموگ کی شرح 447پارلٹیکولیٹ میٹرز کے لحاظ سے پہلے جبکہ بھارتی دارالحکومت دہلی 403پارلٹیکولیٹ میٹرز کے ساتھ خطے میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے رجحان میں 740فیصد اضافہ تشویشناک ہے اور لاہور میں اسموگ بڑھنے کی وجہ بھی یہی ہے۔اسموگ والے علاقوں میں معمولات زندگی شدید متاثر ہونے لگے ہیں طبی ماہرین اس سے بچائو کیلئے ماسک کا استعمال یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں جس پر عملدرآمد کیلئے انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ،تاہم اسموگ کا تدارک بنیادی شرط ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین