‘تاریک کائنات’ کے راز جاننے کیلئے بھیجی جانے والی ٹیلی اسکوپ کی اولین تصاویر جاری

یوکلڈ اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنی اولین تصاویر زمین پر واپس بھیجی ہیں۔
اس ٹیلی اسکوپ کا مشن ‘تاریک کائنات (ڈارک یونیورس)’ کے راز افشا کرنا ہے۔
ایک ارب یورو سے زائد کی لاگت سے تیار کی جانے والی یہ ٹیلی اسکوپ اپنے مشن کے دوران تاریک مادے (ڈارک میٹر) اور تاریک توانائی (ڈارک انرجی) پر توجہ مرکوز کرے گی۔

واضح رہے کہ تاریک مادہ کہکشاؤں میں موجود ایسا مادہ ہوتا ہے جو نہ روشنی منعکس کرتا ہے، نہ کسی اور قسم کی توانائی، اس کی موجودگی کا احساس کشش ثقل کے اثرات سے ہوتا ہے۔

 

تاریک مادہ انسانوں کے لیے نادیدہ ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ کائنات کا 85 فیصد مادہ اس پر مشتمل ہے۔
یورپین اسپیس ایجنسی کی اس اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اولین تصاویر میں Perseus نامی کہکشاؤں کے جھرمٹ اور ہارس ہیڈ نیوبلا کو دکھایا گیا ہے۔
درحقیقت ایک تصویر میں ہی ایک لاکھ کہکشائیں موجود ہیں، جس سے ٹیلی اسکوپ کی خلا میں وسیع منظر کے مشاہدے کی صلاحیت ثابت ہوتی ہے۔
اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سائنسدان اب تک کا سب سے بڑا 3 ڈی کائناتی نقشہ تیار کرنے کے خواہشمند ہیں۔
اس نقشے سے ماہرین کو تاریک مادے کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی اور یہ معلوم ہوگا کہ کائنات کی ابتدا میں تاریک توانائی نے کس حد تک اثرات مرتب کیے۔
یورپین اسپیس ایجنسی کی ایک ڈائریکٹر پروفیسر کیرول مینڈول نے بتایا کہ جولائی 2023 میں بھیجا گیا مشن کائنات کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک بس یہ جان سکے ہیں کہ کائنات کا 5 فیصد حصہ کیسے کام کرتا ہے اور ابھی 95 فیصد کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم خود تو کائنات کی سرحد تک جاکر تحقیق نہیں کر سکتے، مگر ایک ارب 40 کروڑ یورو کی لاگت سے تیار ہونے والی یہ ٹیلی اسکوپ ہمارے علم میں اضافہ کرے گی۔
Share This Article

تازه ترین