بلوچستان اور ن لیگ دونوں کی بد نامی
تجزیہ کار عرفان سعید کہتے ہیں ’نواز شریف کبھی دعوے کرتے تھے کہ جنہوں نے پارٹی اور نظریات کو نقصان پہنچایا انہیں کبھی نہیں لیں گے۔ اسی طرح ن لیگ باپ پارٹی پر بہت زیادہ تنقید کرتی تھی جو لوگ نواز شریف کو غدار کہتے تھے لیکن آج ن لیگ نے ان سب کو اپنی صفوں میں شامل کر لیا ہےجس سے ان کی جماعت کی ساکھ اور بیانیے کو نقصان پہنچا ہے۔‘
عرفان سعید کے مطابق یہ سیاست کا المیہ ہے اور اس سے ن لیگ اور بلوچستان دونوں کی بدنامی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی اے پی سمیت مختلف جماعتوں سے ن لیگ میں جانے والے یہ افراد مشکل وقت میں ایک بار پھر ن لیگ کا ساتھ چھوڑنے میں دیر نہیں کریں گے۔ ان کے بقول اس کا انحصار ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات پر ہوگا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر تبصرہ کیا ہے کہ ’میاں نواز شریف سے جب بھی ملوں گا ان سے یہ لازمی کہوں گا جن پرندوں کو آپ نے کل پنجرے میں قید کیا یہ وہ پرندے ہیں جو جس آشیانے میں جاتے ہیں اسے اجاڑ کر واپس آتے ہیں۔ یہ ایسے پرندے نہیں کہ جن سے خیر کی توقع کی جاسکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے یہ لوگ محمد علی جناح، لیاقت علی خان، ایوب خان، یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، پرویز مشرف، بے نظیر بھٹو اور آپ کے ساتھ تھے اب واپس آپ کے پاس آرہے ہیں۔ یہ ایور گرین سیاستدان پاکستان بننے سے لے کر اب تک ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں