یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
اقتدار کی مدت مختصر ہونے کے باوجودملکی معیشت کی بحالی کیلئے نگران حکومت مسلسل تگ و دو کر رہی ہے۔ خاص طور پر مہنگائی کا زور ٹوٹا اور سٹاک ایکسچینج کے کاروبار میں بہتری آئی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بڑھتی ہوئی ناقدری بھی کسی قدر کم ہوئی ہے۔ تاہم معاشی ابتری روکنے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اس سلسلے میں اگلے ما ہ دبئی میں وسط ایشیا کے ممالک کو بجلی برآمد کرنے کیلئے متوقع مذاکرات بہت اہم ہیں۔ اگرچہ موسم گرما میں اندرون ملک بجلی کی بے تحاشا لوڈشیڈنگ اور نرخوں میں آئے روز اضافے کی موجود گی میں بجلی برآمد کرنے کی بات عجیب لگتی ہے لیکن موسم سرما میں بجلی کی کھپت کم ہونے کی وجہ سے اکتوبر سے اپریل کے دوران پاکستان کے پاس بجلی سرپلس ہو جاتی ہے جسے 1000ٹرانسمیشن سسٹم کے انفراسٹرکچر کے ذریعے وسط ایشیائی ممالک کو بجلی فروخت کی جا سکتی ہے۔
دبئی مذاکرات میں وسط ایشیا کے ممالک کرغزستان ، تاجکستان، ازبکستان اور قازقستان کے علاوہ عالمی بینک کے تکنیکی سطح کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس موقع پر پاکستان سے برآمدکی جانے والی بجلی کی مقدار اور نرخ کے حوالے سے تفصیلات طے کی جائیں گی۔ کاسا پراجیکٹ کے ذریعے بجلی برآمد کرنے کے آپشن پر نگران وزیر توانائی کی قیادت میں پاکستانی وفد کی کرغزستان سے ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے جسے دبئی مذاکرات میں آگے بڑھایا جائے گا۔پاکستان اس وقت برآمدی تجارت کے زبردست خسارے کا شکار ہے۔ درآمدات کی لاگت برآمدات سے کہیں زیادہ ہے۔ کچھ دوسرے منفی عوامل بھی ہیں جن کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیںاور بیرونی ادائیگیوں کیلئے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کیلئے روایتی برآمدات کے علاوہ کئی اضافی اشیا برآمد کرنے کے امکانات تلاش کرنے چاہئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان حلال گوشت اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات سے سالانہ 150ارب روپے سے زائد کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ حلال خوراک کی عالمی مارکیٹ کا حجم 3 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں پاکستان کیلئے بڑی منڈیاں دستیاب ہیں جن سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ 50ارب روپے سے زائد کے زندہ جانور قربانی کیلئے سعودی عرب برآمد کرنے کی گنجائش ہے۔
سعودی عرب کے علاوہ سب سے زیادہ حلال گوشت درآمد کرنے والے ممالک میں ملائشیا، متحدہ عرب امارات،انڈونیشیا اور مصر سرفہرست ہیں۔ ان ممالک کو برازیل، بھارت،آسٹریلیا، فرانس اور چین حلال گوشت برآمد کرتے ہیں۔پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے ٹیکس کم اور مراعات میں اضافہ پر توجہ دینا ہو گی۔ وفاقی مشیر خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کی یہ تجویز بھی بہت اچھی ہے کہ پاکستان کو ہنر مند افرادی قوت اور بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور ریٹیل سیکٹر کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔
اس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکتا ہے جو اس وقت پاکستا ن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہی ہمارے معاشی مسائل کا حل ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں تیزی آ گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے اضافی چینی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے سے ملک کو کثیر زرمبادلہ مل سکتا ہے۔ گنے کی بمپر فصل ہونے کی بدولت شوگر انڈسٹری حکومت سے ایک ارب ڈالر کی اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت طلب کر رہی ہے ۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ برآمد کی بجائے ہم چینی درآمد کر رہے ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے درپیش رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔ معاشی بحالی کیلئے ایسے اقدامات انتہائی ناگزیر ہیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں