’پی ٹی آئی نے اپنا آئین خود معطل کیا‘
سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف دراصل خود تکنیکی طور پر پھنس چکی ہے۔ ’عمران خان نے اپنے دور حکومت میں پارٹی کا آئین خود معطل کیا تھا تاکہ کچھ عہدے داروں کو نکالا جائے۔‘
’اس کے بعد الیکشن کمیشن نے انہیں کئی بار پارٹی انتخابات کرانے کو کہا لیکن الیکشن نہیں کروائے گئے۔‘
’سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں‘
سلمان غنی نے کہا کہ ’پاکستان میں جمہوریت کے مستحکم نہ ہونے کی بڑی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں عام انتخابات میں تو شفافیت کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن خود اپنی جماعتوں کے اندر یہ جمہوریت نہیں چاہتیں۔‘
’اس وقت عمران خان یا ان کی جماعت کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے۔ ماضی قریب میں یہی نواز شریف کے ساتھ ہو چکا ہے۔‘
’نواز شریف کو نہ صرف عدالتی فیصلوں کے ذریعے نااہل قرار دیا گیا بلکہ اپنی سیاسی جماعت کی سربراہی سے بھی روک دیا گیا تھا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اس سب کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی سیاسی رہنما کو ایسی صورت حال میں غیرمتعلق نہیں کیا جا سکتا۔‘
’عمران خان ہوں یا نواز شریف، پارٹی کے عہدے ہونے یا نہ ہونے سے اِن کی سیاسی حیثیت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں