حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کا جو مقام و منزلت ھے وہ خود انکی شخصیت کی وجہ سے ہے اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی بیٹی ہیں کیوں اس لیے کہ جیسا کہ مشہور ہے انکی اور بھی بیٹیاں تھیں اور اسی طرح آپکی یہ مقام و منزلت اس وجہ سے بھی نہیں تھی کہ آپ حضرت امیر المومنین علیہ السلام اور شیعوں کہ پہلے امام کی زوجہ تھیں کیوں اس لیے کہ امام کی متعدد زوجہ تھیں ۔دوسرے اماموں کی بھی متعدد زوجہ ہوتی تھیں پھر بھی کسی نے حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کا مقام حاصل نھیں کیا۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم
جو تقوی اور مقام حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے لیے ہم کو ملتا ہے اس کا دوسری خواتین میں ملنا ممکن نھیں ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ آپ سیدہ نساء العالمین ہیں کیوں اس لیے کہ زیارت نامہ حضرت زہرا کے مطابق آپ نے پہلے ہی امتحان اور آزمایش سے گذر چکی ہیں اور اسی طرح آپ کے فضیلتوں کی ایک وجہ یہ ہیکہ آپ نے ولایت و امامت کا دفاع کیا ہےا
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی یہ عظیم قربانی تھی کہ خود کو اپنے اولاد کو مولا علی کے راہ میں قربان کیایہ انکا خلوص تھا ۔جوانی کے سن میں اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا اور شہید بھی ہوگئیں ۔
اور ہم اسکے جواب میں یہ کہیں گے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا شہید نھیں ہوئ ہیں ،آیا ممکن ہے حضرت زہرا جیسی شخصیت کہ جن کی عمر ۱۸ سال کی ہی رہی ہو اور وہ طبیعی موت میں اس دنیا سے چلی جائیں ؟؟؟
جب انسان روایات کی تحقیق کرتا ہے تو اس بات کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ۷۵ روز یا ۹۵ روز کے درمیان حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا جسم اقدس پانی ہوگیا تھا۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پیامبر اسلام ﷺ کی شہادت اور ثقیفہ کے واقعے کے بعد متعدد اقدام مولا علی کے ولایت کو ثابت کرنے کیلئے انجام دیا۔ان میں سے ایک اثباتی یہ ہیکہ آپ نے خطبہ فدک کی تلاوت فرماکر حقیت کی طرف سب کو متوجہ کرایا ۔یا وہ مقام جہاں آپ نے فدک کو واپس لینے کیلئے قدم آگے بڑھایا ،
یہاں پر اس بات کی توضیح دیدینا مناسب ہوگا کہ آخر فدک کونسی چیز ہے ؟ اور کیوں فدک اس قدر مہم اور ہماری گفتگو کا محور بنا رہتا ہے ؟؟ حضرات معصومین علیہم السلام کیلیے فدک تبلیغی ذریعہ تھا اور اس کے علاوہ اگر فدک معصؤمین علیہم السلام کے اختیار میں ہوتا تو حکومت ا ور دین کے ترقی کا سبب بنتا اور امیر المومنین علیہ السلام حکومت کی رہبری اور اچھی طریقے سے انجام دیتے کیوں اسلئے کہ انسان پیسہ اور درہم و دینار کا غلام ہوتا ہے۔
اور آپ خود اس چیز کی طرف متوجہ ہوسکتے ہیں کہ جب علی علیہ السلام کی مالی حالت بہتر نہ تھی تو لوگ بھی انکی طرف اہمیت نہیں دیتے تھے اسلئے اس زمانے کے حکومت کی یہ کوشش تھی کہ امام علی علیہ السلام کو مالی حالات سے کمزور رکھا جائے۔لہذا یہ وجہ تھی کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے فدک کو واپس لینے کیلئے قدم بڑ ھایا تھا اور بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ھے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا فدک کو واپس لینے کا اقدام،امیر المومنین علیہ السلام کے حکم سے تھا۔یعنی امام علی نے جب ضرورت سمجھا تو حضرت زہرا سے فرمایا اور آپ نے اقدام فرمایا۔
اسی طرح امام علی علیہ السلام کے کہنے پر جناب زہرا نے مسجد میں خطبہ ارشاد فرمایا۔ واقعا انسان تعجب میں پڑ جاتا ہے جب اس خطبہ کا بغور مطالعہ کرتا ہے ، کیوں اسلئے کہ کس قدر اس خطبہ میں قدرت الہی کو بیان کیا گیا ہے جیسے خدا کے احکام اور عقائد میں مہم مسائل اور تاریخی گفتگو وغیرہ بیان کی گئ ہیں۔
دوسرا مقابلہ جو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف سے اس وقت تھا جب آپ بیمار ہوئیں اور لوگ گروہ گروہ عیادت کیلئے آرہے تھے اور احوال پرسی کر رہے تھے اور بات یہان تک پہونچ گئی کہ حکومت اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرنے لگی کہ سب کے سب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے عیادت کیلئے جا رہے ہیں اور کوئ ہم کو جانے کی اجازت نہیں دے رہا کیوں اسلئے کہ جتنے افراد عیادت کیلئے جاتے ھیں حضرت زہرا پنی مظلومیت کو بیان کرتی ہیں اور اس طرح ہمارا ظلم لوگوں پر آشکار ہوتا جا رہا ہے ، یہ چیز حکومت وقت پر بہت سخت گذر رہی تھی جو قابل برداشت نہ تھی۔
اس کے بعد جب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے محسوس کیا کہ خطبہ کا بہت اثر نہ پڑا تو آپ نے دوسرا طریقہ ظالموں کے مقابلہ میں اپنایا اور وہ راستہ گریہ و زاری کا راستہ تھا آپ کے گریہ نے مدینہ جیسے شہر کو حرکت میں لا دیا اور حکومت وقت لرز سی گئی کیوں اسلئے کہ سب یہ کہنے لگے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ایک نشانی جو انکی بیٹی تھی وہ دن رات کیوں گریہ کر رہی ہیں آخر حکومت نے کون ساظلم کیا ہے ؟؟ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے اس طریقہ نے ابوبکر کے حکومت کیلئے سب سے زیادہ خطرے کا سبب بنا تھا۔
اسی طرح حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا اقدام ظالم حکومت کیلئے یہ بھی تھا کہ آپ نے امام علی سے وصیت ارشاد فرمائی کہ ہمیں رات کی تاریکی میں دفن کیجئے گا رات میں ہی نماز ادا کیجئے گا رات میں ہی کفن دیجئے گا اے علی !!
حقیقت میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا ایک سیاسی وصیت نامہ تھا اسلئے کہ آج ۱۴۰۰ سو سال گذر گئے پھر بھی لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ آخر کیا وجہ تھی کہ حضرت زہرا کو رات کی تاریکی میں دفن کیا گیا جبکہ وہ پیغمبر اسلا م کی اکلوتی بیٹی تھیں !! آخر کیوں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے کسی کو اپنے تشیع جنازہ میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی تھیں ؟؟ حضرت زہرا کی قبر کیوں مخفی رکھی گئی ہے ؟؟ شاید تاریخ میں ان سوالوں کو باقی رکھنے کیلئے ارشاد فرمایا تھا کہ رات کی تاریکی میں غسل دینا کفن پہنانا اور دفن کرنا اور اور صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا کہ جس نے ہم کو اور میرے مولا امیر المومنین کو اذیت پہونچائی ہے وہ میرے جنازہ میں شامل نہ ہونے پائیں ! شاید حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی وصیت کا اشارہ آج کے اس زمانے کیلئے ہو کہ ھم بھی اپنے امام کے حق کو ضایع نہ کریں۔
ہمارے اماموں نے بزرگوں اور مجتہد لوگوں نے ۱۴۰۰ تک محنت کی ہے اور زحمتیں برداشت کی ہیں کہ اس ملک کو اور دوسرے ممالک کو امیر المومنین کا چاہنے اور محبت کرنے والا بنایا ہےلیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے بچوں کی اس طرح پرورش کی جا رہی ہے کہ گویا ہمارا امام علی علیہ السلام سے کوئی واسطہ ہی نہیں ،حقیقت میں ہمارا ایسا کرنا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی زحمات اور کوششوں کو نظر انداز کرنا ہے اور یہ واقعا ہمارے لئے افسوس کا مقام ہے۔
کچھ سال پہلے مشہد کے اطراف کے شہر میں تقریبا ۳۰۰ شیعہ افراد نے مسیحی مذھب کو اختیار کر لیا،آج کے زمانے میں تکفیری اور وہابی گروہ بہت شدت کے ساتھ شیعہ مذہب کے خلاف تبلیغ کر رہے ہیں اور پیسہ کے ذریعہ شیعہ جوانوں کو خرید رہے ہیں اور ہر جگہ اپنی فعالیت تیزی کہ ساتھ پھیلا رہے ہیں۔ چند سال پہلے ایک ماں نے ہم کو فون کیا کہ میرا بیٹا سنی ہوگیا ہے ہم کیا کریں ؟؟؟ ہم نے کہا کیا وہ یہ نہیں جانتا ہے کی غدیر میں کیا واقعہ پیش آیا تھا ؟؟ ماں نے کہا وہ بولتا ہے یہ سب جھوٹ ہے !!خود اہل سنت حضرات اس چیز کا انکار نہیں کر پائے غدیر کہ واقعہ کو اور نہیں کہہ پائے کہ یہ سب جھوٹ ہے لیکن یہ دشمن نے کس طرح سے تبلیغ کی ہے ہمارے اور آپ کے بچے یہ آسانی سے کہہ دے رہے ہیں کی یہ سب جھوٹ ہے اور ہم غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں۔
خدا وند سے دعا گو ہیں کہ ہمیں مردم کی ہدایت اور مقصد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو آگے بڑھانے میں اپنے قدم و قلم کے ذریعہ توفیق عنایت فرما۔ آمین
شفقنا اردو