حضرت مولانا کا معاملہ ان سب سے الگ ہے گو کہ ان کے صاحبزادے بھی ان کی گدی پر متمکن ہو چکے، لیکن ان کی سیاست مخصوص حلقوں تک محدود ہے انہیں حصہ بقدر جثہ سمیٹنے میں ہی عافیت ہو گی۔
رہ گیا یہ سوال کہ پھر الیکشن ہوں گے یا نہیں تو دستیاب جانکاری ان گنت چنگاریوں کی وجہ سے اب دہکنا شروع ہو چکی، تگڑا امیدوار باقی نہ بچے، بچے تو انتخاب نہ لڑ سکے، میدان کی ہمواری مرضی کی ہو، وگرنہ درخواستیں عدالتوں میں آنا شروع ہو چکیں کہ امن و امان کا خدشہ ہے، فنڈز دستیاب نہیں اور یہ کہ مزید مہلت دی جائے۔ لیکن اس بیچ یاد رہے کہ بین الاقوامی حلقے اور ان سے ریاستی سطح پر ہوئے عہدوپیمان اب ہمیں مزید تاخیر کی اجازت نہیں دیتے۔
رہ گئی بات کسی تیسری آپشن کی تو جان لیجیے کہ ایسی کوئی بھی آپشن ان حالات میں قابل عمل نہیں رہی کیونکہ تیسری آپشن کا جواز پاکستان میں جب بھی کھلا ہم کسی نہ کسی جنگ میں تھے یا کسی نہ کسی جنگ میں جانے والے تھے، ایسے میں ڈالر ان فلو ہوتا رہا اور تیسری آپشن کا جواز سالہا سال توانا رہا۔ تاہم اب ایسا نہیں ہے۔
لہذا یا تو اسی سپیڈ اور حساب کتاب سے انتخابات میں جانا پڑے گا یا پھر کسی حادثے کا انتظار۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں