ان کے مطابق ان کے حریف مولانا فضل الرحمان بھی اس صورتحال سے متفکر ہیں۔
تاہم زاہد حسین کے مطابق ’انتخابات کے اتنے قریب آ کر محض دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے ملتوی کرنے کا جواز نہیں ہے۔‘
پاکستان میں دہشت گردی ’افغانستان کی متوازی پالیسیوں کا شاخسانہ‘
یو ایس آئی پی کی تحقیقی رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے سینیئر ایکسپرٹ اسفندیار میر انسداد دہشت گردی سینٹر کے اینڈریو واٹکنس کے ایک مقالے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’پاکستان میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی کارروائیاں افغانستان کے اندر طالبان میں دو متوازی پالیسی حلقوں قومی تعمیر اور جہادی نظریے کا شاخسانہ بھی ہو سکتی ہیں۔‘
اینڈریو واٹسن کے استدلال کے مطابق افغانستان کے اندر ابھی تک موجود جہادی کیمپ نہ صرف افغانستان کے اندر موجود غیر ملکی جنگجووں کی حفاظت کا داعی ہے بلکہ ان کی مہموں کی مدد کا بھی قائل ہے جبکہ قومی تعمیر کا علمبردار حلقہ علاقائی اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے افغانستان کی معیشت اور ملکی استحکام کا خواہاں ہے۔ ان دو حلقوں کی آپسی کشمکش نے گذشتہ دو سالوں کے دوران ٹی ٹی پی کی مدد اور پاکستان کو تعاون کی یقین دہانیوں کی دوغلی پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے۔
’گذشتہ ایک سال میں قومی تعمیر کے حلقے کے تعلقات بھی پاکستان سے خراب ہوئے ہیں جس کی وجہ ان کا یہ سمجھنا کہ پاکستان کا غیرقانونی افغان شہریوں کو واپس بھجوانا طالبان حکومت کو کمتر بنانے کی سازش ہے اور یہ کہ پاکستان نے اقتصادی امور میں ان کی توقعات پوری نہیں کیں۔‘
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں