یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد ایک اہم چیلنج رہا ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت نے معاشی بحالی کا منصوبہ ترتیب دیا جس کا مقصد ملک کو درپیش معاشی مسائل سے نجات دلانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ حکومت کی درست پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی بحالی کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لئے پندرہ کروڑ کی فنانسنگ کی ہے۔
آئی ایم ایف سے معاہدہ بھی مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں معاون ثات ہو رہا ہے۔ اب پاکستان کے لئے دوست ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کی راہیں کھل گئی ہیں۔ ریکوڈک معاہدے میں پاکستان کے شراکت دار کی حیثیت سے سعودی عرب کی سرمایہ کاری،متحدہ عرب امارات اور کویت کے ساتھ اربوں ڈالر کے سمجھوتوں کی شکل میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی حالیہ کامیابیاں روشن مستقبل کی نوید ہیں کہ ملک دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے۔
ایک تاریخی پیش رفت میں سعودیہ کی سرکاری کمپنی آرامکو نے جو دنیا کی معروف توانائی اور کیمیکل کمپنیوں میں سے ایک ہے۔پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرتے ہوئے گیس اینڈ آئل کمپنی ’’جی او‘‘ کے 40 فیصد حصص خرید لئے ہیں۔ آرامکو نے پاکستان میں ریٹیل ایندھن کی مارکیٹ میں پہلا قدم رکھا ہے۔ جی او کے مطابق اس کے پاس 1100 سے زیادہ رٹیل آئوٹ لیٹس کا نیٹ ورک ہے جو پٹرول، ڈیزل اور لبریکنٹس فراہم کرتے ہیں۔ یہ معاہدہ بشمول ریگولیٹری منظوری روایتی شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ جی او کے ریٹیل اسٹیشنز کے ذریعے آرامکو اپنی ریفائنڈ مصنوعات فروخت کرے گی۔ آ رامکو کے صدر محمد بن یحیٰ القحطانی نے جی او کے حصص خریدنے کو ایک بڑا اقدام قرار دیا ہے۔ توقع ہے کہ اس طرح کے لین دین سے بڑی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوں گی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں