2024 کے صدارتی انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے سامنے آنے کو وقت، یہ امریکی انتخابی عمل کے ایک حصے پر نظرثانی کرنے کا اچھا وقت ہے جو خاص طور پر موجودہ سٹیٹس کو کو بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
1987 میں امریکی جمہوریت کے دھوکہ بازی کے سفر پر ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ امریکی صدارتی مباحثوں کی سرپرستی کرنے والی لیگ آف ویمن ووٹرز (LWV) کے بجائے، جو کہ خواتین 1976 سے بغیر کسی رکاوٹ کےکرتی رہی تھیں، جارج ایچ ڈبلیوبش اور مایئکل ڈوکاکس کی انتخابی مہم کی ٹیموں نے بند دروازوں کے پیچھے ایک ” مفاہمتی یاداشت ” پر اتفاق کیا جو انہیں کئی اہم مسائل پر فیصلہ کرنے کا اختیار دے گا، بشمول اس امر کے کہ امیدوار مباحثوں میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں، کون سے افراد پینلسٹ کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔
اس طرح کمیشن آن پریزیڈنشیل ڈیبیٹس (CPD)یا صدارتی مباحث کے کمیشن کا جنم ہوا، جو ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹیوں کے مشترکہ کنٹرول میں قائم ایک غیر منفعتی کارپوریشن ہے، جو یہ قانون وضع کرتا ہے کہ ٹیلیویژن پر ہونے والے مباحثوں میں کون حصہ لے سکتا ہے۔ جی ہاں، آپ نے اسے صحیح پڑھا۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے، جنہوں نے خانہ جنگی کے بعد سے وائٹ ہاؤس کا دو شاخہ لطف اٹھایا ہے (خاص طور پر 1869 میں ریپبلکن صدر یولیس ایس گرانٹ کے انتخاب کے ساتھ)، نے اپنے آپ کو یہ اختیار دیا کہ وہ تمام ممکنہ دعویداروں کو اپنے قابو میں رکھیں او راس بات کا تعین کریں کہ امیدواروں کو ایک فاصلے پر رکھیں۔ یہ تھوڑا سا ایسا ہی ہے جیسے مس پنسلوانیا اور مس نیو یارک اس بات کا تعین کرنے کے لئے ٹیم بنا رہے ہیں کہ سالانہ مس امریکہ بیوٹی مقابلہ میں کون اہل ہو سکتا ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ ملک میں کئی آوازوں نے اس تبدیلی پر غم و غصے کا اظہار کیا۔
ایل ڈبلیو وی کی صدر نینسی ایم نیومن نے ایک خبر میں کہا، "لیگ آف ویمن ووٹرز صدارتی مباحثے کی اپنی سرپرستی واپس لے رہی ہے… کیونکہ دو مہم باز تنظیموں [ڈیموکریٹس اور ریپبلکن] کے مطالبات امریکی ووٹر کے ساتھ دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنے کے برابر ہوگا۔ ریلیز کی تاریخ 3 اکتوبر 1988۔
"ہم پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ امیدواروں کی تنظیموں کا مقصد اپنی انتخابی مہم کی فہرست میں ایسے مباحث کو شامل کرنا ہے جس میں مواد ایسا ہوجو، بے ساختہ اور سخت سوالات کے سیدھے اور سچے جوابات سے گریز کرے۔” نیومن نے آگے کہاکہ امریکی عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ہے۔
شاید CPD کی طرف سے پیش کردہ سب سے شرارتی مطالبہ یہ ہے کہ بحث کے مرحلے میں شامل ہونے کے لیے تیسرے فریق یا آزاد امیدواروں کو پانچ قومی انتخابات میں کم از کم 15% حمایت حاصل کرنی چاہیے۔ اس بات کو زہن میں رکھتے ہوئے کہ انتخابات کا بندوبست عام طور پر میڈیا اور دیگر تنظیموں کے ذریعے کیا جاتا ہے جن کے پاس سیاسی اختیار نہیں ہوتا، اس سے حقیقی اور تصوراتی، دونوں طرح کے خطرناک وحشیوں کے لیے دروازے کھل جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر 1992 کے صدارتی انتخابات کو لے لیں۔ میڈیا کے تعصب کے الزامات کے باوجود، ٹیکساس کے تاجر راس پیروٹ اور ان کے ساتھی جیمز اسٹاک ڈیل، کلنٹن-گور (ڈیموکریٹ) اور بش-کوائل (ریپبلکن) کے ٹکٹوں کے خلاف ہونے والے مباحثوں میں حصہ لینے کے لیے پولز میں کافی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ لیکن اس کے بعد سے، کسی تیسری پارٹی یا آزاد امیدوار کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹک امیدواروں کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی گئ حالانکہ اس کے لیے کی جانے والے کوششیں کم نہیں تھیں۔ درحقیقت، کئی صدارتی امیدوار، جن کی حمایت کی ایک بڑی عوامی بنیادموجود تھی کو، سسٹم کو خراب کرنے کی کوشش کرنے پر قید کردیا گیا ۔
8 اکتوبر 2004 کو، دو صدارتی امیدواروں، لبرل امیدوار مائیکل بدنارک اور گرین پارٹی کے امیدوار ڈیوڈ کوب، کو ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے زیر اہتمام قومی سطح پر نشر ہونے والے مباحثوں سے تیسرے فریق کے امیدواروں کو بحث سےخارج کرنے پر CPD کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔لبرلز نے ایک مقدمہ دائر کیا، یہ دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی نے مباحثے کے لیےقائم عوامی فنڈز میں $2 ملین عطیہ کرکے قانون کو توڑا ہے، جبکہ دوسرے جائز امیدواروں کو "اوپن” ایونٹ میں شرکت سے منع کیا ہے۔اگرچہ مقدمے میں کچھ کافی جان تھی تاہم ، عدالتوں نے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مباحث "علمی قدروقیمت ” کا زریعہ بنیں گے۔
واضح طور پر، اسٹیبلشمنٹ امیدوار کے جادوئی دہلیز تک پہنچنے کے امکانات کو نقصان پہنچانے کے متعدد طریقوں سے لطف اندوز ہوتی ہے – میڈیا پر کھلی مہم چلانے سے لے کر امیدوار کے سیاسی پلیٹ فارم کو دیے گئے ائیر ٹائم کو کم کرنے تک۔ اور اگر پچھلی دہائی نے امریکیوں کو کچھ سکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ میڈیا کے ہاتھوں غیر منصفانہ سلوک کا شکار ہونے کے لیے امیدوار کو ڈونلڈ ٹرمپ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔
2012 کے صدارتی انتخابات کے دوران، رون پال، جنہوں نے انتہائی متنازعہ ‘فیڈرل ریزرو کو ختم کرنے’ کے پلیٹ فارم پر مہم چلائی تھی، ریپبلکن امیدواروں میں دوسرے نمبر پر رہنے کے باوجود میڈیا سے بات کرنے والے سربراہوں نے معمول کے مطابق نظر انداز کر دیا تھا۔ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ کامیڈین/سیاسی پنڈت جان سٹیورٹ نے میڈیا کے اس واضح تعصب پر ایک تحریرتالیف کی جو انتخابی عمل کو چلانے میں چوتھے ریاست کی اس چوتھی خام طاقت(میڈیا) کو ظاہر کرتی ہے۔
آخری بار CPD کو 2020 میں ایک سنگین قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب غیر منافع بخش گروپ Level the Playing Field کی قیادت میں Libertarian اور Green پارٹیوں نے وفاقی الیکشن کمیشن پر مقدمہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ گروپوں نے استدلال کیا کہ CPD "تعصب سے پاک نہیں ہے،” بلکہ اس کے بجائے تیسرے فریق کو میدان سے باہررکھنے کے لیے کام کرتا ہے۔
"اس کی قیادت ہمیشہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک اندرونی افراد پر مشتمل رہی ہے – یہ پارٹی کے چیئرز، سابق منتخب عہدیدار، اعلیٰ معاونین، پارٹی کے عطیہ دہندگان اور لابی کرنے والے ہوتے ہیں،” مختصر بیان میں کہا گیا ۔ "یہ کٹر متعصب ریپبلکن اور ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں، انہیں زیادہ ڈالر کے عطیات دیتے ہیں… اور ان کارپوریشنوں سے غیر اعلانیہ تعاون قبول کرتے ہیں جو CPD کو ایک چینل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بڑی جماعتوں کے حمایت سے اثر و رسوخ خریدتے ہیں۔”
جان ایف کینیڈی اور رچرڈ نکسن کے درمیان 1960 کے ٹیلی ویژن شو ڈاون میں صدارتی مباحثے امریکی انتخابات کی ایک باقاعدہ خصوصیت بن گئے۔ اس بحث کو 70 ملین امریکیوں نے دیکھا اور، نیشنل کانسٹی ٹیوشن سینٹر کے مطابق، اس نے "سیاست کو الیکٹرانک تماشائیوں کا کھیل بنا دیا۔” اس نے ووٹروں کو صدارتی امیدواروں کو ایک زندہ ماحول میں، قومی اور عالمی سطح پر ممکنہ لیڈروں کے طور پر دیکھنے کا موقع بھی دیا۔
بدقسمتی سے، وائٹ ہاؤس کے لیے آزاد امیدواروں – جیسے JFK کے بھتیجے، رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر، جو 2024 کے صدارتی انتخابات میں ایک آزاد اور ممکنہ ‘بگاڑپیدا کرنے والے’ کے طور پر داخل ہوئے ہیں – کے لیے ‘لائیو اسٹیج’ تک پہنچنے میں مشکل بڑھ جائے گی۔
آیا یہ وہ سال ہے جب CPD بالآخر امریکی جمہوری عمل پر اپنی آہنی گرفت کے لیے بے نقاب ہو جائے گی، یا یہ ہمیشہ کی طرح دو طرفہ سیاست ہی رہے گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔
شفقنا اردو
جمعتہ المبارک، 15 دسمبر 2023
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں