یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
غزہ میں وحشت وبربریت کا مظاہرہ کرنے والا ملک اسرائیل اب مسئلہ فلسطین کے دور ریاستی حل سے بھی منکر ہورہا ہے جس پر امریکہ وبرطانیہ سمیت پوری عالمی برادری برسوں سے متفق نظر آتی رہی ہے۔ برطانیہ میں اسرائیل کے سفیر زہپی ہوٹو ویلی نے ایک انٹرویو میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک دور ریاستی حل کو غزہ میں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کسی صورت قبول نہیں کرے گا بلکہ اسے مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
یہ بیان ایسے موقع پر آیا جب امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سیلوان صہیونی وزیر اعظم نتن یاہو اور جنگی کابینہ سے ملاقات کے لیے تل ابیب پہنچے ۔ اسرائیلی ڈیفنس آفس کے مطابق صہیونی وزیر دفاع نے امریکی مشیر کو بتایا کہ جنگ کئی ماہ جاری رہ سکتی ہے۔ جیک سیلوان نے اپنے دورے سے قبل کہاتھا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کی ڈیڈ لائن کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیںگے۔ان خبروں سے واضح ہے کہ غزہ میں سفاکی و بربریت کا مظاہرہ کرنے والے صہیونی ملک کو نہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کی پروا ہے، نہ وہ عالمی ادارے کے سربراہ انتونیوگوتیرس کی طرف سے عالمی امن کے حوالے سے انتباہات کو خاطر میں لاتا ہے۔ وہ غزہ کو کھنڈر بنانے کے بعد بھی پٹی کی پوری آبادی کو فضائی بمباری، زمینی حملوں، محاصروں اور بھوک پیاس کےہتھیاروں سے تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔
کیا ہی اچھا ہو کہ امریکی دفتر خارجہ کے عہدے دار جوش پال کے استعفےٰ اور جوبائیڈن انتظامیہ کے عملے کے وائٹ ہاؤس کے سامنے کئے گئے احتجاج کے جذبے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ غزہ میں وحشت وبربریت کے ہولناک مظاہرے کا سلسلہ بند کرایا جائے اور نہتے فلسطینیوں کو امدادی سامان و سہولتیں پہنچانے کی سعی کی جائے۔ دنیا کو بڑی جنگ سے بچانے اور عالمی امن و استحکام یقینی بنانے کے لیے فلسطین وکشمیر کے مسائل کا جلد منصفانہ حل ضروری ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں