سانحہ مشرقی پاکستان اور ففتھ جنریشن وار/عرفان صدیقی

یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
آج کل بڑے بڑے نام نہاد فلاسفر پاک بھارت کے درمیان ہونے والی تین جنگوں کے حوالے سے حقائق کو تو ڑ مڑوڑ کر پیش کرکے نئی نسل کو گمراہ کرنے کی ناکام کوششو ں میں مصروف ہیں، در حقیقت دشمن کی جانب سے ریاست اور پاک فوج کی محبت کو عوام کے دلوں میں کم کرنے کی ان کوششوں کو ہی ففتھ جنریش وار یعنی 5GW کہا جاتا ہے ِ، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعدایک بار پھر گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان کے خلاف دشمن اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ففتھ جنریشن وار شروع کرچکا ہے ،ففتھ جنریشن وار کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ دشمن کے خلاف غیر فوجی طریقے سے کارروائی کرکے اسے نقصان پہنچایاجائے ،جیسے معاشرے کو ریاست کے خلاف ابھارنے کیلئے سوشل انجینئرنگ کرکے حملہ آور ہوا جائے ۔
دشمن ملک کے معاشرے میں زیادہ سے زیادہ جھوٹ پھیلایا جائے ،دشمن ملک میں سائبر حملے کیے جائیں ، سوشل میڈیا کے ذریعے دشمن ملک کے عوام میں اپنے ہی ملک اور اس کے اداروں کے خلاف نفرت پھیلائی جائے ،جس کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے، جس کی اہم مثال سابق ٹوئٹر اور موجودہ ایکس جیسی بااثر ایپس میں اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرکے بوٹ تیار کیے جاتے ہیں اور وہ ایک جھوٹے ٹویٹ کو بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں ، آج ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں دشمن کس تیزی سے 5GW کے ذریعے حملہ آور ہورہا ہے ، اس وقت ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ حملے 5GW کے ذریعے پاک فوج کے خلاف کیے جارہے ہیں، جس میں ہمارے اپنے نام نہاد دانشور اپنے ادارو ں کے خلاف جھوٹ پھیلا کر ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں لیکن ان کے خلاف کسی طرح کی قانونی کارروائی ممکن نہیں کیونکہ یہ سب آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کیا جارہا ہے ۔
،کل سولہ دسمبر تھا۔ یہ وہ دن ہے جس دن پاکستان کو بنگلہ دیش کی علیحدگی کا دکھ دیکھنا پڑا تھا ، پاکستان کو کبھی فوجی شکست کا سامنا نہیںکرنا پڑا ہے ،قیام پاکستان کے بعد جب بھارت نے کشمیر پر طاقت کے بل بوتے پر غاصبانہ قبضہ کرلیا تھا تو اس وقت بھی کمزور فوج کے ساتھ لیکن عوامی حمایت کے ساتھ پاک فوج نے کشمیر کا ایک تہائی حصہ آزاد کرالیا تھا اور اگر بھارت اس وقت اقوام متحدہ میں جاکر رحم اور امن کی بھیک نہ مانگتا تو پورا کشمیر اس وقت پاکستان کا حصہ ہوتا ،لیکن یہ سب جاننے کے باوجود ہمارے بعض دانشور اس تاریخی فتح کے خلاف ہی باتیں کرتے ہیں ،پھر دوسری جنگ جس میں پاکستان نے بھارت کے خلاف تاریخی فتح حاصل کی تھی وہ تھی سنہ 1965کی جنگ ،جس میں جس طرح پاکستانی عوام نے پاک فوج کا ساتھ دیا وہ بھی تاریخ کا سنہری باب ہے اس جنگ میں پاکستانی عوام کو بھارتی سرحدوں تک جانے سے بمشکل روکا گیا تھا ورنہ پاک فوج سے محبت کا یہ عالم تھا کہ خواتین اپنے زیور ، مرد اپنے ہتھیار اور مزدور اپنے اوزارتک پاک فوج کو دے آئے تھے اور عوام کی محبت کو دیکھ کر پاک فوج کے حوصلے اتنے بلند ہوئے کہ پاک فوج کی چند پلاٹونوں نے بھارتی فوج کے پورے بریگیڈ کو لاہور میں داخل ہونے سے روکے رکھا اور بہادری کی وہ تاریخ رقم کی جسے سن کر آج بھی بھارتی فوجی سہم جاتے ہیں جبکہ پاکستانی عوام کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے ۔
،لیکن آجکل کے حالات دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ دشمن ایک منظم سازش کےتحت عوام کے دلوں میں موجود پاک فوج کی محبت کو کم کرنے کی ساز ش میں مصروف ہے ،پاک فوج کے ماضی کے کارناموں کو کم کرکے پیش کیا جارہا ہے ، ان سب باتوں کیلئےسوشل میڈیا کو استعمال کیاجارہاہے ، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ماضی سے سبق سیکھیں، سولہ دسمبر جیسے واقعات کو رونما ہونے سے روکیں ،پاک فوج اور عوام کے درمیان دوریوں کو کم کرنے کیلئے اقدامات کریں کیونکہ پاکستان صرف پاکستانیوں کا نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کا فخر ہے۔پاکستان کی طاقت کو عالم اسلام کی طاقت سمجھا جاتا ہے ، پاکستان کی مضبوط اور طاقت ور فوج پر پوری اسلامی دنیا فخر کرتی ہے لہٰذا اس فوج کے خلاف سازش کو عالم اسلام کے خلاف سازش سمجھا جائے اور اس کے خلاف ہر سازش کا قلع قمع کیا جائے کیونکہ یہی پاکستان اور عالم اسلام کے لیے بہتر ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین