امریکہ اسرائیل کو کبھی بھی’ ناں ‘کیوں نہیں کہہ سکتا ؟ شامیر حسن

8دسمبر 2023 ایک ایسا دن ہے جو تاریخ میں  ایک بدنام دن  کے طورپر یاد رکھا جائےگا۔ امریکہ نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی قرارداد کو ویٹو کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی مستقل نشست کا استعمال کرکے بدترین نوعیت کی تاریخ رقم کی۔ قرارداد متحدہ عرب امارات (ایک امریکی شراکت دار) کی طرف سے پیش کی گئی تھی اور 90 سے زیادہ رکن ممالک نے اس کی حمایت کی تھی۔ اس کو عالمی تنظیم کے مراعات یافتہ "اوپر ی چیمبر”، یعنی سلامتی کونسل میں بھی بہت زیادہ حمایت حاصل تھی، جہاں اس کے 15 میں سے 13 اراکین اس کے حق میں تھے (جبکہ برطانیہ نے دوبارہ امریکہ کے آگے اپنی خودمختاری سے دستبردار ہونے کا اعادہ کرتے ہوے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا)۔
امریکی ویٹو نے براہ راست اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مخالفت کی۔ فطرتا” ایک باغی نہ ہوتے ہوئے بھی،  اقوام متحدہ کے سربراہ نے جنگ بندی کو فروغ دینے کے لیے شاذ و نادر ہی بروئے کار لائے جانے  والے طریقہ کار کو اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے  عمل میں لای۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب 15 کے آرٹیکل 99 کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے پہلے ہی یہ اشارہ کیا کہ "بین الاقوامی امن اور سلامتی” خطرے میں ہے۔ ان کے ترجمان نے واضح کیا کہ گوٹیرس ایک "ڈرامائی آئینی اقدام” کر رہے ہیں۔ اسرائیل پر حماس کے حملے کو اجاگر کرتے ہوئے سفارتی توازن برقرار رکھتے ہوئے، گٹیرس کے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں جاری اسرائیلی حملے کے نتیجے میں فلسطینیوں کی تباہ کن مصائب کی عکاسی کی گئی اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غزہ میں "کہیں بھی” محفوظ جگہ نہیں ہے۔
اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ امریکہ کے قدم نہیں  ڈگمگائے  اور اس نےاسرائیل کے لیے اپنی غیر مشروط حمایت کو برقرار رکھا، یہاں تک کہ مؤخر الذکر غزہ اور اس کی شہری آبادی پر نسل کشی کی خاطر شدید حملے کر رہا ہے۔ یہ اب قابل بحث نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی راز ہے۔ اسرائیلی رہنما بارہا ایسے بیانات دے چکے ہیں جو اس قسم کے ارادے کی نشاندہی کرتے ہیں جو کہ نسل کشی کے جرم میں ایک اہم عنصر ہے، جبکہ ان کے اقدامات اور زمین پر موجود ان کی افواج ان کے الفاظ سے بھی زیادہ بلند آواز میں بولتی ہیں۔
دنیا نے فلسطینی قیادت کے لیےاپنے دل ودماغ میں  تعصب کو خاص جگہ نہیں دی۔  ویٹو "تباہ کن اور قابض ریاست کو قتل عام، تباہی اور بے گھر کرنے کے لیے دیا گیا ایک اور خالی چیک”ہے۔ ” چین اور روس نے امریکی دوہرے معیار کی مذمت کی ہے اورکہا ہے کہ  واشنگٹن نے مستقبل کے اسرائیلی حملے کے فلسطینی متاثرین کو "موت کی سزا” دی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ویٹؤ پاور کو بدمعاشی سے  استعمال کیا ہے… اس کی ساکھ کو مجروح کیا ہے اور "حیرت انگیز ہلاکتوں کی تعداد میں شہریوں کے مصائب کے لیے بے دردی سے نظر انداز کیا ہے۔” ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز نے بھی اس سے کم سخت الفاظ میں مذمت نہیں کی، امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ "انسانیت کے خلاف اپنا ووٹ دینے میں تنہا کھڑا ہے”، امریکہ کے ساتھ "غزہ میں ہونے والے قتل عام میں شریک ہے” اور نہ صرف اس کی اپنی ساکھ بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
کریگ مخیبر – بین الاقوامی قانون پر ایک اتھارٹی اور نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کے سابق سربراہ – نے ٹویٹ کیا کہ “نسل کشی پر کنونشن کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر، امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کو دوبارہ ویٹو کر دیا ہے۔ اور اس طرح فلسطین میں نسل کشی میں مزید ملوث ہونے کا مظاہرہ کیا ہے۔
سرزنش اور مذمت کی یہ فہرست تقریباً لامحدود طویل ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر ہم گلوبل ساؤتھ سے آوازیں شامل کریں۔ تاہم، کلیدی نکتہ پہلے ہی واضح ہونا چاہیے: امریکہ الگ تھلگ کھڑا ہے اور اپنی ہی وجہ سے رسوا ہوا ہے،حالانکہ اس فیصلے سے آسانی سے گریز کیا جا سکتا تھا۔آخرکار، یہ ایک ووٹ نہیں تھا جو متاثرین کے لیے انصاف اور تلافی کا مطالبہ کرتا تھا۔ یہ سب کچھ کم از کم صرف ایک جنگ بندی کے بارے میں تھا، یہاں تک کہ یہ کوئی امن معاہدہ بھی نہیں تھا۔ تاہم امریکہ سے یہ کہنا بھی بہت ہوجاتا ہے جب اعتراض کرنے والے اس پر انگلی اٹھاتے ہیں۔
مورخین پیشین گوئی کرنا پسند نہیں کرتے، لیکن یہاں میرے مورخ کی پیشین گوئی ہے: مندرجہ بالا واقعات میں سے کوئی بھی کبھی دھندلا یا نرم نہیں پڑے گا۔ امریکہ نے 8سمبر کو جو کچھ کیا وہ کبھی بھی "ناقابل فہم” یا اتنا "پیچیدہ” نظر نہیں آئے گا کہ مہذب لوگ اس کی مذمت نہیں کریں گے۔
مستقبل کے مورخین پوچھیں گے کہ یہ کیسے ہوا؟ دنیا کی واحد طاقتور ترین قوم، جو نہ صرف طاقت کے ذریعے بلکہ "اقدار” کے ذریعے قیادت کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، اس طرح کے گھناؤنے اور کھلے جرم کا ارتکاب کرنے والے اسرائیلی مجرموں کا ساتھ کیسے دے سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری کی کھلم کھلا اس ظلم کے خلاف کھڑی ہے۔ کچھ لوگ یہ سوال بھی پوچھیں گے کہ امریکہ، خواہ اس کی اشرافیہ اخلاقیات سے بالکل عاری ہو، خود کو اتنا نقصان کیسے پہنچا سکتا ہے۔
اس عظیم امریکی ناکامی کی یقیناً وسیع تر وجوہات ہیں۔ اس سے پہلے بھی بہت سی باتیں ہو چکی ہیں۔ اسرائیل مشرق وسطیٰ اور بعض اوقات اس سے آگے امریکی احکامات نافذ کرنے والے اور سامراجی چوکی کا کام کرتا ہے۔ جیسا کہ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن جس نے 1986 میں کہا تھا، جب وہ ایک  سینیٹر تھا  اگر اسرائیل نہ ہوتا، تو امریکہ کو ایک اسرائیل ایجاد کرنا پڑتا۔ آئیے اس بات کو ایک طرف رکھیں کہ ایسی سوچ کے پیچھے حقیقی  سیاسی محرکات ہیں ، اور اس بات کو سمجھیں :اسرائیل  کبھی کوئی اثاثہ تھابھی ، تو اسرائیل اب ایک ذمہ داری میں بدل رہا ہے۔ آئیے صرف یہ نوٹ کریں کہ امریکی اشرافیہ کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل اس قدر مفید ہے کہ نائب صدر کملا ہیریس کے الفاظ میں، یہ”آہنی پوشاک” ہے۔
لیکن یہ یوکرین کے لیےبھی ہے ، جیسا کہ کل تک وہ  تھا۔ اور ابھی تک کیف کو چھوڑ دیا جائے گا، جیسا کہ اس سے پہلے بہت سے امریکی کلائنٹس تھےجن کا ایسا حشر ہوچکاہے ۔ اسرائیل کو کیا چیز مختلف بناتی ہے؟ واضح طور پر، یہ امریکی مالی اور فوجی امداد کا طویل عرصے سے سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔ کیا یہ ڈوبی ہوئی لاگت ہے؟ کیا امریکہ اسرائیل کے لیے اتنا زیادہ مجبور ہے کہ وہ اسے کبھی نہیں چھوڑے گا؟
اس کے باوجود یہ مفروضہ امریکہ اسرائیل تعلقات کے یک طرفہ پن کی وضاحت نہیں کرتا۔ اگر کبھی  معاملہ سامنے آیا ہے تو یہ ہے: ایک چیز جو غزہ جنگ بندی کی قرارداد پر امریکی ویٹو سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ اسرائیل ہے جو امریکی خارجہ پالیسی پر حاوی ہے ۔ بصورت دیگر، واشنگٹن کم از کم اس انتہائی معمولی قرارداد کو منظور کرنے کی اجازت دے کر اپنی ساکھ اور مفادات کے تحفظ کے درمیان کوئی سمجھوتہ کرنے کی کوشش کرتا، جبکہ اب بھی وہ متعدد دیگر طریقوں سے اسرائیل کی حمایت کرتا ہے۔
واضح طور پر، ایک چیز جو بہت چھوٹے ملک پر اس امریکی انحصار کا تعین کر رہی ہے، اسرائیل کی جانب سے لابنگ اور غیر ملکی اثر و رسوخ کی کارروائیوں کی بڑی کامیابی ہے۔ درحقیقت یہ اسرائیل ہی ہے جس نے تاریخ میں امریکی سیاست پر سب سے زیادہ جارحانہ اور موثر حملہ کیا ہے۔ اور کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے: اس واضح حقیقت کو نوٹ کریں کہ اس سوچ  کا یہود دشمنی” سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہود دشمنی یا سامیت دشمنی کا الزام  درحقیقت، ان لوگوں کو داغدار کرنے کی کوشش کرنا ہے جو اس الزام کو سامنے لانے کی جرأت کرتے ہیں، اور یہ  اس کے اثر و رسوخ کے کام کرنے کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ایسی گھٹیا چالوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے۔
سب سے واضح معاملہ 1956 کے سویز بحران کے دوران اسرائیل کا غزہ پر قبضہ ہے۔ مصر کے خلاف اس ناکام اسرائیلی (اور برطانوی اور فرانسیسی) حکومت کی تبدیلی کی جنگ کا یہ پہلو اب تقریباً فراموش کر دیا گیا ہے، 1967میںاسرائیل نے چھوڑنے پر مجبور کردئیے جانے سے کئی ماہ قبل غزہ پر بھی قبضہ کر رکھا تھاپھر اسی طرح اسرائیلی افواج نے قیدیوں اور شہریوں کا قتل عام سمیت مختلف جرائم کا ارتکاب کیا، جیسا کہ اسرائیلی مورخ بینی مورس (جوکسی بھی طرح فلسطینیوں کا دوست نہیں) نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ لیکن اس وقت، ریپبلکن صدر ڈوائٹ ‘آئیکے’ آئزن ہاور کے دور میں، امریکہ کے پاس ایک خارجہ پالیسی تھی جو اسرائیل کا مقابلہ کر سکتی تھی اور اس کی خلاف ورزی کر سکتی تھی۔
مزید برآں، آئزن ہاور کی اسرائیل اور اس کے یورپی اتحادیوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن مداخلت اس وقت سوویت یونین کے ردعمل سے ہم آہنگ تھی۔ کم از کم، یہاں ایک سخت، قدامت پسند امریکی صدر (اور یقیناً اعلیٰ ترین عہدے کے سابق فوجی رہنما) تھے جو "روسیوں” کے بارے میں اتنے مریضانہ  نہیں تھے کہ  اس کے زیر اثرکسی بھی موافق مفاد کو داؤ پر لگا دیں۔
کاش ہم کم از کم ایک ایسی دنیا میں واپس لوٹ سکیں جہاں امریکی اپنے ملک پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے بارے میں سوچتے ہوئے اپنے روس کے جنون کو بھول جائیں اور اس تشویش ناک پہلو پر توجہ مرکوز کریں جہاں یہ اہم ہے، یعنی اسرائیل پر۔
شفقنا اردو
اتوار، 17 دسمبر 2023
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین