یہ تحریر جنگ نیوزمیں شائع ہوئی
قیام پاکستان کی ابتدائی دہائیوں میں بجلی کی قیمتیں سالانہ بنیادوں پر بڑھانے کا رجحان پایا جاتا تھا۔ موجودہ دور میں کوئی مہینہ ایسا نہیں جارہا جس میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہوتا ہو۔سردی کے سیزن میں کم یونٹوں کے استعمال کے باعث بجلی کے نرخوں میں ہونے والے اضافے کے اثرات عام صارفین پر فوری طور پر نہیں پڑتے لیکن گرمی آتے ہی معاشی مشکلات کا ایک نیا پہاڑ سر پر موجود ہوتا ہے ۔
چند روز قبل ملک بھر میں بجلی کی قیمت ایک روپئیہ 15پیسے فی یونٹ بڑھائی گئی اس کے باوجود تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)نے نومبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ مد میںچار روپے 66پیسے فی یونٹ نئے اضافے کی درخواست نیپرا کے پاس جمع کروائی ہےجسکی منظوری کے بعد صارفین پر 40ارب روپے کا نیا بوجھ پڑے گا۔ سال2023 بجلی کی قیمتوں میں ایک ریکارڈ اضافے کا تاثر چھوڑتے ہوئے اختتام پذیر ہورہا ہے ۔ماہ دسمبر میں 300سے کم یونٹ کے حامل بل اوسطاً 9ہزار روپے سے زیادہ مالیت کے آئے ہیں اور گرمی کےسیزن میں یہ تناسب دگنا ضرور ہوجاتا ہے جن کی ادائیگی تیس چالیس ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے افراد کے بس میں نہیں ۔حکومت بجلی پیدا کرنے کے سستے ذرائع اختیار کرنے پر بارہا غور کرچکی ہے لیکن تاحال کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔
گرمی کا موسم آنے سے پہلے اس طرف عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اور نہیں تو کم از کم سرکاری سطح پر ہونے والا بجلی کا استعمال 50فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مہنگی بجلی کی کھپت اور پیداوار کم سے کم رکھنے کیلئے گھریلو سطح پر بعض اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔نئے گھروں کی تعمیر اس انداز سے کی جائے کہ ان میں روشنی کا قدرتی نظام کارفرما ہو جو دن کے وقت کم سے کم بلب روشن کرنے کاجواز بن سکے، اس طرح مجموعی طور پر خاطر خواہ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں