یہ تحریر اردو نیوز میں شائع ہوئی
پاکستان میں عام انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں میں تیزی نظر آ رہی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو تمام پارٹیوں کی جانب سے جلسوں اور ورکرز کنونشن کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے تاہم مسلم لیگ ن ابھی تک کوئی بڑی سیاسی سرگرمی کرتی نظر نہیں آئی۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف، تحریک انصاف پارلیمنٹیرین، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتیں ورکرز کی انتخابی مہم میں بھرپو شرکت کے لیے عوامی رابطے کر رہی ہیں لیکن ن لیگ کے قائدین منظرِعام سے غائب ہیں۔
اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں ن لیگ اپنے اندرونی اختلافات سے کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔ نواز شریف کے وطن چھوڑ جانے کے بعد صوبے کے سینیئر اور نظریاتی رہنماؤں نے ایک الگ دھڑا بنا لیا تھا۔
اسی دوران نظریاتی ورکرز کا ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام کو ہٹانے اور ازسر نو تنظیم سازی کا مطالبہ سامنے آیا مگر امیر مقام نے کچھ قائدین کو بہلا کر اپنے ساتھ شامل کر لیا۔
سینیئر رہنما اور نواز شریف کے قریبی دوست کا پارٹی سے علیحدگی کا اعلان