پاکستان چھوڑ کر افغانستان اپنے وطن واپس آنے والی 28 سالہ اسلام بی بی جن کے ہاں تین بچوں کی پیدائش متوقع ہے، تکلیف کی حالت میں خالی ہاتھ خوست میں ایم ایس ایف مرکز میں موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’میں بیمار تھی، میرے شوہر کے پاس پیسے نہیں تھے۔ مجھے کہا گیا کہ اس ہسپتال میں جاؤ، وہ سب کچھ مفت کرتے ہیں۔‘
اس تشویشناک صورتحال کے باوجود امید کی کچھ کرن نظر آ رہی ہے۔
صوبائی دارالحکومت گردیز میں این اے سی کی جانب سے حال ہی میں کھولے گئے اپنی نوعیت کے پہلے میٹرنٹی سینٹر کی بدولت پڑوسی صوبے پکتیا میں خواتین کو لاحق خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
طالبان کی طرف سے مقرر کیے گئے صوبائی ہیلتھ ڈائریکٹر خیر محمد منصور نے بتایا کہ ’اس قسم کا کلینک زیادہ تر صوبوں میں موجود نہیں ہے۔ ہم نے ان کے لیے ایک نظام بنایا ہے جس میں شرعی قوانین اور تمام طبی اُصولوں کی پابندی کی جائے گی۔‘
مینیجر نسرین اوریاخیل نے کہا کہ ’این اے سی کا مقصد ہماری بہت سی بہنوں کی مدد کرنا ہے جو الگ تھلگ علاقوں میں رہتی ہیں۔ آنے والے مہینوں میں چار دیگر صوبوں کے لیے اسی طرح کے کلینک کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔‘
شفقنا اردو
جمعرات، 27 دسمبر 2023
نوٹ: یہ رپورٹ اے ایف پی نے شائع کی جسے ادارہ نے ترجمہ کیا