ملک میں گیس کی عدم دستیابی سے پیدا حالیہ بحران آئندہ ماہ جنوری میں سنگین ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔اطالوی کمپنی نے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ ترسیل میں مشکلات کے باعث وہ جنوری میں مطلوبہ کارگو بروقت فراہم نہ کرسکے گی۔نقل و حمل میں دیر سویر کا عنصر خارج از امکان نہیں ہوا کرتا لیکن اس سے نمٹنے کی دنیا میں بہت سی مثالیں موجود ہیں جبکہ معدنی وسائل سے مالا مال 25کروڑ آبادی کے حامل وطن عزیز میں کوئی متبادل ذریعہ یا نعم البدل دکھائی نہ دینا تعجب خیز بات ہے۔
بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جو اپنی ابتدائی دہائیوں میں گرمی اور سردی کے موسم تک محدود تھی ،حالیہ برسوں میں نوبت بارہ مہینوں تک پہنچ گئی ہے۔پاکستان میں گیس توانائی کی ضرورت پوری کرنے کا اہم ترین ذریعہ اور کل طلب کا 31 فیصد ہے جس کا دارومدار مقامی پیداوار اور درآمدات پر ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں گیس بحران اور اس میں غالب آنے والی شدت کے پیچھے ملکی پیداوار میں ہونے والی مسلسل کمی کے ساتھ عالمی منڈی میں اس کی قیمت میں اضافہ ہے جبکہ اربوں ٹن کوئلے کی سرزمین میں گھریلو اور صنعتی صارفین کیلئے فی الحال اس سے سستا کوئی ذریعہ دکھائی نہیں دیتا ۔وقتاًفوقتاً قوم کو تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کی خوشخبری ملتی رہتی ہے لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھتی ۔
درآمدی گیس کی ترسیل سمندر پار ممالک سے بذریعہ کارگو اور ہمسایہ اور قریبی ملکوں سے پائپ لائن کے ذریعے ممکن ہے جن میں بعدالذکر ہر لحاظ سے بہتر اور قابل عمل ہے ۔ترکمانستان اور ایران کیساتھ کئی برس سے معاہدے ہوئے پڑے ہیں ،جن کی تکمیل سے گھریلو اور صنعتی صارفین کوبلا تعطل 24گھنٹے سستی گیس میسر آسکےگی، حکومت کو یہ منصو بہ بلا تاخیر پایہ تکمیل کو پہنچانا چاہئے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں