جاسوسی نیٹ ورک: امریکہ دوستوں کو بھی نہیں بخشتا

"؛مغربی  ممالک نہ صرف ہماری  تحقیقی کاوشوں ،ہمارے ہتھیاروں کے ڈیٹا اور پیرامیٹرز  بلکہ ہمارے ماہرین  کو بھی  شکار کرنے کے لیے فعال کوششیں کررہے ےہیں”،  روس کے صنعت و تجارت کے وزیر ڈینس مانتوروف نے حال ہی میں مغربی جاسوسوں اور ان کی  روسی  دفاعی پیداوار کے بارے میں کی جاننے والی کوششوں کے بارے میں کہا جس  کا مقصد دفاع سے منسلک  ماہرین کو ٹارگٹ کرنا  ہے۔
ٹھیک ہے، یقیناً جاسوسوں کا معلومات لینے کے لیے "آسان نشانہ”بن جانے والے   ماہرین تک پہنچنا، کسی ایسے سپاہی سے بات کرنے کی کوشش کرنے سے بہتر ہے جس کا BS-ڈیٹیکٹر(انگریزی کا ‘بل شٹ ڈیکٹر’ یعنی جھوٹ پکڑنے کی صلاحیت) جاسوسی کے لیے زیادہ باریک بینی سے نشاندہی کرسکتا  ہے۔ اور مغربی جاسوس یہ سب کسی اور سے بہتر جانتے ہیں جبکہ  وہ آپس میں بھی اس کی مشق کرتے رہتے ہیں۔
بالآخر، تمام جاسوسی معاشی فائدہ حاصل کرنے کے بارے میں ہے – چاہے تنازعہ ہو یا جنگ، جہاں نتیجہ مستقبل میں کسی بھی اقتصادی قدم کی اہمیت کا تعین کرتا ہے، یاپھر  زیادہ براہ راست طریقہ  یہ  ہے کہ  یہ اقتصادی طور پر قیمتی رازوں کی چوری یا تجارت یا مسابقت کی تخریب کاری کے ذریعےکیا جائے ۔یوکرین کی وجہ سے روس اور مغربی فوجی اتحاد کے درمیان فوجی تنازعہ پر موجودہ توجہ اس حقیقت کو دھندلا دیتی ہے کہ مغربی رہنماؤں کی طرف سے اتحاد اور یکجہتی کے تمام عوامی اعلانات کے باوجود، اگر انہیں معمولی سا بھی  موقع ملے تووہ سب ایک دوسرے کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے سے زرا بھی  نہیں ہچکچائیں گے ۔
یوکرین کے تنازعہ نے واقعی امریکی نقطہ نظر سے جرمنی کو  ایک اقتصادی حریف کے طور پر کو اجاگر کیا ہے، جو  ایک بار کبھی روسی گیس کی جرمنی کو نارڈ اسٹریم اقتصادی لائف لائن (اس سے پہلے کہ اسے پراسرار طور پر اڑا دیا گیا تھا) پر واشنگٹن کی نظامی تنقید کی شکل میں سامنے آئی تھی۔  اب، یہ انکل سام  کی جانب سے جرمن کمپنیوں کو گرین ٹکیس رعایتوں اور بھرپور توانائی فراہم کرنے کی لبھانے والی کوششوں  کے ساتھ آمادہ کرنے کی صورت میں دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یورپ کو فروخت کی جانے والی محدود اور مہنگی متبادل امریکی مائع قدرتی گیس نے جرمنی میں  غیر صنعتی کاری کے عمل کو جنم دیا ہے۔ یہ امریکہ کے لیے ایک دیرینہ خواب تھا، جس نے 90 کی دہائی کے اوائل سے جرمنی کو عالمی سطح پر ایک اہم حریف سمجھا۔
1995 میں، لاس اینجلس ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ نے سی آئی اے کو "معاشی جاسوسی میں تاخیر کو ختم کرنے ” کی ہدایت کی، اور حتیٰ کہ کلنٹن سے بھی پہلے، "یہ واضح ہو گیا کہ جاپان اور جرمنی جیسی صنعتی سپر پاورز کے ساتھ معاشی دشمنی ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس اور کانگریس نے اسے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد قومی سلامتی کے ایک اہم مسئلے کے طور پر دیکھا۔
1999 تک، یورپی پریس جرمن کمپنی اینرکون (Enercon)سے ونڈ ٹربائن کے بلیو پرنٹس کی چوری کی اطلاع دے رہا تھا، تاکہ ایک امریکی حریف کو فائدہ پہنچے۔ امریکی الیکٹرانک جاسوسی سروس (نیشنل سیکیورٹی ایجنسی) کو اس کے لیے، اور کم از کم 30 جرمن فرموں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
برلن امریکی جاسوسی سے بظاہر اس قدر مشتعل تھا کہ اس کی BND غیر ملکی جاسوسی سروس نے دراصل اسی NSA کی صنعتی طور پر جرمن کاروباری مفادات اور اس کے پڑوسی اور امریکی اتحادی فرانس کی جاسوسی میں ، اس واقعے کے بعد ایک دہائی سے زائد عرصے تک مدد کی، جیسا کہ جرمن پریس نے 2015 میں اطلاع دی۔ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ فرانکو-جرمن قیادت میں ایئربس گروپ (جسے EADS کے نام سے جانا جاتا ہے) واقعی پینٹاگون کے ٹھیکیدار اور تجارتی جیٹ بنانے والی کمپنی بوئنگ کا واحد بڑا عالمی حریف ہے، پھر بھی جرمنی کے Sueddeutsche Zeitung نے اس وقت رپورٹ کیا کہ جرمنی نے امریکہ کو فرانس کی جاسوسی کرنے میں مدد کی۔ چنانچہ جب موجودہ جرمن چانسلر اولاف شولز یوکرین کے تنازع سے پہلے بائیڈن کے ساتھ کھڑے ہوئے اور مسکرائے جبکہ مؤخر الذکر سستی روسی گیس کی نورڈ اسٹریم پائپ لائن کی دیکھ بھال کے بارے میں ایک مافیا کے کسی ایجنٹ کی طرح سوچ رہاتھا یہ واحد موقع نہیں تھا جب برلن ، واشنگٹن کی  طرف جھکاؤ دکھانے کے لیے پرجوش دکھائی دیا۔
واشنگٹن نے بھی طویل عرصے سے فرانس کو ایک صنعتی پاور ہاؤس سمجھا، خاص طور پر سابق صدر چارلس ڈی گال کے دور میں، جس کی جوہری توانائی کی ترقی کی سرکاری پالیسی نے ملک کو امریکی صنعت کا مقابلہ کرنے کے لیے سستے توانائی کے پاور ہاؤس میں تبدیل کر دیا – اور اس وجہ سے امریکی صنعتی جاسوسی کا ہدف بنا۔ پیرس میں سی آئی اے سٹیشن کو 1995 کے فرانسیسی داخلی انٹیلی جنس آپریشن میں ختم کر دیا گیا تھا جس کا اختتام پیرس نے عوامی طور پر امریکہ پر اقتصادی جاسوسی کا الزام لگاکر کیا۔ اگرچہ ان تمام سالوں کے بعد بھی اس جاسوسی کارروائی کی تفصیلات ابھی تک خفیہ ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ اسی قسم کی تجارت سے متعلق جاسوسی ہے جو امریکہ نے کلنٹن انتظامیہ کے دوران ایک دوسرے اتحادی جاپان پر آٹوموبائل سے متعلق تجارتی مذاکرات کے دوران کی تھی۔ لاس اینجلس ٹائمز نے 1995 میں یہ سب رپورٹ کیا۔
ابھی حال ہی میں، امریکی حریفوں کی طرف سے فرانسیسی صنعتی علم کا حصول واشنگٹن کے صنعتی فوائد کو حاصل کرنے کا طریقہ کار سامنے آیا  ، جیسا کہ جب فرانس کے السٹوم کی جوہری معلومات  پینٹاگون کے ٹھیکیدار جنرل الیکٹرک نے حاصل کی تھیں۔
بلاشبہ، جو کچھ سامنے نہ آسکا وہ کہیں زیادہ سنگین ہے۔ فرانس کے لبریشن اخبار کے مطابق، تقریباً 100 فرانسیسی کمپنیوں کو NSA کے جاسوسوں نے نشانہ بنایا، وکی لیکس نے 2015 میں رپورٹ کیا – جس میں ملک کے اعلیٰ کاروباری اداروں کا تقریباً تمام CAC 40 انڈیکس بھی شامل ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ فرانسیسی جوابی جاسوس کرنے سے باز رہے ۔ 1993 میں، دو فرانسیسی اہلکاروں کو سفارتی احاطہ میں امریکی صنعت کی جاسوسی کرتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد واپس پیرس بھیج دیا گیا۔ اسی وقت، فرانسیسی انٹیلی جنس رپورٹ پریس کو لیک ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ "49 ہائی ٹیکنالوجی امریکی کمپنیاں، 24 مالیاتی خدمات کی کمپنیاں اور وہ امریکی حکام جوحساس تجارتی مذاکرات کاکام سنبھالتے ہیں انہیں مزاکراتی حکمت  عملیوں کے جاننے کے لیے جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا "اس وقت کے  برطانیہ کے انڈیپنڈنٹ نے رپورٹ کیا۔
ان دنوں، پیرس ایئر شو، یا ملی پول کی داخلی سلامتی کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں سے  کوئی بھی شخص اپنے ہوٹل کے کمرے میں اپنا کمپیوٹر یا فون نہیں چھوڑتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے فرانس کے کانکورڈ سپرسونک جیٹ کے دنوں میں، کینیڈین اور امریکی انٹیلی جنس سروسز نے اپنے ایگزیکٹوز کو خبردار کیا کہ وہ ہوائی جہاز کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسے اس میں کسی بھی بات چیت کو پکڑنے کے لیے جاسوسی کے آلات لگائے گئے ہوں۔
فراموش نہیں کیا جانا چاہئے کہ امریکہ کا "بہترین اتحادی” اسرائیل ہے، جس کا حوالہ امریکی حکومت نے خود دیا کہ وہ امریکی کاروباری لوگوں کو تحقیق اور ترقی کی انٹیلی جنس کے لیے 1992 سے نشانہ بنا رہا ہے۔  اور حال ہی میں اس کے فوجی درجے کے پیگاسس اسپائی ویئر (جاسوسی کا سافٹ وئیر)اور اس کی عظیم الجثہ  سائبر نگرانی کی صنعت کے زریعے جاسوسی کے عمل کو جاری رکھا گیا۔ جس کی ریاست سے علیحدگی انتہائی قابل اعتراض ہے اور بدترین طور پر اس کا کوئی وجود نہیں۔
ماسکو کے اس عوامی اعتراف کا کہ اب وہ مغرب کے صنعتی جاسوسی کے ننگے ناچ کا فعال طور پر ہدف ہے اس کا مطلب ہے کہ اب اس کے پاس اس نوعیت کے  ہر قسم کا انتخاب موجود  ہے جیسا بلی کے مالک کے پاس ہوتا ہے۔  یہ کسی بھی کاٹنے کو جارحیت کے عمل سے تعبیر کر سکتا ہے، یا صرف وہی کچھ کر سکتا ہے جو مغرب آپس میں کرتا ہے اور اسے محبت سے کاٹنے کا عمل قرار دیتا ہے، اور ساتھ اس منصوبہ بندی میں لگا رہتا ہے کہ کس طرح اس ناگوار بلی کی دم پہ پاؤں رکھا جائے،بلا شبہ،  ایک قابل قبول انکار کے ساتھ۔
شفقنا اردو
ہفتہ، 6 جنوری 2024
نوٹ: شفقنا کا اس تحریرکے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین