یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
بدھ اور جمعرات کے روز اسلام آباد میں گلوبل ہیلتھ سیکورٹی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ عالمگیر سطح کے اس اہم اجتماع میں 70سے زائد ممالک کے شعبہ صحت کے ماہرین، وزراء، مندوبین اور وفود نے شرکت کی۔ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بطور مہمان خصوصی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔ سمٹ نے موسمیاتی تبدیلی کو دنیا، بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں صحت کے لئے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ دنیا کے ایک ارب بچے موسمیاتی بحران کے باعث ہائی رسک پر ہیں۔ پاکستان کا ماحولیاتی آلودگی میں بہت معمولی حصہ ہے لیکن سب سے زیادہ منفی اثرات اور سنگین نتائج کا سامنا اسی ملک کو ہے۔
پاکستانی معیشت کو موسمیاتی تبدیلی سے سالانہ ایک ارب 80کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی سے سیلاب، وبائی امراض اور دیگر بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ ملیریا، ڈینگی، ٹائیفائڈ، انفیکشن سے پیدا ہونے والی بیماریوں، ڈی ہائیڈریشن، خوراک کی کمی سمیت دیگر مسائل تیزی سے جنم لے رہے ہیں۔ کانفرنس کے پہلے روز دو سیشن ہوئے (1) وبائی امراض کے تدارک کے لئے تیاری اور ردّعمل (2) موسمیاتی تبدیلی اور لوگوں کی صحت کے لئے بڑھتے ہوئے خطرات۔ ماہرین کی جانب سے کہا گیا کہ صحت کے نظام میں استعداد میں اضافے اور دیگر شعبوں کو شعبہ صحت سے منسلک کرکے صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے۔ کہا گیا کہ ہیلتھ ایمرجنسی کے لئے صحت کے نظام کا موثر ہونا اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مزید کہا گیا کہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو پیشگی اطلاع کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ موسمیاتی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لئے کثیر قومی رابطے اور تعاون خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ نشان دہی بھی کی گئی کہ صحت اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ دنیا 2سے3ڈگری تک زیادہ گرم ہوچکی ہے، موسمیاتی تبدیلی سے دنیا بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لئے صحت کے خطرات ہیں۔ تقاریر اور مقالوں میں اگرچہ تیکنیکی نوعیت کے سوالات زیر بحث آئے اور تجاویز دی گئیں مگر صحت کے معاملے کا ماحولیاتی تبدیلیوں سے تعلق بار بار سامنے لایا گیا۔ اس طرح اس کانفرنس کے مقاصد کی پچھلے مہینے دبئی میں منعقد ’’کوپ۔28‘‘ (کانفرنس آف پارٹیز۔28) اجتماع اور پیرس میں2015ء میں منعقدہ کانفرنس کے مقاصد سے خاص حد تک مماثلت سامنے آئی ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کئی ممالک نے اپنی ترقی کے لئے انرجی کے وہ ذرائع استعمال کئے جنہوں نے زمین کے اوپری غلاف میں چھید کردیا۔ یہ چھید ان کاربن گیسز کے اخراج سے ہوا جو کارخانوں اور ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتی ہیں مگر حقائق سامنے لائے جانے کے باوجود اس باب میں احتیاطی تدابیر پر کام کی رفتار تاحال سست ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فوسل فیولز سے جنم لینے والی گرمی نے ز مین کا درجہ حرارت اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ ہر چیز پگھلنے کو ہے، زمین کا درجہ حرارت ہر صورت 1.5ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھنا ہوگا جس سے آگے بڑھنے کا مطلب ناقابل تصور تباہی ہے۔ وزیراعظم انوار الحق نے اس موقع پر خطاب میں وبائی امراض کے تدارک کے لئے موثر، مضبوط اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت اجاگر کی۔ ان کےخطاب میں جہاں کانفرنس کے مقاصد سمٹ آئے وہاں دنیا کو انسان کی صحت کے بارے میں ذمہ دارانہ اقدامات کی طرف متوجہ کیا گیا۔ ایسے وقت، کہ پاکستان صحت سے متعلق تکنیکی شعبے مضبوط بنانے کے اہم موڑ پر کھڑا ہے، توقع کی جانی چاہئے کہ یہ سَمٹ نہ صرف ہمارے انفرادی صحت کے نظام کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی صحت کے تحفظ کے لئے بھی جدید بنیاد استوار کرے گا۔
شفقنااردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں