یوکرین امریکہ کے لیے روس کو کمزور کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اور اپنے یورپی اتحادیوں کو ان کی حد میں رکھتے ہوئے اطاعت گزاری پر مجبور کرنے کے لیے ایک آسان اور سستا ہتھیار ہے۔ یہ سب درجہ بندی کی ایک نئی شکل کے لیے بین الاقوامی جدوجہد کا حصہ ہے۔
بلاشبہ، یہ ایک عارضی رجحان ہے جب تک کہ طاقت کا ایک نیا توازن، جسے سب تسلیم کرتے ہیں، قائم نہیں ہو جاتا۔ اس مقام تک پہنچنے تک ہم مختلف ممالک کی خارجہ پالیسی کے تجربات دیکھیں گے۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی ریاستوں کی پوزیشن تیزی سے بڑی طاقتوں کی توجہ مبذول کر رہی ہے، جو ایک نئے توازن کی تشکیل کے لیے مذاکرات کر رہی ہیں۔ ہم ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں ایک چھوٹی ریاست سخت درجہ بندی کے نظام میں اس سے کہیں زیادہ مانگ سکتی ہے جتنا کہ اسے دیا گیا ہے۔
موجودہ بحران تمام شرکاء کی حکمت عملی کے معیار کا امتحان ہے: ہر کوئی اپنی ابتدائی سمجھ کے ساتھ اس میں داخل ہوتا ہے کہ دنیا کیسی نظر آتی ہے، یہ کیسے کام کرتی ہے اور تاریخ کہاں جا رہی ہے۔
امریکہ کا مخلصانہ خیال ہے کہ خارجہ پالیسی ملکی پالیسی کا حصہ ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ کی ہر بیرونی حکمت عملی اندرونی جدوجہد کا جزو ہے۔ بلاشبہ، امریکی خود پسندی اس کےقریب اور دور کے اتحادیوں کو بے چین کردیتی ہے اور حالات کی بڑھوتری میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم یوکرائن کے معاملے میں دیکھ سکتے ہیں کہ فی الحال یوکرائنی معاملات میں واشنگٹن کی مداخلت کو کم کرنے کے لیے کوئی معروضی حالات نظر نہیں آتے۔امریکہ کا فنڈنگ معطل کرنے کا موجودہ فیصلہ تکنیکی نوعیت کا ہے: زیادہ تر امکان ہے کہ، امریکہ یوکرین کو ضروری فنڈز کسی دوسرے ذریعے سے منتقل کرنے کا راستہ تلاش کر لے گا۔
امریکہ مغربی یورپیوں کی طرف سے سٹریٹجک خود مختاری کے لیے کسی بھی تحریک کو ختم کر رہا ہے اور براعظم کے اس طرف سے وسائل کاٹ رہا ہے۔ امریکیوں نے روس پر فوری فتح کے لیبل کے ساتھ یوکرین تنازعے کو کو یورپیوں پر "بیچ” دیا، جس سے وسائل کی بڑی مقدار تک آسان رسائی اور خود کو مالا مال کرنے کا موقع ملے گا۔ جوں جوں تنازعہ آگے بڑھ رہا ہے، امریکیوں اور مغربی یورپیوں دونوں کے لیے فوائد میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ وہ وسائل جنہیں بعد میں اپنی ترقی کے لیے استعمال کرنے خواب دیکھے گئے تھے، اب یا تو توانائی کے وسائل کی خریداری،اور وہ بھی مہنگی قیمتوں پر، یا یوکرین کو ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ ہمیں امریکی حکمت عملی میں کوئی نئی چیز نظر نہیں آئے گی، اور چونکہ روسی بجٹ کے نئے مسودے میں اگلے تین سالوں کے لیے فوجی حالات کو برقرار رکھنے کو فرض کیا گیا ہے، اس لیے اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ امریکی اپنی حکمت عملی ترک کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
ایک اور مشاہدہ ہے: کہ امریکی کبھی بھی گرتے ہوئے اثاثے کو "اپنے پاس” نہیں رکھتے۔ سرمایہ کاروں کے طور پر، وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے ڈالرز کو کسی اور چیز میں تیزی سے ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ کسی وقت انہیں یہ احساس ہو جائے کہ یوکرین ایک ایسا اثاثہ ہے جس پر ان کے لیے مسلسل پیسہ خرچ ہو رہا ہے لیکن اس کی قیمت میں اضافہ بند ہو چکا ہے۔
امریکیوں کو دنیا کے کسی اور حصے میں ہنگامی صورت حال کے ذریعے یوکرین سے اپنی حمایت واپس لینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، جس سے وہ اپنی کوششیں وہاں مرکوز کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ تائیوان یا مغربی نصف کرہ میں اچانک بحران ذہن میں آتا ہے۔
یوکرین کے لیے فنڈنگ کی معطلی اس صورت میں نہ ہوتی اگر کیف ایک اچھی سرمایہ کاری کے آثار دکھاتا، اور اگر میڈیا میں امریکیوں کی طرف سے "فتح یافتہ یوکرین” اور "برباد روس” کی تصویر حقیقت ہوتی۔ یوکرین اور مغرب کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ فریب خوردہ خیالات کی مسلسل پیداوار حقیقت کی حمایت نہیں کرتی۔ اس سے اثاثے کو "قابو میں ” کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
فتح سے وابستہ مثبت تصاویر تو یہ دکھاتی ہیں کہ منافع خوب ہو گا، اور پھر دوسری خبریں آتی ہیں: ایک تعطل کا شکارجوابی حملہ ، بدعنوانی کے اسکینڈلز، صدر ولادیمیر زیلنسکی کی اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کے مختلف حربے، نازی ساتھیوں کے ساتھ اسکینڈلز جس میں وہ براہ راست ملوث ہیں۔ کینیڈا کی پارلیمنٹ میں دوسری جنگ عظیم کے ایک Waffen SS (نازی جرمنی پیرا ملٹری فورس کی حربی برانچ)مجرم کو اعزاز دینے کا چونکا دینے والا واقعہ ایک بڑے مسئلے کی علامت ہے۔
تاہم، کچھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں: پہلی بار، امریکی یوکرینیوں کو درست کر رہے ہیں جب وہ اپنی اشتعال انگیزی کی ذمہ داری روس پر منتقل کرنے کی کوشش میں، جس میں انفارمیشن اشتعال انگیزی بھی شامل ہے۔ کوستانتی نووکا میں شہری تنصیبات پر میزائل حملے، جو کہ ایک عجیب و غریب حالات کے باعث سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کے دورہ کیف کے ساتھ موافق وقت پر کئے گئے ، یوکرین کے پروپیگنڈے نے "روسی جرم” قرار دیا تھا۔ واشنگٹن نے صفائی کے ساتھ کیف کی تصحیح کی ، بظاہر پہلی بار، یہ بتا کر کہ میزائل یوکرائنی تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے اختلافات پیدا ہوچکے ہیں کہ کسی وقت امریکہ اور یوکرین کے مفادات مختلف ہو سکتے ہیں۔ کیف میں اشرافیہ کو اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ "پلان بی” ان کے لیے کیسا نظر آئے گا، کیونکہ اس وقت وہ اپنے تمام انڈے ایک ٹوکری میں ڈال رہے ہیں اور اس طرح مذاکرات، پسپائی، یا کسی اور منظر نامے کا کوئی امکا ن بھی اپنے تجزیوں میں شامل نہیں کر رہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ یوکرائنی تنازع پر امریکی انتخابی مہم کا اثر ہو؟ اس پر ایک ایسے زاویے سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس بات سے بہت کم فرق پڑتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا ہے۔ سچ تو یہ ہے علاقائی بحرانوں پر امریکیوں کے ساتھ بات چیت بار بار بات ہوتی رہی ہے۔ شام کے تنازعے کو یاد کریں ، جب واشنگٹن کے ماہرین نے کہا تھا کہ اس سے روس کی ملکی سیاست پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے، کہ روسی عالم اسلام سے متصادم ہوں گے اور ترکی، ایران اور دیگر کے ساتھ اس کے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ یہ سب بے بنیاد قیاس آرائیاں تھیں۔ روس نے اپنے مفادات میں کام کیا اور آخر کار اپنے لیے بہترین تاثر حاصل کیا۔
یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ امریکہ تیزی سے مذموم ہوتا جا رہا ہے اور اب وہ بہت سے اصولوں پر عمل نہیں کرتا جن کی ترویج کا ڈھنڈورہ وہ خود پیٹتا رہا ہے۔
ہم اسے روسی عوامی شخصیات کے خلاف یوکرین کے دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں دیکھتے ہیں، جن کی واشنگٹن نے مذمت نہیں کی ہے۔ مثال کے طور پر، انسداد دہشت گردی کا مسئلہ ایک وقت میں ایسا تھا جس نے امریکیوں اور ماسکو کو متحد کیا تھا – 2000 کی دہائی کے اوائل میں،ان دونوں طاقتوں کے درمیان گہرے تعاون کے امکان کا بھی تجربہ کیا۔ لیکن اب یہ سب ختم ہو چکا ہے۔
سب سے پہلے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف روس بلکہ دیگر کئی ممالک کے ساتھ امریکی رابطے میں خلل پڑا ہے، حالانکہ یہ دلچسپی کا ایک بالکل اہم شعبہ ہے جس میں تعاون انتہائی ضروری ہے۔
دوسرا، امریکی اکثر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ان گروہوں کو استعمال کرتے ہیں جنہیں ترکی اور روس سمیت دنیا کے کئی ممالک میں دہشت گرد گروہوں کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ امریکی یوکرین کی مسلح افواج، اس کی حکومت اور سپیشل سروسزکے دہشت گردانہ اقدامات سے پوری طرح اندھے ہیں، جو کھلے عام شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہیں اور شہری آبادی کو ڈراتے ہیں۔ گویا وہ اس کے ساتھ ساتھ یوکرائنی سیاست میں نازی عناصر کے تمام مظاہر پر بھی آنکھیں بند کر رہے ہیں۔
روس اور دیگر بڑے ممالک کے ساتھ تعلقات میں امریکہ کے ساختی مسائل درج ذیل ہیں: واشنگٹن یہ تصور نہیں کر سکتا کہ انسانی وقار اور عزت نفس اس کے علاوہ کسی اور کے پاس ہو سکتی ہے اور دوسرے ممالک کے اپنے نقطہ ہائے نظر بھی ہیں۔ امریکی اپنی ملکی سیاست میں جس چیز پر اچھی طرح عمل کرتے ہیں، یعنی آزادی اظہار – وہ بین الاقوامی معاملات میں برداشت نہیں کر سکتے۔ ممالک کی خود مختار مساوات کا اصول ان کے لیے بہت مشکل ہے۔
شفقنا اردو
پیر، 5 فروری 2024
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں