جمعے کے روز، امریکہ نے شام اور عراق میں ان مقامات پر حملے کیے جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق عراق کے مزاحمتی گروپ سے ہے جوامریکی دعوے کے مطابق اس کے خلیجی ٹھکانوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ یہ فضائی حملے 28 جنوری کو اردن میں ایک فوجی اڈے پر مسلح گروپ اسلامک ریزسٹنس آف عراق (آئی آر آئی) کے حملے کے جواب میں کیے گئے تھے جس میں تین امریکی فوجی ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اسی دن جاری ہونے والے ایک بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ جوابی کارروائی آئی آر جی سی کے اہداف تک نہیں رکے گی۔ ہفتے کے روز، امریکی اور برطانوی افواج نے بحیرہ احمر میں بحری جہاز رانی میں خلل ڈالنے کی ان کی صلاحیت کو کم کرنے کی کوششوں کے بظاہر تسلسل میں یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ آنے والے دنوں میں مزید حملے بھی ہو سکتے ہیں لیکن واضح طور پر امریکہ ایران کو براہ راست نشانہ بنانے سے گریز کر رہا ہے جس پر وہ IRI کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگاتا ہےلیکن جس کے ثبوت پیش کرنے میں وہ اب تک ناکام رہاہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے لیے فوجی ردعمل سیاسی طور پر ناگزیر تھا۔ جیسا کہ عام طور پر انتخابی سال میں ہوتا ہے، کوئی بھی سنگین ملکی صورت حال یا بین الاقوامی واقعہ جس میں نام نہاد امریکی مفادات یا وقار شامل ہوتا ہے، موجودہ انتظامیہ کے لیے چاہے ریپبلکن ہو یا ڈیموکریٹک ،ایک اہم لمحہ بن جاتا ہے۔
نپی تلی انتقامی کارروائی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکی صدر گھریلو داخلی تاثر اور ووٹرز کے رویوں کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی کے ووٹرز میں ڈرامائی تبدیلیوں کے حوالے سے بہت زیادہ فکر مند ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے دباؤ
7 اکتوبر سے، اسرائیلی حکومت حماس کے حملے کو ایرانی جارحیت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 28 جنوری کو
اردن میں ہونے والے حملے کے بعد کانگریس کے بعض ریپبلکن ارکان کی طرف سے اس موقف کی بازگشت سنائی دی۔
ساؤتھ کیرولائنا کے سینیٹر لنڈسے گراہم نے خود ایران پر براہ راست امریکی حملے کے لیے احتجاج میں کوئی لفظ نہیں کہا۔ ان کے ریپبلکن ساتھی آرکنساس کے ٹام کاٹن اور ٹیکساس کے جان کارن نے ان کی کال کی حمایت کی۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ممکنہ ریپبلکن امیدوار ہیں، نے ایک الگ تھلگ موقف اختیار کیا اور اصرار کیا کہ اگر وہ انچارج ہوتے تو اردن پر حملہ نہ ہوتا۔
اسٹیبلشمنٹ ریپبلکنز جیسے گراہم، کارنین اور کاٹن شاید اب ووٹروں کی ان صفوں کے درمیان عمومی مزاج کی عکاسی نہیں کریں گے جو اب ٹرمپ کی ٹھوس بنیاد ہیں اور خارجہ پالیسی پر پارٹی کی پوزیشن کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ درحقیقت، "میک امریکہ گریٹ اگین” کا ہجوم بیرون ملک امریکی الجھنوں کو پھیلانے سے نفرت کرتا ہے اور یہ دیکھنے کو ترجیح دیتا ہے کہ مالی وسائل کو مقامی طور پر استعمال کیا جائے، مثال کے طور پر، جنوبی سرحد کو مضبوط کرنے اور تارکین وطن اور پناہ کے متلاشیوں کی آمد کو روکنے کے لیے۔
لیکن یہ صرف ٹرمپ کی سیاسی بنیاد کا ہی مرکزی نقطہ نہیں جو اس دشمنی میں اضافے کے موقف کے خلاف ہے، بلکہ امریکیوں کی اکثریت اپنے ملک کو جنگ میں گھسیٹنے کے بارے میں فکر مند ہے – ایک حالیہ سروے کے مطابق ،تقریباً 84 فیصدٹرمپ کی تنہائی پسندانہ بیان بازی کو قبول کرتے ہیں ۔
کانگریس میں ڈیموکریٹس نے، شاید بڑھتے ہوئے دباؤ کو محسوس کرنے کے نتیجے میں ، اردن کے حملے پر ایک مضبوط لیکن "متناسب” ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے ردِ عمل کا اظہار کیا، اس لیے ملیشیا کے اہداف پر نپے تلے حملے کے لیے لیکن براہ راست ایران کو نشانہ بنانے کی جرات کرنے سے گریز کیاگیا۔ اس طرح کا موقف نیویارک کے سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر اور میری لینڈ کے سینیٹرز بین کارڈن اور رہوڈ آئی لینڈ کے جیک ریڈ نے بیان کیا تھا۔
درحقیقت، اردن کے حملے پر بائیڈن انتظامیہ کے ردعمل نے ایران پر براہ راست حملہ کرنےکے موقف اور ڈیموکریٹس کے محدود ردعمل کے مطالبے کے مابین، ہوشیار ریپبلکنز کے مطالبات کے درمیان عملی طور پر درمیانہ راستہ اختیار کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق، اس کے حملوں میں ایران کی IRGC اور اس سے منسلک ملیشیا کے شام، عراق اور یمن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز – – نیز ان کی ڈرون اور انٹیلی جنس صلاحیتیں شامل تھیں جبکہ اس بے بنیاد الزام تراشی کا اور حملوں میں آئی آر جی سی کے ملو ث ہونے کا کوئی بھی ثبوت اب تک سامنے نہ لایا جاسکا۔
بائیڈن کی دوبارہ منتخب ہونے کی مہم پر اثر
امریکی خارجہ پالیسی کے فیصلے اور اقدامات شاذ و نادر ہی صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں، یہاں تک کہ کانگریس کے انتخابات پر اس سے بھی کم اثر ڈالتے ہیں۔ اس بار، تاہم، بائیڈن کے ایک یا دوسرا راستہ اختیار کرنے کا عمل، اس کے دوبارہ متنخب ہونے کے امکانات پیدا کر سکتا ہےیا اسے توڑ کے رکھ سکتاہے۔
اردن کے حملے پر اپنی انتظامیہ کے ردعمل میں، انہوں نے مشرق وسطیٰ میں تنازع کو وسیع کرنے میں اپنی اعلان کردہ عدم دلچسپی کو خطے میں اپنے اس اقدام سے ہم آہنگ کرنا پڑا کہ وہ محض امریکی فوجیوں کے خلاف جارحیت کا جواب دینے کی حد تک جارہے ہیں۔ لیکن اس نے جس ردعمل کا اظہار کیا وہ اس کے باوجود کشیدگی میں اضافہ تھا جو تنازعہ کو خوفناک حد تک وسیع کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
بائیڈن نے ، ممکنہ طور پر اپنی دوبارہ انتخابی مہم کی حکمت عملی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس ردعمل کا فیصلہ کیا ۔ یہ جانتے ہوئے کہ وہ بہت سے کٹر ریپبلکنز کے قائل ہونے کا امکان نہیں کہ وہ اپنے ووٹوں کو ممکنہ امیدوار ٹرمپ سے تبدیل کر کے دوسری طرف چلے جائیں۔ اس سے بائیڈن محض، نومبر میں زیادہ تر آزاد اور کچھ اعتدال پسند ریپبلکن کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ نیو ہیمپشائر پرائمری کے بعد کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بائیڈن اپنی مہم کی حمایت کے لیے ان دو گروپوں کے کچھ حصوں پر اعتماد کر سکتے ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ وہ ان کی حمایت حاصل کر تے ہوئے ، بائیڈن دوسروں کی حمایت کھو رہے ہوں۔ درحقیقت، اس کے لیے سب سے اہم مسئلہ اس کی اپنی ڈیموکریٹک پارٹی میں ہو سکتا ہے، جہاں جذبات واضح طور پر بدل رہے ہیں – آہستہ آہستہ لیکن قابل دید طور پر – بیرون ملک اور اسرائیل کے لیے فوجی کارروائی کے لیے روایتی حمایت سے ہٹ کر موقف سامنے آرہا ہے۔
عام طور پر نوجوان رائے دہندگان، جنھوں نے 2020 میں بائیڈن کی فتح کے لیے اہم کردار اداکیا اور نوجوان ڈیموکریٹس نے صدر کی ، خاص طور پر اسرائیل اور مشرق وسطیٰ سے متعلق انتخاپالیسی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ وہ یوکرین پر روسی جنگ اور غزہ پر اسرائیلی جنگ کے بارے میں متضاد موقف کی وجہ سے اس پر منافقت کا الزام لگاتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ صدر کی قسمت کا انحصار اس بات پر ہو سکتا ہے کہ نومبر میں مسلمان اور عرب امریکی انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں ۔ فی الحال، دونوں برادریوں کی حمایت مشکوک ہے کیونکہ بائیڈن غزہ میں جنگ بندی کے لیے ان کے مطالبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور اسرائیلی قتل عام کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے، جس میں 27,000 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
بائیڈن کو ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ وہ اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ، اس کے نسل پرستانہ نظام اور فلسطینی سرزمین پر اس کے قبضے سے خود کو اور اپنی انتظامیہ کو الگ کر دیں۔ درحقیقت، مشرق وسطیٰ میں امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نئےاور اخلاقی طور پر قابل دفاع پہلو کو شامل کئے کے بغیر ان کا دوبارہ انتخاب غیر یقینی ہے۔
شفقنا اردو
جمعتہ المبار، 9 فروری 2024
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں