نیب کے نئے ضوابط

یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
قومی احتساب بیورو کا قیا م ملک سے کرپشن کے خاتمے کی خاطر عمل میں لایا گیا تھا لیکن ربع صدی میں اس ادارے کو اس کے اصل مقصد کے بجائے بڑے پیمانے پر سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔ بالعموم اپنے انگریزی مخفف نیب کے نام سے پکارا جانے والا یہ ادارہ ایک منتخب آئینی اور جمہوری حکومت کے خلاف فوجی انقلاب کے بعد پہلے سے قائم احتساب سیل کی جگہ لینے کیلئے تشکیل دیا گیا تھا مگر روز اول سے اس کا بیشتر استعمال سیاسی مخالفین کی وفاداریاں تبدیل کرانے یا انہیں راستے سے ہٹانے اور دیوار سے لگانے کیلئے کیا جاتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے اصل مقصد میں اس کی کارگزاری کسی بھی طور قابل فخر نہیں رہی جبکہ اس کی پکڑ دھکڑ اور اس کے ہاتھوں تذلیل و تحقیر کا نشانہ بننے والوں میں حکومت وقت اور مقتدرعناصر کی نگاہ میں کھٹکنے والے سیاستداں، سرکاری افسر اور کاروباری افراد بڑی تعداد میں شامل رہے ۔
نیب ان میں سے اکثر کے خلاف عدالتوں میں اپنے الزامات ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا لیکن ناکردہ گناہوں کی پاداش میں اس کا شکار ہونے والوں کوقید وبند کی سختیاں اور میڈیا ٹرائل کی بنا پر رسوائی و بدنامی کا عذاب ضرور جھیلنا پڑا۔ ان اسباب کی بنا پر نیب کے ضوابط کار میں اصلاح کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی جارہی تھی اور یہ امر خوش آئند ہے کہ گزشتہ روز اس سمت میں عملی پیش رفت منظر عام پر آئی ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق نیب نے اپنے تمام دفاتر کیلئے نیا معیاری ضابطہ کار جاری کیا ہے تاکہ صرف اصل اور حقیقی شکایات ہی پر کارروائی کی جائے۔ اعتراف کیا گیا ہے غیر ضروری شکایات کی وجہ سے قیمتی وقت اور وسائل ضائع ہوتے اور بیورو کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نئے قواعد وضوابط میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ شکایات نمٹانے میں بے احتیاطی دور کرنے کیلئے درست سمت کا تعین ضروری ہے تاکہ معاشرے اور ریاست کے مختلف حلقوں میں پائے جانے والے خوف اور دباؤ کے حوالے سے بڑھتے تاثر کو دور کیا جا سکے۔
اس ضمن میں شکایات کے اندراج کے نظام اور عملی طریق کار کرنے کی پیچیدگیاں دور کرتے ہوئے ہے بدنیتی پر مبنی اور غیر سنجیدہ شکایات کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ نئے قواعد کے تحت ایسی شکایات کو قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے گا، ارکان پارلیمنٹ، سرکاری افسران اور تاجروں کی شکایات کے ازالے کیلئے ان کے بنیادی تحفظات دور کیا جائے گا اور نیب کی کارروائیوں میں زیادہ شفافیت اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جائے گا۔اس مقصد کیلئے طے کیا گیا ہے کہ گمنام شکایات پر غور نہیں کیا جائے گا، شکایت کی تصدیق کے عمل کے دوران متعلقہ افراد کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا، شکایت کی تصدیق اور تحقیقات کے مرحلے کے دوران زیر تفتیش افراد کو نیب کے احاطے میں ذاتی حیثیت میں طلب نہیں کیا جائے گا، تمام خط و کتابت اور معلومات کا اشتراک خصوصی طور پر بنائے گئے سہولت سیلوںکے ذریعے کیا جائے گا، تاجروں کیلئے بنائے گئے سہولت سیلوں میں ان کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
گریڈ بیس اور اوپر کے سرکاری افسروں کے خلاف شکایات کی تحقیق کیلئے چیئرمین نیب کی اجازت ضروری ہوگی ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں ، عدالتوں ،قومی اسمبلی، سینیٹ ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی،سرکاری محکموں، ریگولیٹری اداروں، آڈیٹر جنرل، بینکوں، انٹیلی جنس ایجنسیوں ، چیمبر آف کامرس، بزنس ہاؤسز اور کارپوریٹ اداروں، نیب کے مرکزی اور علاقائی سربراہوں کی طرف سے بھیجی گئی شکایات کو نئے ضوابط کے مطابق ترجیحی اہمیت دی جائے گی۔امید ہے کہ ان ضوابط پر پوری طرح عمل کیا جائے گا اوراس کے نتیجے میں نیب صاحبان اختیار کاانتقامی ہتھیار بنے رہنے کے بجائے ملک کو کرپشن سے نجات دلانے کا اپنا اصل ہدف حاصل کرسکے گا۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین