پہلی جنگ عظیم کا ری پلے، میکرون پھر”وہاں” جنگ چاہتا ہے/خیال میر

میکرون کے پاس اس قسم کے فوجی تصادم کی جستجو کی بہت اچھی وجوہات ہونی چاہئیں جو فرانس، یورپ اور دنیا کو جوہری دہانے پر کھڑا کر سکتی ہے۔ اس نے حال ہی میں ٹیلی ویژن کے دو صحافیوں کو ایلیسی پیلس میں مدعو کیا تاکہ وہ ان وجوہات کی وضاحت کریں۔ اپنے اشتعال انگیز مشورے سے پیچھے ہٹنے کے بجائے، اس نے اپنے سامعین کی بے یقینی پر  اصرار کرتے ہوئے اپنے موقف کو مزید دہرایا کہ "یورپ کی سلامتی اور فرانسیسیوں کی سلامتی وہاں خطرے میں ہے۔”
میکرون کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ "ہمیں روس کو جیتنے نہیں دینا چاہیے۔” اور اس کا کیا مطلب ہے؟ "ہم” کون ہے؟ فرانس، نیٹو، یورپ، میکرون کی حکومت یا تمام اخلاقی مہذب لوگ؟ وہ پوپ فرانسس پر بھروسہ نہیں کر سکتے، جنہوں نے حال ہی میں یوکرین سے "سفید پرچم بلند کرنے کی ہمت” کا مطالبہ کیا۔
اور "روس کو جیتنے نہیں دینا” کا کیا مطلب ہے؟ کیا فتح شدہ علاقے کو برقرار رکھنا اور یوکرین کی غیر جانبداری کو باقاعدہ بنانا روس کے لیے "جیت” سمجھا جائے گا؟ میکرون کے لہجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف روس کی فتح کو روکنا چاہتے ہیں بلکہ اس کو رسوا بھی کرنا چاہتے ہیں جس کے بارے میں  دو سال قبل اس نے خود اصرار کیا تھا کہ اس سے گریز کرنا چاہیے۔
جب فروری میں، 27 یورپی رہنماؤں کی موجودگی میں، اس نے سب سے پہلے یوکرین میں فوج بھیجنے کی تجویز پیش کی، میکرون نے شاید یہ فرض کر لیا ہو گا کہ کوئی بھی ان کی عظیم الشان بات کو سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ بدقسمتی سے، اس کے نیٹو اتحادیوں اور اندرون ملک ناقدین دونوں نے نوٹس لیا اور حد سے آگے بڑھنے پر اس کی مذمت کی۔
تنقید کو رفع کے لیے، میکرون نے چالاکی سے "اسٹرٹیجک ابہام” کی مشق کرنے کا اعتراف کیا۔ ابہام کے لیے میکرون کے ذوق پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، لیکن اگر ان کے پاس حکمت عملی کا کوئی حقیقی اشعور ہوتا تو وہ سمجھ جاتے کہ اسٹریٹجک سوچ کا نقطہ آغاز حقیقت سے ہونا چاہیے، نہ کہ فرانسیسی تصوراتی  بہادری کی چمکتی ہوئی بلندی  پر سرپٹ دوڑتے ہوئے  معجزانہ طور پرچیزوں کو بدلنے سےاس کا  آغاز کرنے سے۔ زیادہ تر ماہرین، حتیٰ کہ اس کی اپنی فوج میں بھی، اس بات پر قائل ہیں کہ یوکرین روس کو شکست نہیں دے سکتا۔
انٹرویو میں، میکرون نے اپنی متجسس سوچ کو مشروط  طریقے  یوں بیان کیا : "اگر حالات خراب ہوتے ہیں، تو ہمیں تیار رہنا چاہیے اور ہم تیار رہیں گے۔”
متعلقہ نوٹ
میکرون کے مشروط دعوے کو عجیب سمجھا جانا چاہیے، اس لیے کہ یوکرین میں جاری کھیل کی حالت کے بارے میں ہر جاننے والا یہ سمجھتا ہے کہ صورت حال پہلے سے ہی بگڑ رہی ہے، اور یہ قیاس کی بات نہیں بلکہ  سامنے کی  حقیقت ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ مونسیئر لی پریزیڈنٹ(میکرون کے لیے طنزیہ  الفاظ) کہتے ہیں کہ ہمیں اب عمل کرنا چاہیے۔ لیکن فرانس تنہا کام نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے اتحادیوں کو بزدلوں کا لیبل بھی لگایا ہے۔ شاید میکرون اپنے آپ کو اورلینز کی لڑائی سے پہلے نیٹو کے جین ڈی آرک کے کردار میں دیکھتا ہے، وہ بہادر چیمپئن جو اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھتا ہے تاکہ بادشاہ کی لڑکھڑاتی فوجوں میں ہمت پیدا ہو، اورانگریزوں کو مجبور کیا جائے –موجودہ معاملے میں روسیوں کو – بھاگنے پر ۔
ایسا کردار ادا کرنے کے لیے سنجیدہ ڈرامے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میکرون نے یوکرین کی جنگ کو "ہمارے یورپ اور فرانس کے لیے وجودی” ("existentielle pour notre Europe et pour la France) خطرےکے طور پر بیان کیا ہے۔ یہاں دلچسپ لفظ ہے "notre”۔ "ہمارے یورپ” سے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ کیا وہ یقین کرتا ہے کہ متعدد یورپ ہیں؟ کیا روس ایک مختلف یورپ ہے؟
زیادہ امکان ہے کہ، "ہمارا” لوگوں کے ایک طبقے یا یورپ کے اندر کسی نظریے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ میکرون نے کبھی بھی اپنے نظریے اور طبقے کو خفیہ نہیں رکھا جو ENA گریجویٹس، Rothschild بینکرز، hauts fonctionnaires (سینئر بیوروکریٹس) اور McKinsey کنسلٹنٹس پر مشتمل ہے۔ میکرون خود روتھ چائلڈ بینکر تھے۔ اس نے اپنی حکمرانی کی پالیسیوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے بدنام زمانہ میک کینسی کو اچھی طرح سے ادائیگی کی۔ بینکرز، کنسلٹنٹس اور نجی تھنک ٹینکس کا یورپ حقیقی یورپ ہے۔ اپنے کیریئر کے آغاز سے، میکرون اس کے اندر اور اس کے لئے تیار کیا گیا تھا. جس یورپ کو وہ "ہمارا یورپ” کہتے ہیں، اسے درحقیقت ایک وجودی خطرے کا سامنا ہے، عام لوگوں  کے یورپ کو نہیں۔
پیشہ ور افراد کے اس طبقے نے، جو بڑے پیمانے پر یورپ کی مختلف قوموں کے لوگوں کے ساتھ براہ راست رابطے سے دور رہتاہہے، کئی دہائیوں سے یورپی یونین پر حکومت اور اس کا انتظام کر رہا ہے۔ یہ بینکوں، ملٹی نیشنلز، کنسلٹنٹس، وکلاء اور سینئر بیوروکریٹس کی ایک فوج کا یورپ ہے جو آرام سے فیصلے کرتے ہیں اور ان اداروں کےحقیقی اور اچھی طرح سے محفوظ ماحول کے اندر رہ کرپیسہ خرچ کرتے ہیں جنہیں عوام کے سامنے کسی  قسم کی  جوابدہی کے بغیر  عوام کے اوپر کھڑا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اگرچہ متعدد جماعتوں اور تحریکوں کی طرف سے باقاعدگی سے چیلنج کیا جاتا ہے، خود مطمئن، مغرور ٹیکنو کریسی جو برسلز میں راج کرتی ہے اور اپنی سلامتی کے لیے امریکی زیرقیادت نیٹو پر انحصار کرتی ہے، وہ "موجودہ” یورپ ہے جسے میکرون اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
یورپ میں وہ لوگ جو اپنے محافظ نیٹو (امریکی فوجی-صنعتی کمپلیکس) کے ساتھ جڑے ہوئے مالی اور سیاسی مفادات کی غیر مرئی درجہ بندی کو چیلنج کرتے ہیں، وہ تین زمروں میں آتے ہیں: دائیں طرف قوم پرست پاپولسٹ، بائیں طرف سرمایہ داری مخالف جماعتیں اور بعض اوقات باوقار لیکن بڑے پیمانے پر پسماندہ دانشوروں اور آزاد مفکرین کی ایک وسیع رینج۔ ان میں نمایاں شخصیات ہیں جن کا سیاست سے تاریخی تعلق ہے لیکن اب وہ قائم شدہ جماعتوں سے منسلک نہیں ہیں، جیسے یونان کے سابق وزیر خزانہ یانس وروفاکیس اور فرانس کے سابق وزیر اعظم ڈومینیک ڈی ویلپین۔ وہ، اور یورپی کمیونٹی کے لوگ، مکمل نظریاتی تنوع میں، میکرون کے "نوٹر یورپ” کے علاوہ کسی اور چیز سے تعلق رکھتے ہیں۔
تاریخی نوٹ
فرانس نے سرد جنگ کے دوران اپنے حقیقی اثر و رسوخ کاوقت دیکھا۔ یہاں تک کہ دو مسابقتی سپر پاورز کے حوالے سے اپنی واضح کمزوری کے باوجود اس کے پاس کئی مواقع رہے ہیں ۔ 1966 میں، ڈی گال نے فرانس کو نیٹو کے مربوط فوجی کمان کے ڈھانچے سے الگ کر دیا۔ ڈی گال کا خیال تھا کہ فرانس کو نیٹو کے دیگر ارکان بالخصوص امریکہ کے فیصلوں کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔
اسی طرح، ان کی قیادت میں، فرانس نے ایٹمی ہتھیاروں کی جانچ اور تعیناتی سمیت اپنے جوہری ڈیٹرنٹ تیار کرنے پر اصرار کیا۔ فرانسیسی جوہری پروگرام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ فرانس دیگر ایٹمی طاقتوں پر انحصار کیے بغیر آزادانہ طور پر اپنا دفاع کر سکے۔
شاید اس سے بھی زیادہ نمایاں طور پر فروری 1965 میں، ڈی گال نے فرانس کے اپنے امریکی ڈالر کے ذخائر کی  جگہ  سونے کوسرکاری شرح مبادلہ پر تبدیل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ۔ جنرل نے ڈالر کو "بے حد سہولت یافتہ” کہنے کی جرات کی جس نے امریکہ کو دنیا کو ایک ایسی کرنسی کا یرغمال بنانے کی اجازت دی جس کا ہر ایک کے پاس ہونا ضروری تھا۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اس رقم کو پرنٹ کرنے کے لئے آزاد تھا جس سے اسے جنگیں کرنے اور خفیہ آپریشن کرنے کی سہولت دنیا بھر میں حاصل ہوگئی تھی۔
ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اس خیال پہ قائل  ہو گیا تھا کہ ایک منقسم یورپ ایک اچھی چیز ہے، چاہے اس کا مطلب سوویت یونین کو مشرق میں ڈور کھینچنے کی اجازت دینا ہو، ڈی گال نے ایک ایسے متحدہ یورپ کی وکالت کی جو اپنے مفادات پر زور دے سکے۔ اس نے یورپ کو "بحر اوقیانوس سے یورال تک” پھیلانے کی ہمت کی۔ اگرچہ امریکہ اور یورپ میں کچھ لوگوں نے جنرل کو ایک غیرت مند قوم پرست کے طور پر درجہ بندی کیا، لیکن اس کی سوچ مستقل طور پر علاقائی تھی۔ جیسا کہ صدر نکولس سرکوزی کے قریبی ساتھی ہنری گوائنو نے حال ہی میں تبصرہ کیا تھا، ڈی گال "فرانس کے لیے خودمختاری اور یورپ کے لیے آزادی چاہتے تھے۔
ڈی گال نے 1969 میں عہدہ چھوڑ دیا اور ایک سال بعد انتقال کر گئے۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ آج چھ دہائیوں بعد نیٹو کو یوکرین میں ہونے والے واقعات پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ سے نہ صرف اپنے وجود کو خطرات لاحق ہیں بلکہ غالب ڈالر بھی اپنے زبردست استحقاق کو کھوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ متعدد قوتیں اس کے تسلط کو کمزور کرنے کے لیے صف آراء ہیں۔
کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ دو موجودہ جنگیں – یوکرین اور غزہ میں – کیسے ختم ہوں گی یا آگے بڑھیں گی۔ لیکن ذہین ترین ذہن یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی "قواعد پر مبنی” اور ڈالر پر مبنی آرڈر نے اپنے وقار کا ایک اہم پیمانہ کھو دیا ہے۔ فرانس کی سیاست، بالکل امریکہ کی طرح، حیران کن عدم مطابقت کی سطح کو حاصل کر چکی ہے۔ فرانس کے لیے پیشین گوئی  یہ  کی  جارہی  ہے کہ ڈی گال کے ورثے کو دوبارہ محسوس کیا جائے گا۔ایک غیر متوقع کثیر قطبی دنیا ابھر رہی ہے اور فرانس اس میں حصہ ڈالنے کے لیےضروراپنا کردار ادا کرے گا لیکن میکرون کے ساتھ نہیں۔
شفقنا اردو
جمعتہ المبارک، 12 اپریل 2024
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین