غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد اسرائیلی قید خانوں میں فلسطینیوں کی حالت زار سے متعلق اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی پاسداری سے متعلق اسرائیل کی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے بہت بڑی تعداد میں مردوخواتین، بچوں، ڈاکٹروں، صحافیوں اور حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگوں کو قید کر رکھا ہے۔ ان میں سے بیشتر پر نہ تو کسی جرم کے ارتکاب کا الزام ہے اور نہ ہی ان کے خلاف اب تک کوئی قانونی کارروائی ہوئی ہے۔ ان قیدیوں کو جیلوں میں انتہائی برے حالات درپیش ہیں۔
قیدیوں سے بدسلوکی، ان پر تشدد اور انہیں جائز قانونی کارروائی کا حق نہ دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں ناصرف ناجائز طور سے حراست میں لیا گیا ہے بلکہ وہ دوران قید سزاؤں کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔
واٹر بورڈنگ کی سزا
ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ ان کے دفتر اور دیگر اداروں کو موصول ہونے والی شہادتوں کے مطابق قیدیوں کو دیگر کے علاوہ واٹر بورڈنگ جیسی سزا بھی دی جا رہی ہے اور ان پر کتے بھی چھوڑے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پامالی کے مترادف ہے۔
ان قیدیوں میں غزہ کے طبی عملے کے ارکان، مریضوں اور عام شہریوں کے علاوہ غزہ، مغربی کنارے اور اسرائیل سے گرفتار کیے جانے والے جنگجو بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اب تک کم از کم 53 قیدی اسرائیلی حراست میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
وولکر ترک کا کہنا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ان قیدیوں میں کون زندہ ہے اور کس کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ اسرائیل کی فوج قیدیوں کو ہتھکڑیاں لگا کر اور ان کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ کر لے جاتی ہے۔گرفتاری کے بعد کسی کو علم نہیں کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا بیتی اور وہ کس حال میں ہیں۔
اسرائیلی فوج کی بدسلوکی
اسرائیل کے طبی اہلکاروں اور اس صورتحال کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق غزہ سے گرفتار کیے گئے زخمی قیدیوں کو صحرائی حراستی مرکز کے فیلڈ ہسپتال میں رکھا گیا جہاں ان کی آنکھوں پر ہر وقت پٹی بندھی رہتی تھی، ان کے بازوؤں اور پاؤں کو بیڑیوں میں جکڑ کر بستروں کے ساتھ باندھا گیا تھا اور انہیں نالی کے ذریعے خوراک دی جاتی تھی۔
ایک سابق قیدی کے مطابق، صحرائے نقب میں واقع ایک اور حراستی مرکز میں اسے اپنے بیٹے کے سامنے متواتر مارا پیٹا گیا۔ خاص طور پر فوج کے زیرانتظام حراستی مراکز میں دوران قید بدسلوکی عام ہے۔
نیند سے محرومی اور بجلی کے جھٹکے
رپورٹ کے مطابق، قیدیوں کا کہنا ہےکہ انہیں پنجرے نما جگہوں پر طویل وقت تک برہنہ حالت میں رکھا گیا اور پہننے کے لیے صرف ڈائپر دیے گئے۔ انہوں نے طویل وقت تک آنکھوں پر پٹی بندھی رہنے، خوراک، نیند اور پانی سے محروم رکھے جانے، بطور سزا بجلی کے جھٹکے دیے جانے اور سگریٹ سے جلائے جانے جیسی بدسلوکی کے بارے میں بتایا ہے۔ بعض خواتین اور مرد قیدیوں نے دوران حراست جنسی زیادتی اور صنفی بنیاد پر تشدد کا انکشاف بھی کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے بہت سے قیدیوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کو حراستی مراکز تک رسائی نہیں دی گئی۔
وولکر ترک نے کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ تمام قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے اور انہیں ہر طرح کے تشدد سے تحفظ ملنا چاہیے۔
خواتین کی گرفتاریاں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ سے گرفتار کیے گئے لوگوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کے لیے کام کرنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو پناہ گاہوں میں تبدیل ہو جانے والے سکولوں، ہسپتالوں اور رہائشی عمارتوں پر یا فوجی چوکیوں کے قریب اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کسی علاقے سے نقل مکانی کر رہے تھے۔
ان قیدیوں میں زیادہ تعداد مردوں اور لڑکوں کی ہے تاہم الزائمر میں مبتلا 80 سال سے زیادہ عمر کی خاتون اور بظاہر کسی مسلح گروہ سے تعلق نہ رکھنے والی نوعمر لڑکیوں تک بہت سی خواتین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
انسانی ڈھال
اس رپورٹ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں قید رکھے گئے فلسطینی مردوں اور ‘انرا’ کے عملے کے بیانات بھی شامل ہیں جن کا دعویٰ ہےکہ اسرائیلی فوج نے انہیں اپنے سپاہیوں کے آگے سرنگوں اور عمارتوں میں داخل ہونے پر مجبور کیا۔
بہت سے سابقہ قیدیوں نے بتایا ہے کہ ان سے وکیل کی سہولت مہیا کیے بغیر تفتیش کی گئی اور اسرائیلی حکام غزہ کی سرنگوں اور حماس کی قید میں یرغمالیوں کے بارے میں سوالات کرتے رہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وہ رواں ماہ کے آغاز میں صحرائے نقب میں واقع حراستی مرکز میں فلسطینیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزام میں اپنے متعدد فوجی اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں۔
قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ
ہائی کمشنر نے غزہ میں یرغمال بنائے گئے تمام قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے جن کی تعداد 116 بتائی جاتی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان کے علاوہ مزید 42 قیدی حراست میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے قیدیوں کو خفیہ جگہوں پر اور طویل عرصہ تک قید تنہائی میں رکھنا تشدد کے مترادف ہو سکتا ہے۔
دفتر برائے انسانی حقوق نے یہ رپورٹ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اپنے دفتر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور لوگوں کے ساتھ بات چیت کی بنیاد پر مرتب کی ہے۔ اسرائیلی قید سے رہا ہونے والے فلسطینیوں کی چشم دید گواہی، انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی کی تنطیموں اور اسرائیلی و فلسطینی حکام کی فراہم کردہ معلومات کے علاوہ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیاسے بھی اس رپورٹ کی تیاری میں مدد ملی۔ یہ رپورٹ اسرائیلی اور فلسطینی حکام کو بھی دی گئی ہے۔
شفقنا اردو
جمعرات، 8 اگست 2024
نوٹ: شفقنا نے یہ رپورٹ یو این سے لی