امریکہ نے غزہ میں صہیونی ریاست کی جانب سے شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کے درمیان فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام میں بدنام زمانہ اسرائیلی فوجی یونٹ نیتزہ یہودا پر پابندی عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک پینل نے 1997 کی امریکی قانون سازی کے مطابق جسے لیہی قانون کے نام سے جانا جاتا ہے، کی بنیاد پر دائیں بازو کی آبادکاری کی تحریک ہل ٹاپ یوتھ کے زیر تسلط بٹالین پر پابندیوں کی سفارش کی تھی۔
یہ قانون ان غیر ملکی ریاستوں کو امریکی امداد اور فوجی امداد پر پابندی لگاتا ہے جن کے اداروں پر "انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں” کا الزام ثابت ہوتا ہے۔
لیکن سیکرٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن، ایک یہودی امریکی، جس کا ماننا ہے کہ "اسرائیل کے لیے سیکیورٹی امداد مقدس ہے”، نے نیتزہ یہودا کو شک کا فائدہ دینے کا فیصلہ کیا، اور ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ کس طرح واشنگٹن نے اسرائیل میں جاری قتل عام سے کنارہ کشی کرنے کے طریقے تلاش کیے ہیں۔
نیتزہ یہودا الٹرا آرتھوڈوکس یہودی گروپوں کے ارکان سے بھری ہوئی ہے، اور فلسطینیوں پر ان کے مظالم نے پینل کو اس یونٹ پر پابندی لگانے کے لیے غور کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے خلاف کارروائی میں امریکی ہچکچاہٹ کی ایک پوری تاریخ ہے۔
"ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکی سیاست دان معاشرے میں صہیونی اثر و رسوخ اور اسرائیل نواز قوتوں کی وجہ سے اسرائیل کے لیے حمایت کرتے آ رہے ہیں اور اس میں کوئی استثنا نہیں، چاہے وہ یہودی تنظیمیں ہوں یا غیر یہودی تنظیمیں، بشمول کانگریس کے اراکین، خاص طور پر ریپبلکن اور کٹر صہیونی ڈیموکریٹس،” ایک سرکردہ فلسطینی پروفیسر العریان کا کہنا ہے۔
استنبول میں ، صباحتین زیم میں سنٹر فار اسلام اینڈ گلوبل افیئرز کے ڈائریکٹر آرین کے مطابق، امریکی انتظامیہ کے اندر صہیونی اثر و رسوخ کی وجہ سے، بلنکن جیسے اعلیٰ بیوروکریٹس "ہر بار اپنی ہی حکومت کے خلاف اسرائیلی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں”۔
آرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی "آہن پوش” حمایت نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل کشی کی جنگ کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے، اور یہ امریکہ کو نہ صرف جاری جنگ کے دوران بلکہ تمام تنازعات کے دوران ہونے والے تمام مظالم میں "شریک” بناتا ہے۔
"بدقسمتی سے، ایسا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جو امریکہ کو اس طرح کی پیچیدہ پالیسیوں پر عمل کرنے، اس یونٹ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کے تشدد اور قتل و غارت گری میں مدد کرنے سے روک سکے۔” پروفیسر، نیتزہ یہودا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں بہت سے مظالم کرنے کے بعد اب غزہ میں کام کر رہی ہے۔
امریکی مداخلت نے اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کو بھی فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے آزاد کر دیا۔
"اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ [اسرائیلی فوج] کی ایک یونٹ پر پابندیاں لگا سکتا ہے – میں اپنی پوری طاقت سے اس کا مقابلہ کروں گا،” نیتن یاہو نے حال ہی میں یونٹ کی طرف سے بدسلوکی کے بڑھتے ہوئے ثبوتوں کے باوجود کہا تھا۔
امریکی دوغلا پن
بہت سے لوگوں کے لیے، بٹالین پر پابندی کے خلاف بلنکن کا فیصلہ حیران کن ہے۔
"محکمہ خارجہ نے کبھی بھی اسرائیلی یونٹ کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر آزادانہ فیصلہ نہیں کیا”، چارلس بلاہا، محکمہ خارجہ کے دفتر برائے سلامتی اور انسانی حقوق کے سابق ڈائریکٹر، نے ایک میڈیا رپورٹ میں کہا۔ بلاہا اسرائیل لیہی تصدیقی فورم کا سابق رکن بھی تھا۔
محکمہ خارجہ کے ایک اور سابق اہلکار نے بلاہا کی تشخیص سے اتفاق کیا۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چونکہ اسرائیلی فوج نے نیتزہ یہودا کی انسانی حقوق کی "خلاف ورزیوں کی” تلافی ” کی ہے لہذا، بلنکن نے اس پر پابندی منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اسرائیلی فوج نے اس گروپ کے تدارک کے لیے کس قسم کے اقدامات کیے ہیں۔ اسرائیلی اشاعت Haaretz کی ایک حالیہ رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی کس طرح فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں،جبکہ اس کے برعکس، یہ الزام تل ابیب نے حماس کے خلاف بارہا استعمال کیا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بلنکن کا فیصلہ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے ساتھ ان کی "خفیہ” بات چیت کے بعد آیا، جس نے مبینہ طور پر امریکی سفارت کار کو یقین دلایا کہ فوج اس کی خلاف ورزیوں پر بٹالین کے خلاف تعزیری کارروائی کرے گی۔ اسرائیلی فوج نے اس سے قبل انتہا پسند آباد کاروں کے زیر تسلط ایک اور متنازعہ یونٹ سفار حامدبر کی سرگرمیوں کو روک دیا تھا۔
تاہم، میڈیا کی ایک وسیع تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بٹالین کے سابق کمانڈروں کو کبھی بھی ان کے ماضی کے اعمال کی سزا نہیں دی گئی۔ اس کے بجائے، انہیں ترقی دی گئی جبکہ اس کے زیادہ تر فوجیوں کو کسی سنگین الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
مظالم پر انعام و اکرام
اسرائیلی بٹالین، الٹرا آرتھوڈوکس حریدی یہودیوں کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے 1999 میں تشکیل دی گئی تھی جنہوں نے طویل عرصے سے خواتین سپاہیوں کے ساتھ سیکولر ماحول میں فوج میں خدمات انجام دینے سے انکار کیا تھا، اس کا ایک بدنام ریکارڈ رہا ہے، جس کے ارکان کو متعدد بار کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔
نیتزہ یہودا، جس کا مطلب یہود کی فتح ہے، کفیر بریگیڈ کا حصہ ہے، جو اسرائیلی فوج کی سب سے بڑی انفنٹری بریگیڈ ہے۔
بریگیڈ کے نائب کمانڈر ماتی شیواچ ہیں، جنہوں نے اگست 2022 تک نیتزہ یہودا کی قیادت کی تھی۔ اس کے دور میں، 78 سالہ فلسطینی نژاد امریکی عمر اسد جنوری 2022 میں ا سکے فوجیوں کی حراست میں انتقال کر گئے۔
اسرائیلی فوج کی ایک تحقیقات نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسد کی موت نیتزہ یہودا کی "فوجیوں کی جانب سے اخلاقی ناکامی اور ناقص فیصلہ سازی” کی وجہ سے ہوئی، یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ بٹالین کے کمانڈر شیوچ کو کمانڈنگ کے عہدوں پر کام کرنے سے روک دے گا۔ تاہم، اس کے برعکس، انہیں سب سے بڑی انفنٹری بریگیڈ میں اہم کردار پر ترقی دے دی گئی۔
اسد کی موت میں شریک فوجیوں کو بھی کسی مجرمانہ الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اسرائیلی فوج کے ایک بیان کے مطابق، شیواچ اب غزہ میں جنگی مشن کے لیے فوجیوں کو تربیت دیتا ہے۔
‘اجتماعی سزا’ کاحربہ کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟
سوال یہ ہے کہ بٹالین کے ارکان، جو یہودیوں کی مقدس کتاب تورات کی ہدایات پر دوسرے یہودیوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے عمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، کیوں "اخلاقی ناکامی” کا شکار ہوئے، جیسا کہ اسرائیلی فوج کے تفتیش کاروں نے کہا؟
بٹالین کے سابق ارکان میں سے ایک، جس نے نیتزہ یہودا میں اپنے دور میں بہت زیادہ ظلم اور "فلسطینیوں کی اجتماعی سزا” کا مشاہدہ کیا، اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے۔
"ہم میں سے بہت سے لوگوں نے شاید عربوں، خاص طور پر فلسطینیوں کو، حقوق کے حامل فرد کے طور پر نہیں دیکھا – ٹھیک ہے، جیسے کہ وہ واقعی کچھ زمین پر قابض ہیں، اور انہیں یہاں سے نکالنے کی ضرورت ہے،” سابق فوجی نے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ کو بتایا۔ . انتقامی حملوں کے خدشے کے پیش نظر معاملہ سامنے لانے والے کے آگے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔
آرین کے مطابق، الٹرا آرتھوڈوکس یہودی، یہودیت کے انتہائی انتہا پسند گروہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ غیر یہودی (فلسطینیوں کی طرح) ان کے برابر نہیں ہیں۔
"بدقسمتی سے، ان کی تعلیمات، خواہ وہ مذہبی ہوں یا دوسری صورت میں، انتہائی انتہا پسندانہ ہیں جس میں وہ نام نہاد گوئم (یا گوئے/جینٹائل) کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے غیر یہودی، لوگوں کی طرح گویا وہ غیر انسان ہیں،” آرین کہتے ہیں۔ .
ان کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیلی یہودی غیر یہودیوں کے ساتھ بدسلوکی، قتل، تشدد اور عصمت دری کو جواز فراہم کرنے کے لیے کچھ مذہبی متن کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ جنگ کے تناظر میں، یہ تعلیمات اب اسرائیلی فوج کے یونٹوں جیسے نیتزہ یہودا کے طرز عمل میں زیادہ "متواتر” ہو گئی ہیں۔
شفقنا اردو
ہفتہ، 17 اگست 2024
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں