ڈی ڈبلیو رپورٹ/ بھارتی شہر سورت میں گزشتہ 16 مہینوں کے دوران ہیرے پالش کرنے والے کم از کم 63 مزدوروں کی خودکشیاں

روس اور یوکرین کی جنگ نے ہزاروں میل دور بھارتی شہر سورت میں خودکشیوں کے مسئلے کو جنم دے دیا ہے۔
مغربی ریاست گجرات کا شہرسورت بھارت میں ہیروں کی صنعت کا مرکز ہے، جہاں6 لاکھ سے زیادہ لوگ اس کام سے وابستہ ہیں، صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 80 فیصد ہیروں کو کاٹنے اور پالش کرنے کا کام سورت کے مزدور کرتے ہیں۔
سورت کی ہیروں کی صنعت کو پہلے ہی بہت سے مسائل کا سامنا تھا مثلاً افریقا میں سیلاب، مغرب سے مانگ میں کمی، چین کو برآمدات میں اتھل پتھل اور پھر اس دوران فروری 2022 میں یوکرین اور روس میں جنگ شروع ہوگئی۔
اس کے بعد روس کے خلاف مغربی پابندیوں کی ایک بڑی لہر آئی جس میں روسی ہیرے بھی شامل تھے اور سورت اچانک ایک گہرے مالی بحران سے دوچار ہوگیا۔
روس یوکرین جنگ، ہیروں کی صنعت اور سورت میں ہونیوالی خودکشیوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
مغربی ریاست گجرات کا شہرسورت بھارت میں ہیروں کی صنعت کا مرکز ہے— فوٹو: رائٹرز/ فائل
یوکرین کی جنگ سورت میں مالی بحران کا باعث کیسے بن رہی ہے؟
روس کے حملے نے یورپی یونین اور جی7  ممالک کو تیسرے ممالک کے ذریعے روسی ہیروں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے پر اکسایا جس سے بھارت کی ہیروں کی صنعت میں استعمال ہونے والے اہم خام مال تک رسائی کافی حد تک محدود ہو گئی۔
مارچ 2022 میں جب یہ پابندی نافذ ہوئی تو اس سے بھارت کی ہیروں سے ہونے والی آمدنی میں تقریباً ایک تہائی کمی ہوگئی۔
سورت میں گزشتہ 16 مہینوں کے دوران ہیرے پالش کرنے والے کم از کم 63 مزدوروں نے خودکشی کرلی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان لوگوں نے جو پیغامات چھوڑے ہیں ان میں اس انتہائی اقدام کے لیے مالی پریشانی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ان افراد کے علاوہ کئی ہزار دیگر لوگ بھی اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا انہیں تنخواہوں میں زبردست کٹوتیوں کا سامنا ہے۔
بھارت کے خام مال کی 30 فیصد سے زیادہ سپلائی روس کی الروسا کان سے ہوتی ہے۔
روس یوکرین جنگ، ہیروں کی صنعت اور سورت میں ہونیوالی خودکشیوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
سورت میں گزشتہ 16 مہینوں کے دوران ہیرے پالش کرنے والے کم از کم 63 مزدوروں نے خودکشی کرلی ہے— فوٹو: رائٹرز/ فائل
دنیش ناودیا جو کہ تجارت اور صنعت کی وزارت کے تحت تشکیل دی گئی جیم اینڈ جیولری ایکسپورٹ پروموشن کونسل (جی جے ای پی سی) کے علاقائی چیئرمین ہیں، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سابقہ کاروبار اب تک بحال نہیں ہو سکا ہے۔
سورت کے ہیروں کے تاجروں کی انجمن کے صدر جگدیش کھنٹ بھی ایسی ہی تاریک صورت حال کی بات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا  کہ ’روس اور یوکرین جنگ کی پہلی بمباری کے بعد سے ہمارے لیے حالات مسلسل اور مزید خراب ہوئے ہیں‘۔
ہیرے پالش کرنے والے مدد کے منتظر
گجرات ڈائمنڈ ورکرز یونین کے سربراہ رمیش زیلریا اپنے وقت کا کافی حصہ ایک سوسائیڈ ہیلپ لائن نمبر پر فون کالز کا جواب دینے میں صرف کرتے ہیں جو انہوں نے 15 جولائی کو شروع کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ’جب سے ہم نے اس کا نمبر شروع کیا ہے ہمیں مدد کے لیے 1600 سے زیادہ کالیں موصول ہوئی ہیں‘، ایسی ہی ایک فون کال انہیں اب بھی جھنجھوڑتی رہتی ہے۔
زیلریا نے کہا کہ وہ ایک ڈائمنڈ پالش کرنے والا مزدور تھا جو سڑک کے کنارے کھڑا تھا، یہ شخص چار ماہ سے بے روزگار تھا، گھر کا کرایہ یا اپنے بچے کی اسکول کی فیس بھی ادا نہیں کر سکتا تھا اور اس پر 5 لاکھ روپے قرض تھا، اس کے قرض دہندہ اسے مسلسل پریشان کررہے تھے۔
روس یوکرین جنگ، ہیروں کی صنعت اور سورت میں ہونیوالی خودکشیوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
مارچ 2022 میں پابندی نافذ ہوئی تو بھارت کی ہیروں سے ہونے والی آمدنی میں تقریباً ایک تہائی کمی ہوگئی—فوٹو: رائٹرز/ فائل
زیلریا نے بتایا کہ وہ شخص خودکشی کرنے جارہا تھا لیکن ان کے دفتر کے لوگوں نے اسے بچا لیا۔
زیلریا بتاتے ہیں،’وہ سارا دن ہمارے دفتر میں روتا رہا، آخر کار ہمیں اس کے خاندان کے لیے کرائے پر ایک مکان مل گیا، ہم نے پہلے مہینے کا کرایہ جمع کرایا، اس کے بچوں کے اسکول کی فیس ادا کی اور ہیروں کی صنعت سے باہر شوہر اور بیوی کے لیے ملازمتیں تلاش کیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ تاہم، ہر کسی کی مالی مدد نہیں کی جا سکتی، ہم باقی لوگوں کے لیے نوکریاں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ صرف ڈائمنڈ پالش کرنا جانتے ہیں‘۔
تنخواہوں میں کٹوتی
سورت کے ہیرے پالش کرنے والے 45 سالہ منوج کو بھی تین دہائیوں کے کام کے بعد مئی میں ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔
آخر کار انہیں ایک کورئیر کمپنی میں پارسل پہنچانے کی نوکری مل گئی، اس کی تنخواہ کم ہے اور آجر اسے ایندھن کے بل بھی ادا نہیں کر رہا ہے۔
6 افراد کے خاندان میں واحد کمانے والے منوج پر اب 2 ماہ کا مکان کا کرایہ بقایہ ہے، وہ اپنے بڑے بچے کی اسکول کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں ہے اور اپنی بیوی کا منگل سوتر (شادی شدہ ہندو خواتین کے لیے مقدس ہار)، بالیاں اور سونے کی ایک انگوٹھی گروی رکھوا چکا ہے۔
روس یوکرین جنگ، ہیروں کی صنعت اور سورت میں ہونیوالی خودکشیوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
6 مہینوں میں کم از کم 50 ہزار پالش کرنے والے اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں— فوٹو: راٹرز/ فائل
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ’میں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہم کس طرح اپنا گزارہ کر رہے ہیں‘۔
حکومت اور نہ ہی ڈائمنڈ ورکرز یونین کے پاس اس بارے میں مکمل اعداد وشمار ہیں کہ کتنے لوگوں نے اپنی ملازمتیں کھوئی ہیں، کیونکہ ہیروں کی صنعت میں بھی بہت سے دوسری صنعتوں کی طرح بڑے پیمانے پر لوگ غیر رسمی طور پر کام کرتے ہیں۔
یونین کے اندازے کے مطابق پچھلے 6 مہینوں میں کم از کم 50 ہزار  پالش کرنے والے اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں جب کہ پچھلے 18 مہینوں میں یہ تعداد لاکھوں میں پہنچتی ہے۔
وہ خوش قسمت ہیں جن کے پاس ابھی بھی ملازمت ہے لیکن انہیں تنخواہوں میں شدید کٹوتیوں کا سامنا ہے۔
دنیش ناودیا کا کہنا تھا کہ ’وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے پاس کچھ کام ہو لیکن تنخواہوں میں 30 سے 40 فیصد کی کٹوتی ہوگئی ہے،  جو شخص 40 ہزار روپے کما رہا تھا وہ اب صرف 23 ہزار ماہانہ کما رہا ہے‘۔
منگل، 27 اگست 2024
نوٹ: شفقنا نے یہ رپورٹ ڈی ڈبلیو سے لی
Share This Article

تازه ترین

پاکستان میں کرپشن اور اس کا حل