ایسا بہت کم ہوتا ہے جب ایک حادثہ ایک بڑے سیاحتی مقام کی شکل اختیار کرلے۔
مگر ایسا 5 دہائیوں سے زائد عرصے قبل ترکمانستان میں اس وقت ہوا جب سوویت یونین کے ماہرین کی ایک ٹیم قدرتی گیس کی کھوج کر رہی تھی یا کم از کم ایسا سمجھا جاتا ہے۔
وہاں ہونے والے ایک حادثے کے نتیجے میں دروازہ نامی گیس کا کنواں بنا۔
یہ ایک بہت بڑا آگ کے شعلوں سے بھرا سوراخ ہے جو بتدریج ترکمانستان کی سیاحت کرنے والوں کا سب سے پسندیدہ مقام بن گیا۔
اسے ‘جہنم کا دروازہ’ اور ‘قراقرم کی چمک’ کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔
اس گڑھے کی تہہ اور دیواروں سے خارج ہونے والی گیس اس آگ کو دہائیوں کو روشن رکھے ہوئے ہے اور اس کے قریب جانے پر بہت زیادہ حرارت محسوس ہوتی ہے۔
اس کا نظارہ رات کو زیادہ ڈرامائی اور دنگ کر دینے والا ہوتا ہے۔
قراقرم صحرا میں واقع اس گڑھے کو ترکمانستان کا اہم ترین سیاحتی مقام کی حیثیت حاصل ہے۔
آغاز میں جب وہاں سیاحوں نے جانا شروع کیا تو کسی قسم کی سہولیات دستیاب نہیں تھیں اور انہیں ایک رات رہنے کے لیے سب کچھ خود ساتھ لے جانا ہوتا تھا۔
مگر اب وہاں ایسے 3 کیمپس موجود ہیں جہاں کے خیموں میں رات کو قیام کیا جاسکتا ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیا بھی مل جاتی ہیں جبکہ معذور افراد کے لیے گڑھے تک لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ بھی دستیاب ہے۔

یہ گڑھا 70 میٹر چوڑا اور 30 میٹر گہرا ہے جبکہ 2018 میں اس کے اردگرد حفاظتی باڑ لگائی گئی تھی تاکہ سیاح دہکتی آگ کے بہت زیادہ قریب نہ جاسکیں۔
مگر ‘جہنم کا دروازہ’ شاید بہت زیادہ عرصے تک موجود نہیں رہے گا کم از کم بھڑکتی آگ کی شکل میں تو نہیں۔
ترکمانستان کی حکومت متعدد بار وہاں موجود گیس کو بچانے کے لیے مختلف منصوبوں پر غور کرچکی ہے، مگر فی الحال اس حوالے سے ابھی کوئی کام نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب برسوں سے اس جگہ پر آنے والوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب یہاں کے شعلے کافی چھوٹے ہوچکے ہیں۔
ایک مقامی گائیڈ کے مطابق وہ 40 برسوں سے یہاں آ رہا ہے اور گزشتہ 7 برسوں کے دوران آگ کے شعلوں کی شدت میں مسلسل کمی آئی ہے۔
پراسرار ماخذ
