جب مغربی اور یوکرائنی دہشت گردوں نے واضح ریاستی حمایت کے ساتھ – (ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ کس نے اور کس طرح درست طریقے سے) ستمبر 2022 میں نارڈ اسٹریم I اور II بالٹک سی پائپ لائنوں کو تباہ کیا، تو انہوں نے ایک غیر معمولی مقدار میں آب و ہوا کی قاتل گیس میتھین ہمارے ماحول میں پھیلا کے ماحولیاتی تباہی کا سامان کیا۔ دوسرے لفظوں میں، انہوں نے بڑے پیمانے پر ماحول کو بدبو کا جہنم بنا دیا۔ لیکن اس کا فوری اثر اس حملے کے بعد سچائی چھپانے کی سیاست سے پیدا ہونے والی بوسیدہ بدبو کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
ہم یورپی اور جرمن ردعمل کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ کتنا غیر منطقی رہا ہے۔ عام طور پر، کسی جرم کے متاثرین اسے چھپانے کی کوشش نہیں کرتے۔ اور پھر بھی، توانائی کے اہم انفراسٹرکچر پر خوفناک حملے کے اہداف ہونے کے باوجود، مجموعی طور پر EU اور خاص طور پر برلن دونوں نے تحقیقات میں تاخیر کرنے اور حملے کو مبہم اور غیر اہم قرار دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے، جبکہ انہوں نےاس کے تمام مجرموں کو تلاش کرنے یا ان کا نام لینے سے گریز کیا ہے۔
درحقیقت، سویڈن اور ڈنمارک دونوں ، جو تخریب کاری سے براہ راست متاثر ہوئے، تحقیقات کی کسی بھی کوشش کو آسانی سے اور فوری طور پر ترک کر دیا۔ نیٹو، یقیناً، اگر وہ اپنے اصولوں پر عمل کرتا، تو آسمان اور زمین کو الٹ پلٹ کر دیتا اور پھر، قائم شدہ اصولوں کے مطابق، اپنے اراکان کے مفادات پر حملے کے پیچھے جارح ریاست پر بمباری کرتا۔
اس کے بجائے، روس پر الزام تراشی کے ابتدائی مرحلے کے بعد جو اس قدر مضحکہ خیز تھا کہ یہ مغرب میں بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا تھا، خواپنے لیے ضرر رساں جھوٹ بولنے کی اس عظیم مشق کی حکمت عملی، اب اصل سچائی کو پوار بیان کرنے کے بجائے اس کے ایک چھوٹے سے حصےکو بیان کرنے کی طرف منتقل ہو گئی ہے تاکہ ایک بڑےاور موٹے جھوٹ کو تقویت دی جاسکے۔اس عمل میں شامل خوبصورت اتحاد، جس میں، جرمن استغاثہ، وال سٹریٹ جرنل، اور جرمنی کی سب مین اسٹریم میڈیا آؤٹ لیٹ شامل ہیں، ایک احمقانہ نیا بیانیہ مسلط کرنے کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں: "یہ سب یوکرین کا کیا دھراہے”۔ یہ دیکھنا آسان ہے کہ یہ کیف کی پراکسی حکومت کو بس کے نیچے پھینکنے کا ایک خاص طور پر مذموم معاملہ ہے، کیونکہ یہ میدان جنگ کی اپنی جغرافیائی سیاسی تاریخ میں اپنے منطقی انجام تک پہنچ رہی ہے۔
یہ سچ ہے کہ نیا بیانیہ، جیسا کہ یہ منحوس ہے، جرمنی اور پولینڈ کے درمیان ایک گندےعوامی جھگڑے کا سبب بننے کے لیے کافی رہا ہے۔ طویل تاریخی پس منظر اور واشنگٹن کے نئے پسندیدہ ملک کے طور پر وارسا کے حالیہ عروج کے نتیجے میں نیٹو کے دو ارکان واقعی ایک دوسرے کا مقابلہ نہیں کر سکتے، جبکہ برلن کا موقف، پہلے ہی سے اس کی کھلی تابعداری کی وجہ سےعام سطح سےگرا ہوا ہے۔
اب تک، مغربی پوشیدہ بازی کی حکمت عملی اور صریح جھوٹ اس قدر واضح ہے کہ ابھرتی ہوئی بائیں بازو کی قدامت پسند بی ایس ڈبلیو پارٹی کی رہنما، سارا واگن کنچ نے پارلیمانی کمیٹی برائے انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، ایک مسئلہ ایسا ہے جس پرجس قدر توجہ دینے کی ضرورت ہے اس سے کہیں کم توجہ دی جارہی ہے: اس سب میں مغربی میڈیا کا کیا کردار رہا ہے؟ کیا انہیں خود کو مثالی بنا کر پیش کرنے والی، "قدر” پر فخر کرنے والی مغربی لبرل جمہوریتوں میں "چوتھی اسٹیٹ” نہیں بنانا چاہیے تھا؟
جب حکومتیں اور ریاستیں، ان کے دفاتر اور ایجنسیاں سازشوں کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو کیا یہ میڈیا ہی نہیں تھا جس پر واٹر گیٹ طرز کی بدعنوانی کو بے نقاب کرکے اور اس میں ملوث سیاستدانوں کو سامنے لا کے جمہوریت کو بچانے والا قرار دیا گیا تھا؟ خاص طور پر، جب سرکاری اہلکار اپنے ملکوں کی بجائے غیر ملکی طاقتوں کی خدمت کرتے ہیں – چاہے وہ امریکہ بذریعہ یوکرین ہو یا براست امریکہ – کیا میڈیا کو یہ نہیں بتانا چاہئے کہ غداری کو تشکیل دینے کی کیا قیمت ہے؟
اور پھر بھی، Nord Stream حملے اور اس کے جاری نتائج نے بالکل مختلف چیز کو بے نقاب کیا ہے، پہلی بار نہیں بلکہ واضح طور پر: جب واقعی سنجیدہ مسائل کی بات آتی ہے، خاص طور پر جغرافیائی سیاست کی تو مرکزی دھارے کا میڈیا اب مغربی اشرافیہ کی تحقیقات کا مطالبہ نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں تنقید کا نشانہ بناتا یا بے نقاب کرتا ہے۔ . اس کے بجائے، وہ جھوٹ اور خلفشار پھیلانے میں ان کی مدد کرتے ہیں، جبکہ جغرافیائی سیاسی مخالفین پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے خلاف جنگ کے لیے مغربی ممالک کی آبادی کو متحرک کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ مختصراً، مغربی میڈیا اب مغربی ہتھیاروں میں صرف ایک اور ہتھیار کے طور پر برتاؤ کر رہا ہے، جو درحقیقت اپنی ہائبرڈ جنگ کے ایک حصے کے طور پر معلوماتی جنگ کی ایک شاخ بنا رہا ہے۔
پریس کے اس عمومی رویے کے معا ملے میں ہمارے سامنے بہت کم مستثنیات ہیں۔ ایک قابل ذکر مضمون میں، جرمنی کے برلنر زیتونگ نے نورڈ اسٹریم کے حوالے سے مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر اور پریس میں انکی رپورٹنگ میں متعدد تفصیلات کوئی نئی بات نہیں بتاتیں۔ لیکن یہ ان کے رویے کا سب سے عجیب پہلو بھی نہیں ہے۔ خاص طور پر عجیب بات یہ ہے کہ وہ خود ان تضادات اور تناقضات کو سامنے نہیں لاتے جو سرکاری بیانیے میں شامل ہیں، اس کے بجائے، وہ کسی بھی تنقیدی رویے کے بغیر سرکاری بیانیے کو دوبارہ پیش کر رہے ہیں۔
روس کو اب بھی مضحکہ خیز طور پر مشتبہ قرار دیا جا رہا ہے اور امریکی صحافی سیمور ہرش کی اہم تحقیقاتی رپورٹنگ کو سازشی تھیوری قرار دے کر تکبر سے مسترد کیا جا رہا ہے۔ اس توہین کی وجہ دیکھنے سے صاف نظر آجاتی ہے: ہرش نے اس بارے میں ایک قابل فہم مفروضہ پیش کیا ہے کہ کس طرح واشنگٹن نے جرمنی کی پائپ لائنوں پر حملے میں حصہ لیا۔ اگرچہ ہرش اس کی تفصیلات کے بارے میں صحیح یا غلط ہو سکتا ہےتاہم امریکہ کے اس مجرمانہ کاروائی میں شامل ہونے کا کوئی بھی نظریہ اس احمقانہ الزام سے زیادہ قابل فہم ہےیہ یوکرین نے اکیلا یہ کام سرانجام دیا ہے۔
ہم کئی مثالیں دے سکتے ہیں، لیکن تنقید کا خلاصہ جو برلنر زیتونگ( Berliner Zeitung) نے غیر معمولی طور پر پیش کیا ہے، واضح ہے: جرمن مرکزی دھارے کا میڈیا – اور وہ مغرب میں بہت سے دوسرے لوگوں کے لیے مثال رکھتے ہیں، بس سرکاری بیانیے کو آگے بڑھاتےہیں، اسے تقویت دیتے ہیں اور خوشگوار انداز میں اس کی نقش و نگاری کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے فقرے، تاثرات اور اصطلاحات کو مخصص طریقے سے مروڑ کر پیش کرنے کا عمل بھی، دفاتر اور عہدیداروں کے غیرپیشہ ورانہ اور غیر صحتمندانہ رویے ےکی نشاندہی کرنے کے بجائے انہیں درست ثابت کرنے کا دھوکہ دیتا ہے حالانکہ پریس کو ان سے تنقیدی سوالات کرنے چاہئیں۔
ان سب کی – عین گھٹیا مغربی سیاست کی طرح – ایک قیمت ہے۔ ایک حیقت یہ بہر حال ہے کہ مرکزی دھارے کے صحافی جو خود کو معلوماتی جنگجو بنا لیتے ہیں، ان کے مقاصد خواہ کچھ بھی ہوں،اس طرح کی حرکتیں، ان کی اپنی ساکھ کو گرانے میں زبردست حصہ ڈالتی ہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن پھر بھی یہ بتانا ضروری ہے کہ حال ہی میں کیے گئے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً نصف جرمن (48%) اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے اپنے مرکزی دھارے کے میڈیا پر اعتماد نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ جرمنی میں، جوایک تقریباً زبردستی اسرائیل نواز ملک ہے،کی تقریباً ایک تہائی (31%) جواب دہندگان کا خیال ہے کہ قومی میڈیا اسرائیل کے حق میں ہے۔ صرف 5% فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ سب کچھ یورپ اور پورے مغرب سے باہر کیسا لگتا ہے؟ مثال کے طور پر ممتاز اور بااثر ہندوستانی نیوز ویب سائٹ فرسٹ پوسٹ کو ہی لے لیں۔ اس نے سوال اٹھایا ہے کہ کیف اگر تنہا نہیں تو بھی قصوروار ہےجو بظاہر یقینی طورپر ہے تو،کیا مغرب یوکرین کو جوابدہ ٹھہرائے گا؟
دنیا کے بیشتر ممالک میں مغرب کے سیاست دان اپنی بچی کھچی ساکھ کھوتے جارہے ہیں۔ مغرب کا مین اسٹریم میڈیا بھی اس سے مختلف ثابت نہیں ہوگا۔
شفقنا اردو
پیر، 2 ستمبر 2024
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں