نظریہ ضرورت کا احیا/محمد بلال غوری

یہ تحریر جنگ نیوز میں شائع ہوئی
مقننہ کس طرح کی آئینی اصلاحات لانے کا سوچ رہی ہے، یہ کالم شائع ہونے تک شاید صورتحال واضح ہوچکی ہو مگر آج میں اس ممکنہ قانون سازی کی راہ میں روڑے اٹکانے سے متعلق کئے گئے اقدامات کے حوالے سے رہنمائی کا خواستگار ہوں۔ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کا کوئی بنچ کسی مقدمے میں اتفاق رائے سے فیصلہ سنانے کے بجائے اکثریت کی بنیاد پر احکامات صادر کرتا ہے تو اسے محض ان ججوں کا نہیں بلکہ پورے بنچ کا فیصلہ تصور کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے 13رُکنی بنچ میں سے 8جج صاحبان نے یہ فیصلہ دیا کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے اور پھر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونیوالے ارکان اسمبلی کا تعلق دراصل تحریک انصاف سے ہے اور آئینی موشگافیوں سے قطع نظر انہیں پی ٹی آئی میں شمار کیا جائے۔
اس فیصلے پر اعتراضات اپنی جگہ مگر جب بھی حوالہ دیا جائیگا تو اسے 13رُکنی بنچ کا فیصلہ ہی سمجھا جائیگا۔ اسی طرح جب عدالت میں کوئی درخواست دائر ہوتی ہے تو اسے سماعت کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، بنچ تشکیل دیا جاتا ہے۔ ہائیکورٹ میں طریقہ کار مختلف ہے مگر سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت چیف جسٹس اور دو سینئر جج صاحبان پر مشتمل کمیٹی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس درخواست کو کب، کتنے اور کون کون سے جج صاحبان سنیں گے۔
اگر پہلے سے زیر سماعت مقدمہ سے متعلق کوئی نئی درخواست ہو تو وہ اسی بنچ کے سامنے ہی پیش کی جاتی ہے۔سپریم کورٹ نے 12جولائی 2024ء کو جو فیصلہ صادر فرمایا، اس پر حکومت نے نظرثانی درخواست دائر کی جسے سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا گیا کیونکہ بعض جج صاحبان چھٹیوں پر جانا چاہ رہے تھے اور یہ اعتراض بھی تھا کہ ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا موقف تھا کہ تفصیلی فیصلہ تحریر کرنا تو ہماری ذمہ داری ہے اسکی وجہ سے درخواست گزاروں کی حق تلفی نہیں کی جاسکتی اور پھر مختصر حکم نامے میں فیصلے پر عملدرآمد کیلئے جس مدت کا تعین کیا گیا ہے، اسکے گزر جانے کے بعد تو یہ نظرثانی درخواستیں غیر موثر ہو جائینگی۔ دیگر دو جج صاحبان نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور اب تعطیلات ختم ہونے کے بعد بھی ریویو پٹیشن سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوسکی۔
اس دوران الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دی کہ مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر ابہام ہے اسے دور کیا جائے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ 39ارکان قومی اسمبلی جنہوں نے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت پارٹی سے وابستگی کا سرٹیفکیٹ جمع کروایا تھا، انہیں تو فوری طور پر تحریک انصاف کا امیدوار ظاہر کیا جائے جبکہ باقی 41ارکان قومی اسمبلی کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ 15دن میں فیصلہ کرسکیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے کہا گیا کہ یہ سب لوگ تو پہلے ہی فیصلہ کرچکے ہیں اور سنی اتحاد کونسل کا حصہ ہیں۔
چونکہ انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیئے جانیکی وجہ سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کردی تھی تو اسکا مطلب ہے کہ فی الوقت پی ٹی آئی کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے، کوئی چیئرمین نہیں ہے۔ اس پر سپریم کورٹ کے 8معزز جج صاحبان نے 14ستمبر 2024ء کو4 صفحات پر مشتمل جو وضاحت جاری کی ہے اسے کیا سمجھا جائے؟ کیا یہ کوئی پریس ریلیز ہے؟ کیونکہ اس درخواست کو نمبر نہیں لگا، یہ سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئی۔ اگر چیمبر میں بھی سماعت کی گئی تو اسکا باقاعدہ طریقہ کار ہے، کمیٹی یہ معاملہ 13رُکنی بنچ کو بھجواتی، فریقین کو نوٹس جاری کئے جاتے اور پھر کارروائی کا تحریری فیصلہ جاری کیا جاتا۔ کیا جج صاحبان اس قانونی طریقہ کار سے انحراف کرتے ہوئے اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناسکتے ہیں؟
کیا سپریم کورٹ کے اپنے بنائے گئے رولز میں کسی فیصلے کی تحریری وضاحت کی کوئی گنجائش موجود ہے؟ اگر کسی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو متاثرہ فریق متفرق درخواست دائر کرسکتا ہے، توہین عدالت کی درخواست دی جاسکتی ہے اور اس پر بنچ تشکیل دیکر سماعت کی جاسکتی ہے لیکن کیا فیصلہ دینے والے جج صاحبان لٹھ لیکر خود اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کی دھمکی دے سکتے ہیں اور وہ بھی ایک آئینی ادارے کو؟ ویسے تکلف برطرف، جب فیصلوں اور احکامات کی وضاحتیں دینا پڑیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔
اب آتے ہیں وضاحتی نوٹ کے اس نکتے کی طرف جو سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ بیرسٹر گوہر کو پی ٹی آئی کا چیئرمین تسلیم کرنے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے معزز جج صاحبان نے لکھا ہے ’’بظاہر یوں لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے De facto doctrine of ruleکو فراموش کردیا ہے‘‘۔ اور پھر اسکی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مسند، منصب یا عہدے پر براجمان ہو تو قطع نظر اس بات کے کہ وہ اسکا جائز اور قانونی حقدار ہے یا نہیں، اسے بربنائے عہدہ وہ تمام حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔ یہ وہی نظریہ ضرورت اور بھونڈی دلیل ہے جسکے تحت ایوب خان سے پرویز مشرف تک ہر ڈکٹیٹر کے غیرآئینی اقدام کو عدلیہ نے جائز قرار دیا اور ان فیصلوں پر کئی بار شرمندگی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ کل اگر کوئی ڈکٹیٹر منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر عنان اقتدار پر قبضہ کرلے، آئین کو روند ڈالے تو اس نظریہ ضرورت کے تحت اسے وہ تمام حقوق حاصل ہو جائینگے جو آئینی و قانونی طریقے سے برسراقتدار آنیوالے حکمران کو حاصل ہوتے ہیں۔ میں اسے مزید آسان کردیتا ہوں، فی الحال تو یہ بحث ہو رہی ہے کہ چیف جسٹس کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے،5 سینئر موسٹ ججوں میں سے کسی کو بھی چیف جسٹس بنایا جاسکے اور اس پر بہت مزاحمت کی جارہی ہے لیکن اپنے وضاحتی نوٹ میں 8معزز جج صاحبان نے جو استدلال اختیار کیا ہے اسکی رو سے وفاقی وزیر عطااللہ تارڑ صاحب اسلام آباد پولیس کے کمانڈوز کو ساتھ لیکر سپریم کورٹ میں چلے جائیں ،تقرری کے نوٹیفکیشن کے بغیر چیف جسٹس کا منصب سنبھال لیں تو de facto doctrine of rule کے تحت انہیں وہ سب اختیارات اور حقوق حاصل ہونگے جو کسی بھی چیف جسٹس کیلئے مخصوص ہوتے ہیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین