کیا دنیا فلسطین کو امریکی -اسرائیلی نسل کشی سے بچا سکتی ہے؟ سلیم اختر

شفقنا اردو: آج، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک قرارداد پر بحث اور ووٹنگ کرنے والی ہے جس میں اسرائیل سے چھ ماہ کے اندر "مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اپنی غیر قانونی موجودگی” ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ جنرل اسمبلی، خصوصی 15 رکنی سلامتی کونسل کے برعکس، اقوام متحدہ کے تمام اراکین کو ووٹ دینے کی اجازت دیتی ہے اور اس میں کوئی ویٹو نہیں ہے، یہ عالمی برادری کے لیے غزہ ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر اسرائیل کے وحشیانہ قبضے کے خلاف واضح طور پر اپنی مخالفت کا اظہار کرنے کا ایک موقع ہے۔
اگر اسرائیل، جیسا کہ پیشین گوئی کی جاتی ہے، جنرل اسمبلی کی اس قرارداد پر عمل کرنے میں ناکام رہتا ہے جس میں اس سے فلسطین سے اپنی قابض افواج اور آباد کاروں کو نکالنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو امریکہ پھر، آئی سی جے کے اس فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹوکرتاہے یا ویٹو کرنے کی دھمکی دیتا ہے جس کی بنیاد یہ قراردادیں پیش کی جارہی ہیں، توپھر جنرل اسمبلی ایک قدم آگے بڑھ سکتی ہے۔
یہ ایک ہنگامی اجلاس بلاسکتی ہے جسے یونائٹنگ فار پیس ریزولوشن(امن قرارداد کے لیے اتحاد کرنا) کہا جاتا ہے، جس میں اسرائیل کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی، اقتصادی بائیکاٹ یا اقوام متحدہ کی دیگر پابندیوں کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے – یا یہاں تک کہ امریکہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ 1950 میں پہلی بار اس طریقہ کارکو اپنانے کے بعد سے جنرل اسمبلی نے صرف پانچ بار امن کے لیے قراردادیں منظور کی ہیں۔
آئی سی جے کا اسرائیل کے خلاف فیصلہ
18ستمبر کو ہونے والا ووٹ 19 جولائی کو بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کے ایک تاریخی فیصلے کے جواب میں آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ "مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیاں، اور ان سے وابستہ حکومت جس نے انہیںقائم کیا اور ان کو برقرار رکھا، ان کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا جاتاہے۔”عدالت نے فیصلہ دیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں میں "موجودہ بستیوں سے تمام آباد کاروں کا انخلاء” اور ان تمام لوگوں کو معاوضہ کی ادائیگی شامل ہے جنہیں اس کے غیر قانونی قبضے سے نقصان پہنچا ہے۔ اراکین کی ایک بڑی اکثریت کی طرف سے جنرل اسمبلی کی قرارداد کی منظوری یہ ظاہر کرے گی کہ دنیا بھر کے ممالک ICJ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں، اور یہ یقینی بنانے کی جانب ایک چھوٹا لیکن اہم پہلا قدم ہوگا کہ اسرائیل کو ان ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے عدالتی فیصلے کو اس دعوے کے ساتھ مسترد کر دیا کہ "یہودی قوم اپنی سرزمین پر ایک قابض قرار نہیں دی جا سکتی۔” یہ وہی موقف ہے جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ اسرائیل کے 1967 کے فوجی حملے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر قبضے نے اسے یہ حق نہیں دیا کہ وہ وہاں اپنے لوگوں کو آباد کرے، ان علاقوں کو الحاق کرے یا انہیں اسرائیل کا حصہ بنائے۔
تشدد صرف غزہ تک محدود نہیں ہے
جہاں اسرائیل نے 7 اکتوبر کے واقعات کو غزہ میں فلسطینیوں کے اجتماعی قتل عام کا اعلان کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا، وہیں اسے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی افواج نے اسے، غیرقانونی آباد کاروں میں اسالٹ رائفلز اور اور ملٹری گریڈ دیگر کی تقسیم کے بہانے کے طور پربھی استعمال کیا، جس سے تشدد کی ایک نئی لہر نے جنم لیا۔مسلح آباد کاروں نے فوری طور پر مزید فلسطینی اراضی پر قبضہ کر کے فلسطینیوں کو گولی مارنا شروع کر دیا۔ اسرائیلی قابض فوج یا تو ساتھ کھڑی رہی اور دیکھتی رہی یا تشدد میں شامل ہوئی، لیکن فلسطینیوں کے دفاع کے لیے مداخلت نہیں کی اور نہ ہی اسرائیلی حملہ آوروں کو جوابدہ ٹھہرایا۔
گزشتہ اکتوبر سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں قابض افواج اور مسلح آباد کاروں نے 159 بچوں سمیت کم از کم 700 افراد کو ہلاک کیا ہے۔ تشدد اور زمینوں پر قبضے میں اضافہ اس قدر نمایاں رہا ہے کہ یہاں تک کہ امریکی اور یورپی حکومتوں نے بھی متشدد آباد کاروں کی ایک چھوٹی سی تعداد پر اور ان کی تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کی ذمہ داری محسوس کی ہے۔غزہ میں اسرائیلی فوج گزشتہ 11 ماہ سے آئے دن فلسطینیوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے غزہ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 41,000 سے زیادہ بتائی ہے، لیکن ہسپتالوں کی تباہی کے ساتھ جن پر وہ مرنے والوں کی شناخت اور گنتی کے لیے انحصار کرتی ہے، اس کا ریکارڈ نامکمل ہے۔ طبی محققین کا اندازہ ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں کے بالواسطہ اور بالواسطہ نتائج سے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد لاکھوں میں ہو گی، چاہے یہ قتل عام جلد ہی ختم ہو جائے۔
روایتی اتحادی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ بلاشبہ اس نسل کشی میں اپنے کردار کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ الگ تھلگ ہو گئے ہیں۔ آیا امریکہ اب بھی اپنے چند روایتی اتحادیوں کو 18 ستمبر کو جنرل اسمبلی کی قرارداد کو مسترد کرنے یا اس سے باز رہنے پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں، یہ اس کی بقایا "نرم طاقت” کا امتحان ہوگا۔امریکی صدر جو بائیڈن ایک خاص قسم کی بین الاقوامی قیادت کو استعمال کرنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں، لیکن یہ ایسی قیادت نہیں ہے جس پر کوئی بھی امریکی فخر کر سکے۔ امریکہ نے قطر اور مصر کی طرف سے شروع ہونے والے جنگ بندی کے مذاکرات میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، اور اس نے اس پوزیشن کو بار بار جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی یا نسل کشی کے خاتمے کے کسی بھی موقع کو دبا دینے کے لیےبار بار اورمہارت سے استعمال کیا ہے۔
اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنا کوئی خاطر خواہ فائدہ اٹھانے میں ناکام ہو کر اور مذاکرات میں ہر ناکامی کا الزام حماس پر لگا کر، امریکی حکام اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ جب تک وہ اور ان کے اسرائیلی اتحادی چاہیں گے نسل کشی جاری رہے گی، جب کہ بہت سے امریکی اس بارے میں ابہام کا شکار ہیں۔ مسلسل خونریزی کی ذمہ داری ان کی اپنی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔یہ اس حکمت عملی کا تسلسل ہے جس کے ذریعے امریکہ نے، اپنے آپ کو مبالغہ آمیزی سے ایک ایماندار دلال ظاہر کرتے ہئوے ، 1967 سے امن کو روکا اور ، ، جبکہ وہ حقیقت میں اسرائیل کا سب سے مضبوط اتحادی اور آزاد فلسطین کی راہ میں اہم سفارتی رکاوٹ ہے۔
غزہ کے مستقبل کے لیے مختلف منصوبے
جنگ بندی کے کسی بھی موقع کو مذموم طریقے سے کمزور کرنے کے علاوہ، امریکہ نے خود کو غزہ کے مستقبل کے بارے میں بحث و مباحثے میں شامل کر لیا ہے، اور اس خیال کو فروغ دیا ہے کہ جنگ کے بعد کی حکومت فتح کی قیادت والی فلسطینی اتھارٹی کے زیر قیادت ہو سکتی ہے، جسے بہت سے فلسطینی ، ناامیدی کے ساتھ، بدعنوان اور اسرائیل اور امریکہ کی تابعدارسمجھتے ہیں۔
چین نے فلسطینی سیاسی گروہوں کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کے لیے زیادہ تعمیری انداز اپنایا ہے۔ اس نے حماس، الفتح اور 12 دیگر فلسطینی گروپوں کو جولائی میں بیجنگ میں ہونے والی تین روزہ میٹنگ میں مدعو کیا، جہاں ان سب نے جنگ کے بعد کی ایک "عبوری قومی مفاہمتی حکومت” کی تشکیل کے لیے "قومی اتحاد” کے منصوبے پر اتفاق کیا، جو امداد اور تعمیر نو کی نگرانی کرے گی، اور اس کے علاوہ نئی منتخب حکومت کو جگہ دینے کے لیے قومی فلسطینی انتخابات کا انعقاد کرے گی۔
‘فلسطینی قومی پہل کاری’ (Palestinian National Initiative) نامی سیاسی تحریک کے سیکرٹری جنرل مصطفیٰ برغوتی نے بیجنگ اعلامیے کو پچھلی مصالحتی کوششوں کے مقابلے میں "بہت آگے” کے قدم کے طور پر سراہا اور کہا کہ متحدہ حکومت کا منصوبہ "۔ فلسطینی مفادات کے لیے قائم ، باہمی تعاون کا ڈھانچہ، کسی بھی قسم کی اسرائیلی کوششوں کو روک سکتا ہے ۔ چین نے جنگ کے خاتمے کی کوشش کے لیے بین الاقوامی امن کانفرنس کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ اپنے جمود سے باہر نکل سکتا ہے
جیسا کہ دنیا 18 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں اکٹھی ہو رہی ہے، اسے ایک سنگین چیلنج اور ایک بے مثال موقع دونوں کا سامنا ہے۔ حالیہ برسوں میں جب بھی جنرل اسمبلی کی میٹنگ ہوئی ہے، گلوبل ساؤتھ کے رہنماؤں نےیکے بعد دیگرے اس پرامن اور منصفانہ بین الاقوامی نظم کے ٹوٹنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس کی نمائندگی اقوام متحدہ کو کرنا ہے، یوکرین میں جنگ کو ختم کرنے میں ناکامی سے لے کر آب و ہوا کے بحران کے خلاف بے عملی اورافریقہ میں نوآبادیاتی نظام کو برقرار رکھنے تک۔1967 میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے 57 سالہ قبضے سے زیادہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی نظام کی ناکامی کا شاید کوئی بھی اس قدر واضح بحران نہ ہو۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بے شمار قراردادیں ہیں جن میں یا تو اسرائیل سے بین الاقوامی قانون کی تعمیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، قبضے کے خاتمے یا پھر فلسطینی ریاست کےقیام لیے کہا گیا ہے، یا جنگی جرائم یا غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے لیے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرایا گیا ہے۔
سلامتی کونسل کے ایک مستقل رکن کی بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور باقی دنیا کی آزادیٰ رائے کو روکنے کے لیے اپنا ویٹو استعمال کرنے کی صلاحیت کو ہمیشہ سے اقوام متحدہ کے نظام کے موجودہ ڈھانچے میں مہلک خامی کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ جب اس ڈھانچے کا پہلی بار 1945 میں اعلان کیا گیا تھا، فرانسیسی مصنف البرٹ کاموس نے مزاحمتی اخبار ‘کامبیٹ’ میں لکھا تھا، فرانسیسی ، کہ ویٹو "بین الاقوامی جمہوریت کے کسی بھی نظریے کو مؤثر طریقے سے ختم کر دے گا… پانچوں کو اس طرح پینترے بازی کی آزادی ہمیشہ کے لیے برقرار رہے گی۔ جو دوسروں کو کبھی میسر نہیں آئے گی۔
جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی متعدد قراردادوں پر بحث کی ہے، اور ہر بحث نے امریکہ، اسرائیل اور کبھی کبھار برطانیہ یا امریکہ کے دوسرے اتحادی کو باقی دنیا کی آوازوں کے خلاف کھڑا ہوتے ہوئے دیکھاہے۔
امریکہ غزہ کے راستے میں منفرد انداز میں کھڑا ہے۔اقوام متحدہ کے 193 ممالک میں سے 145 نے اب فلسطین کو غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر مشتمل ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کیا ہے، اور اس سے بھی زیادہ ممالک نے قبضے کے خاتمے، اسرائیلی بستیوں پر پابندی اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور انسانی حقوق کی حمایت کے لیے قراردادوں کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ . کئی دہائیوں سے، اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کا امریکہ کا منفرد موقف اسرائیلی جنگی جرائم کو فعال کرنے اور فلسطینی عوام کی ناقابل برداشت حالت زار کو طول دینے میں ایک اہم عنصر رہا ہے۔
غزہ کے بحران میں، اسرائیل کے ساتھ اس کا فوجی اتحاد نسل کشی کے جرم میں امریکہ کو براہ راست ملوث کرتا ہے، کیونکہ وہ ایسے جنگی طیارے اور بم مہیا کرتا ہے جو فلسطینیوں کی سب سے بڑی تعداد کو ہلاک کر رہے ہیں اور غزہ کو عملی طور پر تباہ کر رہے ہیں۔ امریکہ اپنے آپریشنز کی منصوبہ بندی میں اسرائیل کی مدد کرنے کے لیے فوجی رابطہ افسران، انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن فراہم کرنے کے لیے خصوصی آپریشنز فورسز، اور اسرائیلی افواج کو نئے امریکی ہتھیاروں، جیسے F-35 جنگی طیاروں کا استعمال اور دیکھ بھال کرنا سکھانے کے لیے ٹرینرز اور ٹیکنیشنز کو بھی تعینات کرتا ہے۔
نسل کشی کے امریکی ہتھیاروں کے لیے سپلائی چین، ہتھیاروں کی فیکٹریوں سے لے کر فوجی اڈوں تک، پینٹاگون اور ٹمپا میں سنٹرل کمانڈ کے پروکیورمنٹ دفاتر تک، کئی راستوں سے گزرتی ہے۔ یہ اسرائیل کے فوجی اڈوں پر اڑان بھرنے والے مسلح طیاروں میں لو ڈ کی جاتی ہے،جہاں سے یہ کئی ٹن وزنی سٹیل اور ھماکہ خیز مواد غزہ پر برستا ہے تاکہ عمارتوں، گوشت اور ہڈیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔
امریکی کردار ملوث ہونے سے بڑھ کرہے – یہ فعال شرکت ہے، جس کے بغیر اسرائیلی اس نسل کشی کو اس کی موجودہ شکل میں انجام نہیں دے سکتے تھے۔ اور یہ اس نسل کشی میں امریکہ کے ضروری کردار کی وجہ سے ہی ہے کہ امریکہ کے پاس اس نسل کشی کو ختم کرنے کی طاقت ہے، نہ کہ اسے اسرائیلیوں سے شہری ہلاکتوں کے بارے میں زیادہ "محتاط” رہنے کی التجا کرنے کے ذریعے اسے ختم کرنا چاہئے ، بلکہ اس نسل کشی میں اپنا آلہ کار کردار ختم کرکےوہ ایسا کرسکتاہے۔
ہر باضمیر امریکی کو اپنی حکومت پر ہر قسم کا دباؤ ڈالنا چاہیے، لیکن جب تک وہ اپنے ہی لوگوں کی مرضی کو نظر انداز کرتا رہے گا، مزید ہتھیار بھیجتا رہے گا، سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ویٹو کرے گا اور امن مذاکرات کو نقصان پہنچاتا رہے گا، یہ طے شدہ طور پر، ا دنیا بھر میں س کے اتحادیوں پر منحصر ہےکہ نسل کشی کے خاتمے کے لیے اتحاد اور سیاسی عزم کو مجتمع کریں۔
فلسطین کو بچانے کے لیے اسرائیل اور امریکا کی مخالفت میں متحد ہونا یقیناً دنیا کے لیے بے مثال ہوگا۔ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے دنیا شاذ و نادر ہی اتنی متفقہ طور پر اکٹھی ہوئی ہے۔
یہاں تک کہ عراق پر امریکی برطانوی حملے اور تباہی بھی اس طرح کے متحدہ اقدام کو ابھارنے میں ناکام رہی تھی۔ لیکن اس بحران کا سبق، درحقیقت ہمارے عہد کا سبق، یہ ہے کہ اس قسم کا اتحاد ضروری ہے اگر ہم کبھی بھی اپنی دنیا میں عقل، انسانیت اور امن لانا چاہتے ہیں۔ اس کا آغاز ،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فیصلہ کن ووٹ سے ہو سکتا ہے۔

شفقنا اردو

جمعتہ المبارک، 20 ستمبر 2024

نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share This Article

تازه ترین