اسرائیلی حملوں سے ثابت ہوتا ہے وہ ملک نہیں ایک دہشت گرد تنظیم ہے: طیب اردوان

شفقنا اردو: صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اسرائیل ایک بار پھر ایک ریاست کی طرح نہیں بلکہ ایک دہشت گرد تنظیم کی طرح حملے کر رہا ہے۔
صدر ایردوان نے اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ روانگی سے قبل استنبول اتاترک ہوائی اڈے پر ایک پریس کانفرنس کی۔
صدر ایردوان نے کہا، ” کہ میں (اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی) میں مذاکرات کے پہلے دن یعنی منگل 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ میں خاص طور پر ان مشترکہ اقدامات پر بات کروں گا جو غزہ میں نسل کشی اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں کے خلاف اٹھائے جا سکنے والے اقدامات پر رابطے کروں گا اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی فنانس میکانزم سمیت خصوصاً م عالمی انتظامیہ میکانزم میں اصلاحات کی ضرورت پر توجہ مبذول کراوں گا۔
انہوں نے بتایا کہ نیتن یاہو اور اس کا نیٹ ورک اپنے بنیاد پرست صہیونی نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر قسم کی اشتعال انگیزیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ لبنان پر حالیہ حملوں نے جنگ کو خطے میں پھیلانے کے اسرائیلی حکومت کے منصوبوں کے بارے میں ہمارے خدشات کو درست قرار دیا ہے۔ اسرائیل ایک ریاست کی طرح نہیں بلکہ ایک دہشت گرد تنظیم کی طرح حملے کر رہا ہے۔”
ایردوان نے کہا، "درحقیقت، خطہ اس وقت ایک ناقابل بیان حد تک بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ اس حملے سے اسرائیل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے پاس کوئی شہری حساسیت نہیں ہے اور وہ اپنے نفرت انگیز اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی طریقہ آزما سکتا ہے۔”
ایردوان نے کہا کہ عالمی برادری بالخصوص مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے ان قاتلانہ اقدامات کا دور سے نظارہ کرنے کے بجائے ان کے روک تھام کے اقدامات اٹھائیں۔
ترکیہ اور شام کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے ایردوان نے کہا:”ہم نے بشار الاسد سے ملاقات کے لیے اپنے ارادے کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب ہم دوسری طرف سے جواب کے منتظر ہیں۔”
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی مناسبت سے امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے حوالے سے رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "وہاں نہ صرف بائیڈن بلکہ بہت سے عالمی رہنما موجود ہوں گے۔ فی الوقت بائیڈن کے ساتھ ملاقات ہوگی یا نہیں یہ بات یقینی نہیں، "ہم فلسطینی سرزمین خصوصاً غزہ میں ہونے والے خونریزی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ میں ان تمام رہنماؤں سے بات کریں گے۔ عالمی صیہونیت کے اس وقت مشرق وسطیٰ میں پیدا کردہ طوفان کے برخلاف بطور ترکیہ ہم کیا کچھ کرسکتے ہیں ، ہم اس پر جدوجہد کریں گے۔”
Share This Article

تازه ترین

کشمیر میں لوٹس اسٹیم کی کٹائی